پیدائش کے بعد اگلے حمل میں ڈیڑھ سے دو سال کا وقفہ مناسب ہے | صحت | DW | 30.10.2018
  1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages
اشتہار

صحت

پیدائش کے بعد اگلے حمل میں ڈیڑھ سے دو سال کا وقفہ مناسب ہے

خواتین کی عمر بڑھنے کے ساتھ ساتھ حمل کا ٹھہرنا کسی حد تک پیچیدگیوں کا باعث ہو سکتا ہے۔ تاہم معالجین نے تیس اور چالیس برس کے درمیان کی خواتین میں حمل کے درمیان اٹھارہ سے چوبیس ماہ کے وقفے کو مناب قرار دیا ہے۔

امریکی میڈیکل ایسوسی ایشن کے جریدے جاما (JAMA) میں شائع ہونے والی ایک تازہ ریسرچ رپورٹ کے مطابق سن 2004 سے سن 2014 کے درمیان پیدا ہونے والے بچوں کا وزن اس لیے کم رہا کہ پہلے بچے کی ولادت کے بعد اگلے حمل کے درمیان کم از کم ڈیڑھ سے دو برس کا وقفہ اختیار نہیں کیا گیا تھا۔ ریسرچ رپورٹ ڈیڑھ لاکھ حاملہ عورتوں کے ہاں ولادت کے حوالے سے جمع کیے گئے اعداد و شمار کی روشنی میں مرتب کی گئی ہے۔

رپورٹ کے مطابق ڈیڑھ سال سے دو برس کا وقفہ کسی بھی بالغ عمر کی عورت میں حمل ٹھہرنے کے لیے ضروری ہے اور معالجین کا خیال ہے کہ تیس سے چالیس برس کی خواتین کو بچے کی ولادت میں اتنا وقفہ لانا بہت ضروری اور لازمی ہے کیونکہ دوسری صورت میں حمل کے قیام کے دوران ’میٹرنل‘ پیچیدگیاں پیدا ہو سکتی ہیں۔ کینیڈا کی برٹش کولمبیا یونیورسٹی کے پروفیسر لارا شومرز نے اس رپورٹ کو مرتب کیا ہے۔

لارا شومرز کا کہنا ہے کہ پینتیس برس یا اِس سے زائد عمر کی خواتین بچے کی پیدائش چاہتی ہیں تو اس میں خطرات اور پیچیدگیوں کے امکانات زیادہ ہوتے ہیں جب کہ اس حد سے کم عمر کی خواتین میں بعض ’میٹرنل‘ پیچیدگیوں کا پیدا ہونا کم ہوتا ہے۔ انہوں نے یہ ضرور واضح کیا کہ بیس سے چونتیس برس تک کی خواتین میں حمل کے دوران بچے کی نشو و نما اور پیدائش کے عمومی خطرات اپنی جگہ پر موجود رہتے ہیں۔

ریسرچر لارا شومرز کا کہنا ہے کہ پینتیس یا اس سے زائد عمر کی خواتین میں ایک بچے کی ولادت کے بعد اگلےِ حمل کے تیسرے، چھٹے اور نویں مہینے میں ’میٹرنل‘ پیچییدگیوں کا پیدا ہونا ایک یقینی امر قرار دیا جا سکتا ہے۔ انہوں نے بیس سے چونتیس برس تک کی خواتین میں حمل کے درمیانی وقفے کو بارہ سے اٹھارہ ماہ تک رکھنے کو بھی مناسب خیال کیا۔

لارا شومرز کی رپورٹ میں واضح کیا گیا کہ کسی بھی خاتون میں ایک بچے کی ولادت کے چھ ماہ بعد جو حمل ٹھہرتا ہے، وہ کسی حد تک کمزور ہو سکتا ہے اور انسٹھ فیصد ایسے حمل کا ضائع ہونا ممکن ہے۔

DW.COM