پی آئی سی میں علاج بند، احتجاجی وکلا جیل میں | حالات حاضرہ | DW | 12.12.2019
  1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages
اشتہار

حالات حاضرہ

پی آئی سی میں علاج بند، احتجاجی وکلا جیل میں

انسداد دہشت گردی کی خصوصی عدالت نے پی آئی سی حملہ کیس میں گرفتار 46 وکلا کو جوڈیشل ریمانڈ پر جیل بھیج دیا ہے، جبکہ پاکستان میڈیکل ایسوسی ایشن نے پنجاب کے وزیر اعلٰی عثمان بزدار کے استعفے کا مطالبہ کیا ہے۔

آج جمعرات 12 دسمبر کو ملزم وکلاء کوکپڑے سے ڈھانپے گئے چہروں کے ساتھ انسداد دہشت گردی کی خصوصی عدالت کے جج عبدالقیوم خان کے روبرو پیش کیا گیا۔ اس موقعے پر سخت حفاظتی انتظامات کیے گئے تھے۔ عدالت کے روبرو سرکاری وکیل نے ملزمان کو 14 روز کے لیے جسمانی ریمانڈ پر پولیس کی تحویل میں دینے کی استدعا کی تاہم عدالت نے اسے مسترد کردیا اور ملزمان کو جوڈیشل ریمانڈ پر جیل بھجوا دیا۔

پاکستان کے ایک بڑے ٹی وی چینل سے وابستہ سینیئر صحافی عدنان عادل نے ڈی ڈبلیو کو بتایا کہ انسداد دہشت گردی کی عدالت کی طرف سے پی آئی سی حملہ کیس میں گرفتار ملزمان کے جسمانی ریمانڈ دینے کی درخواست کے مسترد کیے جانے کا مطلب یہ ہے کہ اب پولیس ان وکلاء سے مزید تفتیش نہیں کر سکے گی کہ اس واقعے کی منصوبہ بندی کس نے کی اور اس کی دیگر تفصیلات کیا ہیں۔ ان کے مطابق جوڈیشل ریمانڈ کا مطلب یہ بھی ہے کہ اب ان وکلاء کی ضمانتیں ہو سکتی ہیں۔ اگر جسمانی ریمانڈ دیا جاتا تو ان ضمانتیں نہیں ہو سکتی تھیں۔

وکلاء کے خلاف دو مختلف مقدمات

پی آئی سی میں ہنگامہ آرائی کرنے والے وکلاء کے خلاف پولیس اسٹیشن شادمان میں دو الگ مقدمات درج کیے گئے ہیں۔ ہسپتال کے ایک اہلکار کی طرف سے درج کرائے جانے والے پہلے مقدمے میں 250 وکلاء کے خلاف قتل خطا، سرکاری امور میں مداخلت، دہشت پھیلانے، ہوائی فائرنگ کرنے، بلوہ اور لوٹ مار کرنے کے علاوہ نجی اور سرکاری املاک کو نقصان پہنچانے کی دفعات لگائی گئی ہیں۔

Pakistan Lahore Punjab Institute of Cardialogy nach Angriff von Anwälten

ڈاکٹروں کی مختلف تنظیموں نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے پی آئی سی کیس کے حوالے سے جے آئی ٹی بنانے، وزیر اعلٰی پنجاب، وزیر قانون پنجاب، وزیر صحت، محکمہ داخلہ پنجاب اور لاہور پولیس کے ذمہ داران، کے فوری استعفیٰ کا مطالبہ کیا ہے۔

پولیس کی مدعیت میں دو سو سے زائد وکلاء کے خلاف درج کیے جانے والے دوسرے مقدمے میں وکلاء کی جانب سے پولیس اہلکاروں پر تشدد، ہوائی فائرنگ، پولیس وین جلانے اور شہریوں کی کاروں کو نقصان پہنچانے کے حوالے سے دفعات لگائی گئی ہیں۔

ڈاکٹروں کا احتجاج اور وزیر اعلٰی پنجاب کے استعفے کا مطالبہ

ڈاکٹروں کی مختلف تنظیموں نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے پی آئی سی کیس کے حوالے سے جے آئی ٹی بنانے، وزیر اعلٰی پنجاب، وزیر قانون پنجاب، وزیر صحت، محکمہ داخلہ پنجاب اور لاہور پولیس کے ذمہ داران، کے فوری استعفیٰ کا مطالبہ کیا ہے۔ انہوں نے ہسپتالوں میں کام کرنے والے ڈاکٹروں اور پیرامیڈکس کی سکیورٹی کا بل جو عرصہ دراز سے التوا کا شکار ہے اسے فی الفور آرڈیننس کے ذریعے نافذ کرنے کا بھی مطالبہ کیا ہے۔

