چلو کوئی بات نہیں! | دستک | DW | 31.01.2022

ڈی ڈبلیو کی نئی ویب سائٹ وزٹ کیجیے

dw.com کے بِیٹا ورژن پر ایک نظر ڈالیے۔ ابھی یہ ویب سائٹ مکمل نہیں ہوئی۔ آپ کی رائے اسے مزید بہتر بنانے میں ہماری مدد کر سکتی ہے۔

  1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages
اشتہار

دستک

چلو کوئی بات نہیں!

بچوں کی تربیت صرف ان اعلیٰ افکار و اقوال زریں سے ہی نہیں ہو سکتی جو ہم انہیں رٹانا چاہتے، بچے ایسے لوگوں کے اعمال کو زیادہ اہمیت دیتے ہیں، جن سے وہ متاثر ہوتے ہیں۔ اگر ان کے ہی قول و فعل میں تضاد ہو گا تو نتیجہ واضح ہے۔

گڑیا ابھی چھوٹی سی بچی ہی تھی کہ اونچی آواز میں بولنے پر اس کی دادی نے ڈانٹ کر کہا، '' آہستہ بولا ، کرو کل کو تمہیں کہیں لگانا بھی ہے۔‘‘ گڑیا پریشان ہو گئی کہ لگاتے تو کسی بے جان چیز کو ہیں نا؟ جیسے اس کی ٹیچر دیوار پر چارٹ لگاتی ہیں یا وہ خود اپنی کاپی پر اسٹکر لگاتی ہے۔ کسی انسان کو بھلا کہیں کیسے لگایا جا سکتا ہے؟ اس کے بار ہا اصرار  پر بھی والدین نے ہنس کر ٹال دیا کہ ’چلو کوئی بات نہیں‘۔ مگر گڑیا کے دل میں ڈر بیٹھ  گیا کہ کہیں واقعی اسے کوئی پکڑ کر دیوار پر نہ لگا دے۔

کچھ عرصے بعد جب اس کی بہن کی پیدائش ہوئی تو گڑیا خوشی سے پھولے نہیں سما رہی تھی۔ بہت سے لوگ مبارکباد دینے آئے مگر ان میں سے اکثر کچھ نہ کچھ ایسا کہہ جاتے کہ گڑیا کا دماغ الجھ جاتا، جیسا کہ 'پھر بیٹی ہوئی ہے‘؟ 'چلو کوئی بات نہیں‘۔

یہ کیسی مبارک تھی بھلا؟ اسے یاد تھا کہ کچھ عرصہ قبل اس کے ماموں کا ہاں دوسرا بیٹا ہوا تو سب ماشاالله، ماشاالله کہتے نہیں تھکتے تھے۔ تب تو کسی نے نہیں کہا کہ 'چلو کوئی بات نہیں‘۔

کچھ ماہ گزرے تو اس کی امی کی طبیعت اچانک خراب ہو گئی۔ دو چھوٹے بچوں کے ساتھ گھر کا کام کافی مشکل ہو گیا تو اس کے ابو نے دفتر سے کچھ دن کی چھٹی لے لی تاکہ بچوں کا خیال رکھ سکیں اور گھر کے کام میں اتنی مدد کر سکیں کہ گڑیا کی امی کو کچھ آرام کا موقع بھی ملے۔

 اس کی نانی یہ سن کر بہت خوش ہوئیں اور اپنے داماد کو خوب دعائیں دیں۔ گڑیا کو بھی اپنے ابو پر فخر محسوس ہوا۔ اگلے ہی ہفتے وہ نانی کے گھر گئی تو پتہ چلا کہ اس کی ممانی بھی کچھ بیمار ہیں۔ بچوں اور گھر کے کاموں کے ساتھ ساتھ وہ نوکری بھی کرتی ہیں اور سب کچھ سنبھالنے میں طبیعت کی ناسازی سے کچھ دقت کا سامنا ہے۔

 گڑیا نے فوراً کہا کہ اچھا اب ماموں بھی دفتر سے چھٹی لے کر گھر  کے کاموں میں مدد کریں گے اور نانی انہیں بھی خوب دعائیں دیں گی؟

