’پگڑی کی توہین‘ پر پانچ مسلمانوں کے خلاف مقدمہ شروع | حالات حاضرہ | DW | 03.05.2016
  1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

’پگڑی کی توہین‘ پر پانچ مسلمانوں کے خلاف مقدمہ شروع

پاکستان میں ایک سکھ شہری کی جانب سے ’پگڑی‘ کی توہین کرنے پر پانچ مسلمانوں کے خلاف درج کرائے گئے توہین مذہب کے مقدمے کی کارروائی شروع ہو گئی ہے۔ یہ واقعہ ایک بس کی آمد کی تاخیر پر ہونے والے ایک جھگڑے میں پیش آیا۔

default

خبر رساں ادارے اے ایف پی کے مطابق 29 سالہ مہندر پال سنگھ نے یہ مقدمہ اتوار کے روز فیصل آباد سے ملتان سفر کرتے ہوئے بس میں پیش آنے والے ایک جھگڑے کے بعد درج کرایا ہے۔ پاکستانی صوبہ پنجاب کے شہر چیچہ وطنی کے پولیس افسر عبدالستار نے اے ایف پی کو بتایا، ’’اس مقدمے میں پانچ لوگوں کو گرفتار کیا گیا ہے۔‘‘

پاکستان میں رائج توہین مذہب کے قانون کے مطابق کسی بھی مذہب یا مذہبی شخصیات کی توہین کرنے والے کو موت کی سزا تک بھی ہو سکتی ہے۔ مسلم اکثریتی ملک پاکستان میں توہین مذہب کا معاملہ انتہائی نازک سمجھا جاتا ہے جہاں بعض اوقات غیر تصدیق شدہ واقعات یا محض الزامات ہی لوگوں میں غم و غصے کا باعث بن سکتے ہیں جس کے نتیجے میں بھی تشدد بھی پھوٹ سکتا ہے۔

اے ایف پی نے پنجاب پولیس کے حوالے سے بتایا ہے کہ جن پانچ مسلمانوں پر سکھ پگڑی کی توہین کا الزام عائد کیا گیا ہے انہیں آج منگل تین مئی کو چیچہ وطنی کی ایک عدالت میں پیش کیا گیا ہے۔

پاکستان میں توہین مذہب کا معاملہ انتہائی نازک سمجھا جاتا ہے

پاکستان میں توہین مذہب کا معاملہ انتہائی نازک سمجھا جاتا ہے

مہندر پال سنگھ کے مطابق جھگڑا اُس وقت شروع ہوا جب اس نے اور دیگر مسافروں نے بس خراب ہونے پر شکایت کی۔ خبر رساں ادارے اے ایف پی سے گفتگو کرتے ہوئے سنگھ کا کہنا تھا، ’’بس کمپنی کے اسٹاف نے بدتمیزی کی، مجھے دھکے دیے اور میری پگڑی کو، جو بہت مقدس ہے اتار کر پھینک دیا۔‘‘ اس کا مزید کہنا تھا، ’’انہوں نے ہمارے مذہبی نشان کی توہین کی ہے لہٰذا میں نے ان کے خلاف توہین مذہب کا مقدمہ درج کرانے کا فیصلہ کیا۔‘‘

خبر رساں ادارے اے ایف پی کے مطابق پاکستان میں رائج توہین مذہب کے قوانین پر انسانی حقوق کے گروپوں کی طرف سے تنقید کی جاتی ہے۔ ان گروپوں کا کہنا ہے کہ ان قوانین کو لوگ اپنے ذاتی جھگڑے نبٹانے کے لیے غلط استعمال کرتے ہیں۔