چاند پر قدم رکھنے والی پہلی عورت کون ہو گی؟ | سائنس اور ماحول | DW | 15.06.2019
  1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages
اشتہار

سائنس اور ماحول

چاند پر قدم رکھنے والی پہلی عورت کون ہو گی؟

خلائی تحقيق کے امريکی ادارے ناسا کی جانب سے بتايا گيا ہے کہ سن 2024 ميں چاند کی طرف ايک مشن روانہ کيا جائے گا، جس کی خاص بات يہ ہے کہ اس ميں پہلی مرتبہ کوئی عورت چاند پر قدم رکھ سکتی ہے۔

قديم يونانی تاريخ و عقائد ميں 'اپولو‘ موسيقی اور روشنی کے خدا کا نام ہے۔ خلائی تحقيق کے امريکی ادارے ناسا نے چاند کی طرف بھيجے جانے والے مشن کا نام علامتی طور پر 'اپولو‘ ہی رکھا تھا۔ سن 1969 ميں چاند پر بھيجے جانے والے پہلے کامياب انسان بردار مشن کے پچاس سے زيادہ سال بعد اب ناسا چاند پر دوبارہ ايک مشن روانہ کرنے کا منصوبہ رکھتا ہے، جس کا نام 'آرٹيمس‘ رکھا گيا ہے۔ 'آرٹيمس‘ قديم يونانی عقائد کے مطابق 'اپولو‘ کی بہن کا نام ہے۔

تو سوال يہ پيدا ہوتا ہے کہ انسانی تاریخ میں چاند پر اترنے والی پہلی عورت کون ہو گی؟ ناسا کا کہنا ہے کہ اس وقت ادارے کے موجودہ بارہ تجربہ کار خواتین خلا بازوں ہی ميں سے کسی کو يہ موقع ملے گا۔ ان تمام کی عمريں اس وقت چاليس سے ترپن برس کے درميان ہيں۔ ان خواتين ميں کوئی سابقہ فوجی پائلٹ ہیں تو کوئی ڈاکٹر اور کوئی سائنسدان۔ ان خواتین کو پچھلے بیس بائیس سال کے دوران ناسا میں کام کرنے کی خواہشمند ہزاروں خواتین میں اس کام کے لیے لیا گيا۔

ان بارہ عورتوں ميں سے چار نماياں ہيں۔ ان چاروں کی عمريں چاليس اور اکتاليس کے درميان ہيں اور اب سے لے کر سن 2020 تک يہ چاروں ہی خلاء ميں کسی نہ کسی مشن کا حصہ بن چکی ہوں گی۔

اين مکلين فوجی ہيلی کاپٹر کی پائلٹ رہ چکی ہیں۔ اس ماہ کےآخر میں وہ کچھ عرصے کے ليے 'انٹرنيشنل اسپيس اسٹيشن‘ يا آئی ايس ايس ميں تعينات رہيں گی۔ وہ اپنی اچھی گفتگو اور خود اعتمادی کی وجہ سے جانی جاتی ہیں۔

کرسٹينا کوک پیشے کے اعتبار سے انجینئر رہی ہيں

کرسٹينا کوک پیشے کے اعتبار سے انجینئر رہی ہيں

دوسری خاتون 'انٹرنيشنل اسپيس اسٹيشن‘ ميں تعينات کرسٹينا کوک بھی اس مشن کے ليے نماياں اميدوار ہيں۔ کوک پیشے کے اعتبار سے انجینئررہی ہيں اور انہیں کوہ پیمائی کا شوق ہے۔ وہ عنقريب خلاء ميں سب سے زيادہ وقت یعنی گیارہ ماہ سے اوپر گزارنے والی عورت بن جائيں گی۔

ناسا کی اسی کلاس يا اسی درجے ميں شامل ايک اور خلا باز جيسيکا مائر ہيں۔ ويسے تو وہ ايک ميرين بايولوجسٹ ہيں ليکن ان دنوں چاند پر مشن کے ليے تربيت حاصل کرنے ميں مصروف ہيں۔ اس فہرست ميں چوتھا نام سابقہ اییر فورس پائلٹ نکول مين کا ہے۔ وہ عراق اور افغانستان کی جنگوں میں امریکی فضائیہ کے مشن کا حصہ رہ چکی ہيں۔

سن دو ہزار چھہ میں یہ چاروں خواتین مريخ پر کسی ممکنہ مشن ميں دلحسپی ظاہر کر چکی ہیں۔

ناسا کے مطابق سن 2024 ميں چاند کی طرف روانہ کيے جانے والے مشن کا عملہ چار افراد پر مشتمل ہو گا۔ يہ ضروری نہيں کہ اين مک کلين، کرسٹينا کوخ، جيسيکا مائر يا نکول مين ہی ميں سے کوئی اس مشن کا حصہ بنے، بقيہ آٹھ ممکنہ اميدواروں ميں سے بھی کوئی اس مشن کا حصہ بن سکتی ہيں۔

بہرحال يہ اعزاز جسے بھی حاصل ہو، ایک بات طے ہے کہ جس دن ان میں سے کوئی بھی خاتون چاند پر اترے گی دنیا بھر کی عورتیں کہہ سکیں گی کہ اگر ہم چاند تک جا سکتے ہیں تو دنیا میں ہر کام کر سکتی ہیں۔

ع س / ش ج، نيوز ايجنسياں

DW.COM