پیرس دہشت گردانہ حملے: چوری شدہ ’سوگ مناتی ہوئی لڑکی‘ برآمد | فن و ثقافت | DW | 10.06.2020
  1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages
اشتہار

فن و ثقافت

پیرس دہشت گردانہ حملے: چوری شدہ ’سوگ مناتی ہوئی لڑکی‘ برآمد

اطالوی پولیس کے مطابق اس نے فرانسیسی دارالحکومت پیرس میں دو ہزار پندرہ کے دہشت گردانہ حملوں کی یاد میں بنائی گئی ’سوگ مناتی لڑکی‘ برآمد کر لی ہے۔ ’سوگ مناتی لڑکی‘ ایک ایسا آرٹ ورک ہے، جو گزشتہ برس چوری کر لیا گیا تھا۔

اٹلی کے دارالحکومت روم سے بدھ دس جون کو موصولہ رپورٹوں کے مطابق برطانوی آرٹسٹ بینکسی نے اپنا یہ فن پارہ پیرس میں باٹاکلان کنسرٹ ہال کے ایک دروازے پر بنایا تھا اور اس کا مقصد پانچ سال پہلے وہاں دہشت گردانہ حملوں میں مارے جانے والوں کی یاد زندہ رکھنا تھا۔

پیرس کا باٹاکلان کنسرٹ ہال فرانسیسی دارالحکومت کا ایک ایسا امتیازی نشان ہے، جہاں نومبر 2015ء میں مسلم شدت پسندوں کی طرف سے کیے گئے دہشت گردانہ حملوں نے پوری دنیا کو سکتے میں ڈال دیا تھا۔ ان حملوں میں 90 افراد مارے گئے تھے۔

بعد میں برطانوی آرٹسٹ بینکسی نے اس کنسرٹ ہال کے ایمرجنسی دروازوں میں سے ایک پر اپنا ایک ایسا فن پارہ بنایا تھا، جس میں ایک لڑکی کو موت کا سوگ مناتے ہوئے دکھایا گیا تھا اور یہ 'سوگ مناتی ہوئی لڑکی‘ کے نام سے جانا جانے لگا تھا۔

باٹاکلان کے ایک ایمرجنسی دروازے پر یہ فن پارہ پینٹ کیا گیا تھا۔ لیکن یہ اس وقت چوری ہو گیا تھا جب گزشتہ برس نامعلوم افراد اس دروازے کا پینٹنگ والا حصہ کاٹ کر ساتھ لے گئے تھے۔

اٹلی کے شہر تیرامو میں ایک سینیئر پولیس اہلکار نے دس جون بدھ کے روز بتایا، ''ہم نے باٹاکلان سے چوری کردہ وہ دروازہ برآمد کر لیا ہے، جس پر بینکسی کی 'سوگ مناتی ہوئی لڑکی‘ کی پینٹنگ بنی ہوئی ہے۔ اطالوی پولیس کے مطابق اس نے یہ فن پارہ جس چھاپے کے دوران برآمد کیا، اس میں اسے فرانسیسی پولیس کی مدد بھی حاصل تھی۔

ابرُوزو کے اطالوی خطے میں پولیس کو یہ مسروقہ فن پارہ ایک ایسے فارم ہاؤس سے ملا، جو بظاہر کسی کے زیر استعمال نہیں تھا۔ اطالوی دفتر استغاثہ کے ایک اہلکار میشل رینزو نے بتایا کہ اس 'سوگ مناتی ہوئی لڑکی‘ کی برآمدگی سے متعلق تفصیلات جمعرات گیارہ جون کو ایک پیرس کانفرنس میں جاری کی جائیں گی۔

م م / ش ح (اے ایف پی)

DW.COM