پیٹریاس نے سی آئی اے کے سربراہ کا حلف اٹھا لیا | حالات حاضرہ | DW | 07.09.2011
  1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages
اشتہار

حالات حاضرہ

پیٹریاس نے سی آئی اے کے سربراہ کا حلف اٹھا لیا

حال ہی میں ریٹائر ہونے والے امریکی جنرل ڈیوڈ پیٹریاس نے منگل کے روز امریکی خفیہ ادارے سی آئی اے کے چیف کے عہدے کا حلف اٹھا لیا۔

ڈیوڈ پیٹریاس

ڈیوڈ پیٹریاس

سابق امریکی جنرل اور افغانستان میں آئی سیف کے سربراہ رہنے والے ڈیوڈ پیٹریاس نے سی آئی اے کے سربراہ کے عہدے کا حلف امریکہ میں سن دو ہزار ایک کے دہشت گردانہ حملوں کی دس سال پورے ہونے سے چند روز قبل اٹھایا ہے۔ مبصرین کے مطابق وہ سی آئی اے کی کمان ایک ایسے وقت سنبھال رہے ہیں جب دہشت گردی کے خلاف جنگ میں امریکی افواج اور سی آئی اے کے درمیان تفریق خاصی مشکل ہو چکی ہے، افغانستان سے نیٹو افواج کا انخلا مرحلہ وار ہو رہا ہے اور پاکستان کے ساتھ امریکہ کے تعلقات، بالخصوص سی آئی اے اور پاکستانی خفیہ ادارے آئی ایس آئی کے رشتے خاصے خراب ہیں۔ آئی سیف کے سابق سربراہ کی حیثیت سے پیٹریاس کو افغان اور پاکستانی حکام کے ساتھ کام کرنے کا خاصا تجربہ رہا ہے۔ بعض تجزیہ نگاروں کے مطابق یہ بات بھی ریٹائرڈ جنرل ڈیوڈ پیٹریاس کے سی آئی اے کے سربراہ بنائے جانے کی ایک وجہ ہے۔

NO FLASH General David Petraeus

پیٹریاس افغانستان میں آئی سیف کے سربراہ رہ چکے ہیں

امریکی نائب صدر جو بائیڈن سے حلف لینے کے بعد پیٹریاس امریکی صدر باراک اوباما کے کو انٹیلیجنس بریفنگ دینے پہنچے۔ اس کے بعد پیٹریاس نے سی آئی اے کے عہدیداروں سے ورجینیا میں واقع ادارے کے ہیڈ کوارٹرز میں خطاب کیا۔

عہدہ سنبھالنے کے بعد جنرل پیٹریاس نے صدر اوباما کا شکریہ ادا کیا۔ نائب صدر بائیڈن نے افغانستان اور عراق میں ڈیوڈ پیٹریاس کے کردار کی تعریف کی۔ پیٹریاس کے سی آئی اے کے سربراہ کی حیثیت سے تقرری کے بعد واشنگٹن کے بعض حلقوں میں گردش کرنے والا یہ خیال بھی دم توڑ گیا کہ ریپبلکن جماعت غالباً پیٹریاس کو آئندہ صدارتی انتخابات کے لیے اپنی جماعت کا امیدوار نامزد کرنے کا ارادہ رکھتی ہے۔

رپورٹ: شامل شمس⁄  خبر رساں ادارے

ادارت: امتیاز احمد

 

DW.COM