پوپ کا بنیادی آزادیوں کے احترام کا مطالبہ | NRS-Import | DW | 29.03.2012
  1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

NRS-Import

پوپ کا بنیادی آزادیوں کے احترام کا مطالبہ

کلیسائے روم کے سربراہ پوپ بینیڈکٹ شانزدہم نے بنیادی آزادیوں کے احترام کے مطالبے کے ساتھ اپنا تین روزہ دورہء کیوبا مکمل کر لیا ہے۔

دنیا بھر میں کیتھولک مسیحیوں کے مذہبی رہنما نے کیوبا سے روانگی سے پہلے اپنے اس مطالبے کے ساتھ اس جزیرہ ریاست کی کمیونسٹ حکومت سے تسلسل کے ساتھ کی جانے والی اپنی اس اپیل کو دہرایا کہ حکمرانوں کو بالآخر ملک میں تبدیلی کو ممکن بننے دینا ہو گا۔

ہوانا سے آمدہ رپورٹوں میں بتایا گیا ہے کہ پاپائے روم نے بدھ کے روز کیوبا کے دارالحکومت کے انقلاب چوک میں ایک کھلی مذہبی تقریب کی قیادت کرنے کے بعد قریب آدھ گھنٹے کے لیے انقلابی رہنما اور 85 سالہ سابق صدر فیڈل کاسترو سے ملاقات بھی کی۔

Papst Benedikt XVI. mit Fidel Castro

ہوانا میں پوپ نے انقلابی رہنما فیڈل کاسترو سے بھی ملاقات کی

بعد میں 84 سالہ بینیڈکٹ شانزدہم نے شہر کے ہوائی اڈے پر اس دورے کے دوران آخری مرتبہ کچھ دیر کے لیے منظر عام پر آتے ہوئے اپنا یہ پیغام دہرایا کہ کسی بھی انسان کو اس کی بنیادی آزادیوں سے محروم نہیں کیا جانا چاہیے۔

اس موقع پر ملکی صدر راؤل کاسترو کی موجودگی میں پوپ نے کہا کہ انہیں امید ہے کہ ’خدا کی روشنی‘ کیوبا کو ایک ایسا معاشرہ بننے میں مدد دے گی جہاں ‘مصالحت نظر آئے اور وسیع تر بصیرت کا احیاء ممکن ہو۔‘ پوپ نے دعا مانگتے ہوئے کہا، ’خدا کرے کہ کوئی بھی یہ محسوس نہ کرے کہ وہ اس لیے اپنی ذمہ داریاں پوری نہیں کر سکتا کہ اس کی بنیادی آزادیاں محدود کر دی گئی ہیں۔‘

پوپ نے علامتی طور پر کیوبا کے ان جلاوطن شہریوں کا حوالہ بھی دیا جن کی اکثریت امریکہ میں رہائش پذیر ہے۔ انہوں نے امید ظاہر کی کہ کیوبا ایک دن کیوبا کے تمام باشندوں کا ایک ایسا گھر ہو گا جہاں اخوت کے ماحول میں انصاف اور آزادی بیک وقت پائے جاتے ہوں۔

ہوانا کے ہوائی اڈے پر واپس ویٹیکن کے لیے رخصتی سے قبل پوپ بینیڈکٹ شانزدہم نے اپنے بیان میں ان امریکی پابندیوں کو بھی تنقید کا نشانہ بنایا جو واشنگٹن نے قریب نصف صدی پہلے کیوبا کے خلاف عائد کی تھیں۔ انہوں نے کہا کہ ملک کے باہر سے لگائی جانے والی اقتصادی پابندیاں کیوبا کے عوام کے لیے غیر منصفانہ بوجھ ثابت ہو رہی ہیں۔

قبل ازیں ہوانا کے انقلاب اسکوائر میں قریب تین لاکھ افراد کے اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے کلیسائے روم کے سربراہ نے کہا کہ کیوبا اور دنیا کو تبدیلی کی ضرورت ہے۔ لیکن یہ تبدیلی اسی صورت میں ممکن ہو سکے گی جب ہر کوئی اپنے لیے اخوت اور مصالحت کا راستہ اختیار کرنے کی حالت میں ہو۔

پاپائے روم نے اپنا میکسیکو اور کیوبا کے دوروں کے لیے سفر چھ روز پہلے شروع کیا تھا۔ اس سفر کے آخری روز وہ کچھ تھکے ہوئے دکھائی دے رہے تھے۔ انہوں نے کہا کہ کیوبا کے باشندوں کو انسانیت کے بنیادی وقار کے مکمل احترام کو یقینی بنانا ہو گا۔ پوپ نے کیوبا میں اس مذہبی آزادی کی بھی خاص طور پر تعریف کی جس کا حق ہوانا حکومت نے عوام کو 1998 میں دیا تھا۔

کیوبا کی قریب 11 ملین کی آبادی میں کیتھولک مسیحیوں کا تناسب تقریباﹰ 10 فیصد بنتا ہے۔ 1998 تک یہ ریاست سرکاری طور پر ایک لادین ریاست تھی لیکن پھر حکومت نے عوام کو مذہبی آزادی دے دی جس کے بعد سے وہاں کلیسا کو بہت زیادہ اہمیت حاصل ہو چکی ہے۔

رپورٹ: مقبول ملک

ادارت: عطف توقیر

اشتہار