مزید وکلاء کی گرفتاریوں کے لیے چھاپے مارے جا رہے ہیں، لاہور پولیس

سی سی پی او لاہور ذوالفقار حمید نے صحافیوں کو بتایا کہ اس واقعے کی تمام فوٹیجز حاصل کر لی گئی ہیں اور اس واقعے میں ملوث زیادہ تر افراد کو شناخت کر لیا گیا ہے، اور مزید وکلاء کی گرفتاری کے لئے چھاپے مارے جا رہے ہیں۔ ان کے بقول اب قانون اپنا راستہ لے گا۔

Pakistan Lahore Punjab Institute of Cardialogy nach Angriff von Anwälten

پی آئی سی میں سینکڑوں مریضوں کو روزانہ ایمرجنسی علاج فراہم کرنے والی ایمرجنسی اور انتہائی نگہداشت کے دیگر شعبوں میں کام مکمل طور پر بند ہے۔

پی آئی سی کے باہر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ ایک رات پہلے وکلاء اور ڈاکٹرز میں مذاکرات کرائے گئے تھے اور فریقین میں تصفیہ ہو گیا تھا۔ پولیس نے چائنہ چوک پر وکلاء کو روکا تھا لیکن انہوں نے یقین دلایا تھا کہ احتجاج پرامن ہوگا۔ ان کے بقول کوئی بھی قانون سے بالاتر نہیں اور قانون کی خلاف ورزی پر سخت کارروائی کی جائے گی۔

پی آئی سی میں علاج معالجے کا سلسلہ معطل

پنجاب میں امراض قلب کے سب سے بڑے ہسپتال پی آئی سی میں سینکڑوں مریضوں کو روزانہ ایمرجنسی علاج فراہم کرنے والی ایمرجنسی اور انتہائی نگہداشت کے دیگر شعبوں میں کام مکمل طور پر بند ہے۔ ہسپتال کی صفائی کا کام جاری ہے۔ آج دوسرے شہروں سے آنے والے مریضوں کو بھی ہسپتال میں داخل نہیں کیا گیا جبکہ ہسپتال میں موجود مریضوں کو دوسرے ہسپتالوں میں منتقل کر دیا گیا۔ پنجاب کی وزیر صحت ڈاکٹر یاسمین راشد نے میڈیا کے اس سوال کا واضح جواب دینے سے گریز کیا کہ اس ہسپتال میں مریضوں کا علاج کب شروع ہو گا۔

نقصان کی رپورٹ جاری

پاکستان انسٹی ٹیوٹ آف کارڈیالوجی کے میڈیکل سپرنٹنڈنٹ کی طرف سے جاری کی گئی رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ ہسپتال پر وکلاء کے حملے کے نتیجے میں دس کارڈیئک مانیٹرز، چار ایکو مشینوں اور تین وینٹی لیٹرز کے علاوہ درجنوں گاڑیوں، دروازوں، الماریوں اور دیگر سازوسامان کو تقصان پہنچا۔ اس کےعلاوہ پی آئی سی حملے کی سی سی ٹی وی فوٹیج بھی منظر عام پر آ گئی ہے۔ اس فوٹیج میں احتجاجی وکلاء کو تشدد کرتے اور ہسپتال کی املاک کو تقصان پہنچاتے ہوئے دیکھا جا سکتا ہے۔

Pakistan Lahore | Anwälte protestieren

پاکستان بار کونسل کی اپیل پر آج پنجاب کے کئی شہروں میں وکلاء نے عدالتوں کا بائیکاٹ کیا اور احتجاجی ریلیاں نکالیں اور گرفتار وکلاء کی رہائی کا مطالبہ کیا۔

وکلاء کی طرف سے جوائنٹ ایکشن کمیٹی

وکلاء نے تازہ صورتحال میں ایک جوائنٹ ایکشن کمیٹی تشکیل دے دی ہے۔ پاکستان بار کونسل کی اپیل پر آج پنجاب کے کئی شہروں میں وکلاء نے عدالتوں کا بائیکاٹ کیا اور احتجاجی ریلیاں نکالیں اور گرفتار وکلاء کی رہائی کا مطالبہ کیا۔ وکلاء رہنماؤں کے صوبائی انتظامیہ کے ساتھ ہونے والے مذاکرات کے کئی راؤنڈ ابھی تک ناکام رہے ہیں۔ مستقبل کے لائحہ عمل کے لیے وکلاء تنظیموں کا ایک مشاورتی اجلاس بھی بلا لیا گیا ہے۔

ڈی ڈبلیو کے ایڈیٹرز ہر صبح اپنی تازہ ترین خبریں اور چنیدہ رپورٹس اپنے پڑھنے والوں کو بھیجتے ہیں۔ آپ بھی یہاں کلک کر کے یہ نیوز لیٹر موصول کر سکتے ہیں۔

 

DW.COM