چوری شدہ نوادرات تلاش کرنے والے ’فیس بک جاسوس‘ | معاشرہ | DW | 03.01.2017
  1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

معاشرہ

چوری شدہ نوادرات تلاش کرنے والے ’فیس بک جاسوس‘

دن کے وقت ارویند وینکٹ رامن چنئی شہر میں ایک سافٹ ویئر انجینئر کے طور پر کام کرتا ہے لیکن اپنے فارغ وقت میں وہ فیس بک پر ’جاسوسی‘ کرتا ہے تاکہ ملک کے چوری شدہ نوادرات تلاش کیے جا سکیں۔

ارویند وینکٹ رامن بھارت کے اس گروپ کا حصہ ہے جسے عام طور پر  انڈیا پرائڈ پراجیکٹ  (آئی پی پی) کے طور پر جانا جاتا ہے۔ اس گروپ کا مقصد سوشل میڈیا کو استعمال کرتے ہوئے ان چوری شدہ نوادرات اور مجسموں کو تلاش کرنا ہے، جو مندروں وغیرہ سے چوری کیے جا چکے ہیں۔ یہ گروپ ان چوری شدہ مذہبی مسجموں کی بحفاظت واپسی کے لیے بھی کام کرتا ہے۔

آرٹ یا مجسموں کی چوری بھارت میں ایک وسیع کاروبار ہے لیکن اس حوالے سے سب سے زیادہ چوریاں ریاست تامل ناڈو میں ہوتی ہیں، جہاں صدیوں پرانے مجسمے اور مذہبی نوادرات دیہی مندروں میں بہت حد تک غیر محفوظ پڑے ہیں۔

دو برس پہلے آئی پی پی نے آسٹریلیا کی نیشنل آرٹ گیلری میں شیوا کا مجسمہ تلاش کیا تھا۔ کانسی کے اس مجسمے کی قیمت پانچ ملین ڈالر ہے اور اسے تامل ناڈو کے ہی ایک مندر سے چوری کیا گیا تھا۔ آسٹریلیا کی آرٹ گیلری نے پہلے تو کہا کہ انہوں نے یہ مجمسمہ مین ہٹن ڈیلرشپ سے خریدا ہے اور اس نظریے کو مسترد کیا کہ یہ چوری شدہ ہے۔ اس کے خلاف آئی پی پی نے ایک سوشل میڈیا مہم شروع کر دی کہ یہ آرٹ گیلری ایک چوری شدہ مجسمے کی نمائش جاری رکھے ہوئے ہے۔ آئی پی پی نے ایسی کئی تصاویر بھی شائع کیں، جو اس مجسمے سے انتہائی مشابہت رکھتی تھیں۔

ارویند وینکٹ رامن کا نیوز ایجنسی اے ایف پی سے گفتگو کرتے ہوئے کہنا تھا، ’’پہلی مرتبہ روایتی طور پر انکار کیا جاتا ہے کہ یہ چوری شدہ نہیں ہے۔ آسٹریلیا ہو، یورپ ہو، سینگاپور ہو یا امریکا، پہلا جواب ہمیں یہی موصول ہوتا ہے۔ کیوں کہ انہوں نے بہت زیادہ رقم خرچ کی ہوتی ہے اور وہ ایسی کسی بھی چیز کو ہاتھ سے جانے نہیں دینا چاہتے۔‘‘

آسٹریلوی نیشنل آرٹ گیلری سے جو مجسمہ واپس لیا گیا تھا، وہ مبینہ طور پر سبھاش کپور نے اسمگل کیا تھا۔ سبھاش کپور مین ہٹن آرٹ کے ساتھ ایک ڈیلر  کے طور پر کام کرتے تھا۔ امریکا میں ہونے والی وفاقی سطح کی ’ہیڈن آئیڈل‘ نامی تحقیقات میں بھی سبھاش کپور کو شامل کیا گیا تھا۔ کپور کو سن 2012ء کے دوران جرمنی میں گرفتار کیا گیا تھا اور اب اس کے خلاف بھارت میں مقدمہ چل رہا ہے۔

اس گروپ کی مدد سے جو مجسمے اور نوادرات واپس لائے گئے ہیں، ان میں سے زیادہ تر گیارہویں اور بارہویں صدی کے ہیں، جب چاولہ سلطنت اپنے عروج پر تھی۔