مگر یہ بات تو نانا نانی دونوں کو ہی بہت ناگوار گزری کہ بھئی نہیں ہوتا ایسے انتظام تو ممانی نوکری چھوڑ دیں، گھر کی ساری ذمہ داری انہی کی ہے، گھر کے کاموں میں مردوں کا بھلا کیا کام؟

یہ منطق تو گڑیا کے بالکل ہی پلے نہ پڑا، یعنی داماد ان کی بیٹی کی مدد کرے تو واہ واہ اور اگر بیٹا ان کی بہو کی مدد کرے تو نہ نہ؟ گڑیا کے بارہا پوچھنے پر بھی اس کی امی نے کچھ نہ سمجھایا اور بلکہ اس بات کا ذکر کسی سے کرنے سے بھی منع کر دیا۔

 ایک دفعہ ایک محفل میں گفتگو ہو رہی تھی، اس نے بزرگوں کو کہتے سنا کہ آج کل کی مائیں ’ڈش زدہ‘ اور ’کیبل زدہ‘ ہو گئی ہیں، اور ان کی ساری توجہ فلموں اور موسیقی پر ہے اور بچوں کو نیکی کی تلقین نہیں کرتیں، اس لیے نئی نسل بگڑ رہی ہے۔

یہ سن کر گڑیا سوچ میں پڑ گئی کہ اس کے ماں باپ کو اگر کبھی کبھار اپنے اپنے کاموں سے وقت مل جائے تو فلم تو وہ ہمیشہ اکھٹے بیٹھ کر ہی دیکھتے ہیں، البتہ شام میں ٹیلی وژن دیکھنے اور موسیقی سننے کا وقت ابو کے پاس کچھ زیادہ ہوتا ہے۔

نیکی کی تلقین نہ کرنے میں قصور وار صرف امی کیسے ہوئیں؟ ایسا تو نہیں ہے کہ امی فلمیں دیکھتی ہیں اور ابو مسجد میں اعتکاف بیٹھے ہوتے ہیں؟  مگر بچے ایسے سوال نہیں کرتے اور خاص طور پر بچیاں کیونکہ آخر انہیں ’کہیں لگانا بھی تو ہوتا ہے‘۔

ایک دفعہ اسے معلوم ہوا کہ  ہمسائے میں ایک لڑکی بہت  پریشان حالت میں کالج سے واپس آئی ہے۔ بہت سی خواتین اکھٹی ہوئیں اور پتہ چلا کہ محلے کے موڑ پر کچھ لڑکوں  نے اس کو راستے میں تنگ کیا ہے۔ گڑیا کو لگا کہ اب تو ان لڑکوں کی خیر نہیں، یا تو بزرگوں سے شکایت کی جائے گی یا بس آج تو یہ خواتین خود ہی ان لڑکوں کو نہیں چھوڑیں گی۔

 مگر یہ کیا کہ سب خواتین نے مل کر فیصلہ کیا کہ آئندہ یہ لڑکی گھر سے باہر جانے سے گریز کرے اور جانا ناگزیر ہو تو اکیلی تو بالکل نہ جائے۔

گڑیا پوچھتی رہ گئی کہ غلطی توان لڑکوں کی ہے تو پابندی اس لڑکی پر کیوں لگ رہی ہے۔ راستہ محفوظ بنانے کی کوشش کی بجائے لڑکی کو گھر پر کیوں بٹھا رہے ہیں؟ مگر کسی کے پاس بھی اتنا وقت نہیں تھا کہ ناسمجھ بچی کے فالتو سوالات کا جواب دے۔

اسی طرح اسے سمجھ نہیں آتا تھا کہ جب بھی کبھی خبروں میں کسی اغوا یا زیادتی کی خبر آتی ہے تو سب بہت پریشان تو ہوتے ہیں، پورے نظام اور حکومت کو الزام بھی دیتے ہیں مگر جب خواتین مل کر اپنی حفاظت کے حقوق کا مطالبہ کرتی نظر آتی ہیں تو یکا یک وہ بری عورتیں بن جاتی ہیں اور مجرم تو جیسے سب کو بھول ہی جاتا ہے۔

