′پیر کے روز مظاہروں‘ کے تیس برس: مظاہرہ جرمنوں کی ہمت کا تھا | معاشرہ | DW | 09.10.2019
  1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages
اشتہار

معاشرہ

'پیر کے روز مظاہروں‘ کے تیس برس: مظاہرہ جرمنوں کی ہمت کا تھا

9 اکتوبر1989ء کو 70 ہزار سے زائد افراد نے جرمن شہر لائپزگ میں آزادی اور جمہوریت کے لیے مظاہرہ کیا تھا۔ اس موقع پر قانون نافذ کرنے والے اداروں نے کوئی مداخلت نہیں کی تھی۔ یہ مظاہرہ بھی دیوار برلن کے انہدام کی ایک وجہ تھا۔

نو اکتوبر 1989ء کی صبح چھ بجے کی بات ہے، جب لائپزگ شہر کے سینٹ نکولائی چرچ کے دروازے کھلے اور عبادت کرنے والے افراد ایک دم سڑکوں پر نکل آئے۔ چرچ کے باہر اور قریبی کارل مارکس اسکوائر پر ہزاروں افراد جمع ہو چکے تھے۔ ان میں نابالغ نوجوان، بالغ شہری، پورے کے پورے خاندان، ملازمین اور ریٹائرڈ افراد سبھی شامل تھے۔ جرمنی کی سیاسی تاریخ میں ان مظاہروں کو'منڈے ڈیمونسٹریشنز‘ یا 'پیر کے روز کیے جانے والے مظاہرے‘ کہا جاتا ہے۔

جرمن ڈیموکریٹک ریپبلک کے ستر ہزار سے لے کر ایک لاکھ تک شہری اس موقع پر لائپزگ میں سابقہ مشرقی جرمن ریاست کی کمیونسٹ حکومت کے خلاف پرامن انداز میں سڑکوں پر نکلے تھے۔ یہ شہری حکمران جماعت سوشلسٹ یونٹی پارٹی سے آزادی اور اصلاحات کے مطالبے کر رہے تھے۔

سابقہ مشرقی جرمنی ریاست کی حکومت اس طرح کے مظاہروں کی اجازت نہیں دیتی تھی اور اسی وجہ سے لائپزگ کے مرکز میں جمع ہونے والے بہت سے شہری حکومت کے ممکنہ ردعمل کی وجہ سے خوف میں مبتلا بھی تھے۔

متعدد مظاہریں کو ڈر تھا کہ پولیس کہیں گولی نہ چلا دے کیونکہ اس موقع پر ان کے اطراف میں کئی سو پولیس اہلکار خود کار ہتھیاروں کے ساتھ موجود تھے۔

مارچ 1989ء میں ہی چینی پولیس نے بیجنگ کے تیانانمن اسکوائر پر ایک جمہوریت نواز تحریک کو بری طرح کچلا تھا اور شہریوں کو خوف تھا کہ لائپزگ میں بھی کہیں ایسا ہی کوئی اقدام نہ اٹھا لیا جائے۔ حیرت کی بات یہ ہے کہ اس موقع پر جی ڈی آر کی حکومت نے ان مظاہروں میں کسی قسم کی مداخلت کرنے کا حکم نہیں دیا تھا۔

مظاہرین آگے بڑھتے گئے اور نعرے بلند ہوتے گئے۔ اسی دوران مظاہرین سابقہ مشرقی جرمنی کی بدنام زمانہ خفیہ پولیس'شٹازی‘ کے مرکزی دفتر کے سامنے سے بھی گزرے۔ یہ مظاہرین 'ہم ایک قوم ہیں‘، 'آزادی اور آزادانہ انتخابات‘ اور 'تشدد نامنظور‘جیسے نعرے لگا رہے تھے۔

اگرچہ یہ مظاہرے اپنی نوعیت کے پہلے مظاہرے نہیں تھے تاہم انہیں جرمنی کے دوبارہ اتحاد کے عمل میں اہم ترین موڑ قرار دیا جاتا ہے۔ ان کے بعد شروع ہونے والے مظاہروں نے بہت ہی کم وقت میں سابقہ مشرقی جرمنی کے دیگر شہروں کو بھی اپنی لپیٹ میں لے لیا تھا۔ پرامن انقلاب کی ابتدا کے صرف چار ہفتے بعد یعنی نو نومبر 1989ء کو دیوار برلن گرا دی گئی تھی، جس کے ساتھ ہی مشرقی اور مغربی جرمنی پھر ایک ہو گئے تھے۔

آج  'منڈے ڈیمونسٹریشنز‘ کے تاریخی واقعےکو تیس سال ہو گئے ہیں۔ اس موقع پر لائپزگ میں جرمن صدر فرانک والٹر شٹائن مائر نے ایک تقریب میں اس پرامن انقلاب کو خراج تحسین پیش کیا۔ اس کے علاوہ اس موقع پر لائپزگ میں ایک پر امن مارچ بھی کیا جا رہا ہے۔

ویڈیو دیکھیے 02:37

جرمنی کا اتحاد، کب کیا ہوا؟

DW.COM

Audios and videos on the topic