1. مواد پر جائیں
  2. مینیو پر جائیں
  3. ڈی ڈبلیو کی مزید سائٹس دیکھیں
چرنوبل کے ليے مدد دينے والے ممالک کی کانفرنس کا افتتح
چرنوبل کے ليے مدد دينے والے ممالک کی کانفرنس کا افتتحتصویر: DW

چرنوبل کی خطرناک تابکاری روکنے کے ليے نيا غلاف

19 اپریل 2011

چرنوبل کے تباہ شدہ ايٹمی ری ايکٹر کے گرد کنکريٹ اور فولاد کا بنا ہوا جو غلاف ڈھانپا گيا ہے، اُس نے اب تک انتہائی جان ليوا جوہری تابکار شعاعوں کو ری ايکٹر سے خارج ہونے سے روکے رکھا ہے۔

https://p.dw.com/p/10wbN

عالمی برادری نے چرنوبل کے ايٹمی پلانٹ کے گرد ايک نئے غلاف کی تعمير کے لئے يوکرين کو 550 ملين يورو دينے کا وعدہ کيا ہے۔ يہ اعلان آج کئيف ميں ہونے والی ايک کانفرنس ميں يوکرين کے صدر وکٹر يانوکووچ نے کيا۔ اس کانفرنس ميں وہ ممالک شرکت کررہے ہيں جو اس سلسلے ميں يوکرين کی مدد کرنا چاہتے ہيں۔ ان ميں يورپی يونين کے ممالک اور برطانيہ بھی شامل ہے۔ جرمنی اس سلسلے ميں اب تک 100 ملين يورو سے زيادہ رقم دے چکا ہے۔ يو کرين خود 19 ملين يورو ادا کرے گا۔

چرنوبل پلانٹ بند پڑا ہے۔ارگرد ويرانی
چرنوبل پلانٹ بند پڑا ہے۔ارگرد ويرانیتصویر: AP

چرنوبل کے چوتھے ری ايکٹر بلاک کے نزديک آنے کے ساتھ ساتھ جوہری تابکاری کی پيمائش کرنے والے آلے گائيگر کاؤنٹر کا شور بھی بڑھتا جاتا ہے۔ تحفظ ماحول کی تنظيم گرين پيس کے ماہر ہائنس سميٹال نے کہا:

''يہ تابکاری يہاں زمين سے نہيں بلکہ بہت موٹے کنکريٹ کے خول ميں بند ری ايکٹر سے براہ راست آ رہی ہے۔''

چرنوبل ايٹمی پلانٹ کے گرد کنکريٹ کا غلاف 25 سال قبل کے شديد ايٹمی حادثے کے بعد تعمير کيا گيا تھا۔ اس کی تعمير ميں چھ مہينے لگے تھے۔ اس دوران بار بار اس غلاف ميں پيدا ہونے والے رخنوں اور شگافوں کو بند کرنا پڑا ہے، جن ميں سے تابکاری باہر نکل رہی تھی اور بارش اور گندا پانی ری ايکٹر کے اندر داخل ہو رہا تھا۔ پرانے خول کی چار ميں سے تين ديواروں کو گرنے سے روکنے کے لئے سن 2004 سے سن 2008 کے درميان فولادی سلاخيں لگائی گئيں تھيں۔ چرنوبل ايٹمی بجلی گھر کے، بين الاقوامی تعاون کے شعبے کی جوليا ماروسچ نے اپنی يوکرين زبان ميں کہا:

''يہ فولادی تعميرات کنکريٹ کے خول کو مزيد 15 برسوں تک کے لئے سہارا دے سکيں گی۔ ہم نے سن 2008 کے بعد سے 15 سال کا يہ تخمينہ لگايا ہے اور اس عرصے کے دوران نئے غلاف کی تياری کا کام کيا جا سکے گا۔''

چرنوبل شہر ميں داخلے کا راستہ
چرنوبل شہر ميں داخلے کا راستہتصویر: DW/K.Percy

تاہم يہ کام توقع سے بہت دشوارثابت ہو رہا ہے۔ گرين پيس کے، تابکار جوہری شعاعوں کے ماہر ہائنس سميٹال نے کہا کہ پرانے خول کے عين اوپر کام ممکن نہيں کيونکہ وہاں تابکاری بہت زيادہ ہے۔ اس لئے نيا متحرک خول اس سے کہيں دور پٹڑيوں پر بنايا جائے گا اور پھر اُسے پرانے خول پر رکھ ديا جائے گا۔ يہ زمين پر تعمير کيا جانے والا سب سے بڑا متحرک وجود ہوگا۔ اس کا وزن 29 ہزار ٹن ہوگا۔

ابھی تک اس کی صرف تيارياں جاری ہيں۔ کارکنوں کو بہت زيادہ تابکاری کے خطرے سے بچانے کے لئے پہلے تعميراتی کام کی جگہ سے بہت زيادہ تابکار مٹی کی تہہ کو کھود کر ہٹانا پڑے گا۔

رپورٹ: شہاب احمد صديقی

ادارت: امجد علی

اس موضوع سے متعلق مزید سیکشن پر جائیں
ڈی ڈبلیو کی اہم ترین رپورٹ سیکشن پر جائیں

ڈی ڈبلیو کی اہم ترین رپورٹ

Pakistan Islamabad | Proteste Regierungsangestellte für Lohnerhöhungen

انسانی حقوق کمیشن کی سیاسی پارٹیوں پر تنقید

ڈی ڈبلیو کی مزید رپورٹیں سیکشن پر جائیں
ہوم پیج پر جائیں