پھر ایک فرسودہ روایت ایک خاتون کی جان لے گئی | وجود زن | DW | 04.02.2019
  1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages
اشتہار

وجود زن

پھر ایک فرسودہ روایت ایک خاتون کی جان لے گئی

نیپال میں حیض سے جڑی فرسودہ رسم، چوپاڈی  کے باعث ایک اکیس سالہ لڑکی اپنی جان کھو بیٹھی۔ سردی سے بچنے کے لیے لگائی گئی آگ اس خاتون کی جان لے گئی۔

نیپال کے مغربی حصے کے علاقے دوتی میں ایک خاتون نے حیض کے دوران ایک خالی گھر کے تہہ خانے میں رہنے کا فیصلہ اس لیے کیا کیوں کہ خواتین کے لیے بنائی گئی عارضی رہائش گاہ میں بہت زیادہ رش تھا۔ اس خاتون نے حیض کے چوتھے دن رات کی شدید ٹھنڈ سے بچنے کے لیے آگ جلائی تھی۔ لیکن آگ سے نکلنے والے دھواں کے باعث یہ خاتون دم توڑ گئی۔

دوتی کے پولیس افسر لالہ بہادر دھامی کا کہنا ہے،’’ ایسا لگتا ہے جیسے یہ خاتون دم گھٹنے سے ہلاک ہوئی، لیکن مزید تفصیلات طبی رپورٹ آنے کے بعد پتا چلیں گی۔‘‘ یہ عورت اپنی ساس کے ساتھ رہتی تھی۔ اس کا شوہر روزگار کے سلسلے میں ملائیشیا میں رہائش پذیر ہے۔

تین ہفتے قبل ایک اور خاتون اور اس کے دو بچے اسی طرح دھویں کے باعث دم گھٹنے سے ہلاک ہو گئے تھے۔ نیپال کے کئی علاقوں میں چوپاڈی کی رسم بہت عام ہے۔ اس رسم میں حیض کے دوارن خواتین کو ناپاک تصور کیا جاتا ہے اور وہ ان دنوں گھر سے باہر رہنے پر مجبور ہوتی ہیں۔ بعض علاقوں میں ایسی جگہ تعمیر کی جاتی ہے جہاں خواتین مشترکہ طور پر رہ سکتی ہیں لیکن بعض علاقوں میں خواتین کو حیض کے دوران تنہا رہنا پڑتا ہے۔ ماضی میں ایسے کئی واقعات پیش آ چکے ہیں جب خواتین کو کسی جنگلی جانور کے حملے نے ہلاک کر دیا تھا یا پھر وہ شدید سردی یا گرمی کے باعث اپنی جان کھو بیٹھیں۔

 اگرچہ اس فرسودہ روایت پر سرکاری طور پر پابندی عائد ہے اور 2017ء میں اسے قابل سزا جرم قرار دیا گیا تھا لیکن سخت نظریات کے حامل ہندو مذہب کو ماننے والے کچھ خاندان اس رسم کو ختم کرنے کے خلاف ہیں۔

 

DW.COM

ملتے جلتے مندرجات