چار روزہ 14 ویں عالمی اردو کانفرنس کا آغاز | فن و ثقافت | DW | 09.12.2021

ڈی ڈبلیو کی نئی ویب سائٹ وزٹ کیجیے

dw.com کے بِیٹا ورژن پر ایک نظر ڈالیے۔ ابھی یہ ویب سائٹ مکمل نہیں ہوئی۔ آپ کی رائے اسے مزید بہتر بنانے میں ہماری مدد کر سکتی ہے۔

  1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages
اشتہار

فن و ثقافت

چار روزہ 14 ویں عالمی اردو کانفرنس کا آغاز

آرٹس کونسل کراچی میں 14 ویں عالمی اردو کانفرنس کا آغاز ہوگیا ہے ۔ بڑی تعداد میں ملکی وغیر ملکی مصنف ادیب اور دانشور حصہ لے رہے ہیں۔ آرٹس کونسل کے صدر احمد شاہ نے تمام شرکا کا خیر مقدم کرتے ہوئے استقبالیہ خطاب کیا۔

 

 کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے وزیر اعلٰی سندھ سید مرادعلی شاہ نے کہا کہ پیپلز پارٹی اور اردو کانفرنس ہمیشہ ساتھ چلتے ہیں ادب کی اہمیت سے کوئی انکار نہیں کرسکتا انہوں نے کہا،'' شدت پسندی کے حوالے سے ملک میں جو کچھ ہورہا ہے اس سے سب واقف ہیں ہم یہ سوچ کر دہل جاتے ہیں کہ ہم اپنے بچوں کے لیے کیا چھوڑ کر جارہے ہیں محترمہ بینظیر بھٹو نے ہمیشہ شدت پسندوں سے بات چیت کرنے سے منع کیا آج کل جو ماحول پیدا ہوگیا ہے وہ بہت خطرناک ہے۔ انتہا پسندی اور تشدد کے خلاف جنگ لڑنا ہوگی۔‘‘ وزیر اعلی سندھ نے مزید کہا '' ہمیں دانشوروں کے ذریعے جنگ میں حصہ لینا ہوگا تمام ٹی وی چینلز پر پرائم ٹائم میں سیاسی لوگ ایک دوسرے کو تنقید کا نشانہ بناتے ہیں ۔ ادیبوں اور دانشوروں کی بات صدیوں تک اثر رکھتی ہے ملک کے موجودہ حالات میں قلم کا ساتھ دینا ہوگا۔‘‘

Karachi | Die 14. internationale Urdu-Konferenz

آرٹس کونسل آف پاکستان کراچی میں اردو کانفرنس شروع

ایڈمنسٹریٹر کراچی و ترجمان سندھ حکومت بیرسٹر مرتضی وہاب نے اپنے خطاب میں کہا کہ زبان و تہذیب معاشرے کا اہم حصہ ہیں۔ ان کا کہنا تھا،'' بدقسمتی سے ہم نے اس پر توجہ نہیں دی ہمیں اپنی زبان اور تہذیب کو اجاگر کرنا ہوگا پاکستان میں انگریزی بولنے  کی کوششوں میں ہم تباہ ہوگئے۔ ہمیں نہ ادب نہ اردو اچھی آتی ہے اس طرح کی کانفرنس سے اردو اور ادب کو فروغ دیا جا سکتا ہے۔‘‘  مرتضی وہاب نے کانفرنس میں حبیب جالب کی نظم بھی پڑھ کر سنائی۔

اُدھرآرٹس کونسل آف پاکستان کے صدر احمد شاہ نے اپنے استقبالیہ خطبے میں کہا کہ جب کسی قوم کی ثقافت ختم ہوجائے تو وہ معاشرہ مردہ ہوجاتا ہے۔ احمد شاہ کے بقول،'' ہم اپنی تہذیب کے بل غرض سفیر ہیں۔ مہینے بھر سے اس کانفرنس کی تیاریاں ہو رہی تھیں۔ ادب وثقافت اور تہذیب سے محبت کرنیوالوں کی یہ عید ہے تہذیب و ثقافت کے دشمنوں سے ادب کے ذریعے لڑنا ہے۔

Karachi | Die 14. internationale Urdu-Konferenz

سینکڑوں ادیبوں اور دانشوروں کی شرکت

اس شہر نے چودہ سالوں میں بہت برا وقت دیکھا مگر ہم نے یہ کام بند نہیں کیا لوگ چاہتے تھے کہ ہم اپنی تہذیب سے کٹ جائیں ہم سے کافی لوگ بچھڑ گئے اب بھی پورے پاکستان سے ادب کے ستارے کانفرنس میں شامل ہیں۔ کورونا وباء کے باعث گذشتہ سال کافی تعداد میں بڑے دانشوروں کا انتقال ہوا جو عالمی اردو کانفرنس کا حصہ ہوتے تھے، تاہم رواں سال عالمی اردو کانفرنس میں سرحدی اور کوویڈ پابندیوں کے باوجود دنیا بھر اور اندرون ملک سے 250 سے زائد دانشوروں، اسکالرز، ادیب اور شاعر شرکت کررہے ہیں جبکہ بھارت کے تمام بڑے شاعر اور ادیب ڈیجیٹل کانفرنس میں موجود رہیں گے۔‘‘

 

Karachi | Die 14. internationale Urdu-Konferenz

علاقائی زبانوں سندھی، بلوچی، سرائیکی، پشتو اور پنجابی کو بھی شامل کیا گیا ہے

 احمد شاہ نے ڈوئچے ویلے سے گفتگو کرتے ہوئے کہا،'' کانفرنس میں پاکستان کی علاقائی زبانوں سندھی، بلوچی، سرائیکی، پشتو اور پنجابی کو بھی شامل کیا گیا ہے۔ پروگرام میں بیاد آصف فرخی کے علاوہ ممتاز شخصیات کے ساتھ سیشنز بھی منعقد ہونگے جن میں انور مقصود سمیت اردو ادب کی ممتاز شخصیات اور معروف صحافی شامل ہیں۔‘‘

کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے سندھ کے وزیر تعلیم سید سردار علی شاہ نے کہا کہ اردو برصغیر کی زبان ہے ہمیں ریاست نے نہیں بلکہ شاہ عبدالطیف نے بچایا اردو زبان کو بچانے کے لیے سب زبانوں کو ساتھ لے کر چلنا ہوگا۔

عالمی اردو کانفرنس چار روز تک جاری رہے گی۔

رفعت سعید/ کراچی