 جب کوئی ٹیلی وژن پر کسی پروگرام میں سگریٹ نوشی کا اشتہار چلتا ہے تو فوراً ایک پٹی ساتھ پہ چلتی ہے کہ تمباکو نوشی صحت کے لیے مضر صحت ہے، یہ کیوں ہوتا؟ اس استفسار پر گڑیا کے والد نے بتایا کہ چونکہ سگریٹ نوشی ایک بری عادت ہے اور صحت کے لیے اچھی نہیں، اس کو بڑھاوا نہیں دینا چاہیے، اسی لیے تنبیہ کی پٹی ساتھ چلائی جاتی ہے۔

گڑیا نے سوچا یعنی مار پیٹ اور گھر یلو تشدد اتنا مضر اور برا عمل نہیں ہو گا کہ اس کے لیے جب کسی ڈرامے میں ایسے مناظر دکھائے جاتے ہیں تو ساتھ میں کوئی وارننگ جاری نہیں کی جاتی ہے۔ 

اس نے میڈیا میں بھی اور اکثر اصل زندگی میں بھی مردوں کا جذباتی استحصال ہوتے بھی دیکھا جہاں مرد ماں، بہن، بیوی سب کو بیک وقت خوش رکھنے میں زیادہ تر ناکام ہی رہتا ہے۔

ویسے تو یہ تینوں فریق ہی مرد سے بے تحاشا مجت کی دعوے دار ہوتے ہیں مگر اسے ذہنی اذیت سے بچانے کی بجائے اکثر ناحق فرمائشیں بھی کر جاتی ہیں۔ یہ کیسی محبت تھی جو پریشانی دیکھ کر بھی اسے بڑھا ہی رہی تھی، ایک دفعہ پھر گڑیا بالکل نہ سمجھ پاتی مگر یہ سوال کرنے کے لیے وہ بہت چھوٹی تھی اور کسی کا اسے سمجھانا ضروری بھی نہیں تھا۔

اسی طرح روزوشب کچھ نہ کچھ جانے انجانے میں بچوں کے سامنے ہوتا چلا جاتا ہے، ایسا نہیں ہے کہ کوئی مثبت عمل سامنے نہیں آتا یا کوئی بھی نفیس یا عمدہ بات کرنے والا پایا ہی نہیں جاتا، مگر یہ تجربات ذہن میں تضاد پیدا کرتے ہیں اور یہ الجھاؤ آہستہ آہستہ شخصیت کا منفی حصہ بن جا تا ہے۔ بچہ اسی ماحول کی پیداوار بن کے رہ جاتا ہے یہاں تک تمام رویے اسے درست اور قابل قبول لگنے لگتے ہیں۔

جیسے جب ہم بچوں کو سکھاتے ہیں کہ کسی کے بھی رنگ یا ظاہری خدوخال پر تبصرہ کرنا غلط ہے مگر خود دن رات اسے مزاح میں شامل کرتے ہوئے بالکل نہیں ہچکچاتے تو ہم یہی پیغام دیتے ہیں کہ غلط ہے بھی تو کچھ تو گنجائش بھی ہے، ''چلو کوئی بات نہیں‘‘۔

نئی نسل کی پرورش میں صرف والدین نہیں بلکہ پورا معاشرہ اپنا کردار ادا کرتا ہے۔ اگر ہم اپنی نئی نسل کو اپنے سے بڑھ کر باشعور، باصلاحیت اور حساس دیکھنا چاہتے ہیں تو ان فرسودہ خیالات اور رویوں کو چھوڑ کر باقی ساری دنیا کے ساتھ قدم ملا کر چلنا ہوگا۔ اب وہ وقت آچکا ہے جب ہم بڑے بھی کبھی تو اپنی غلطی تسلیم کرکے واقعی بڑا ہونے کا ثبوت دیں، بس صرف' لگانے کی بات ہی نہ کرتے رہیں‘۔

 

نوٹ: ڈی ڈبلیو اُردو کے کسی بھی بلاگ، تبصرے یا کالم میں ظاہر کی گئی رائے مصنف یا مصنفہ کی ذاتی رائے ہوتی ہے، جس سے متفق ہونا ڈی ڈبلیو کے لیے قطعاﹰ ضروری نہیں ہے۔

DW.COM

Audios and videos on the topic