پوٹن کا دورہ یونان ’’ایتھنز کو بہت سی امیدیں‘‘ | حالات حاضرہ | DW | 27.05.2016
  1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

پوٹن کا دورہ یونان ’’ایتھنز کو بہت سی امیدیں‘‘

یونان کے دارالحکومت ایتھنز میں جمعے کے دن ہر جانب سلامتی کے اداروں کے اہلکار دکھائی دے رہے ہیں۔ یہ روسی صدر ولادی میر پوٹن کی یونان آمدکی تیاری ہے۔ اس دورے کے دوران سپراس اور پوٹن مختلف موضوعات پر بات کریں گے۔

روسی صدر ولادی میر پوٹن کے اس دورے سے ایتھنز حکومت کو امید ہے کہ ماسکو کے ساتھ نئے تجارتی اور توانائی کے معاہدے طے پائیں گے۔ سیاحت سے قطعِ نظر یونانی معیشت کے ساتھ روسی ربط ضبط نہ ہونے کے برابر ہے حالانکہ گزشتہ برسوں کے دوران متعدد معاہدے بھی ہوئے ہیں لیکن ان پر عمل درآمد نہ ہو سکا ۔ روسی صدر ایک ایسے موقع پر یونان کا یہ دورہ کر رہے ہیں، جب جاپان میں ختم ہونے والے جی سیون اجلاس کے اختتامیے میں ماسکو حکومت کے خلاف نئی اقتصادی پابندیاں عائد کیے جانے کی دھمکی دی گئی ہے۔ ترقی یافتہ سات ممالک کے سربراہاں نے کہا ہے کہ اگر روس نے مشرقی یوکرائن کے حالات کو بہتر بنانے کے لیے کرادار ادا نہ کیا تو اسے مزید پابندیوں کے لیے تیار رہنا چاہیے۔

یونانی سرکاری ذرائع کے مطابق وزیر اعظم الیکسس سپراس اور پوٹن اقتصادی تعاون، توانائی، جنوبی بحیرہ روم کے مسائل کے علاوہ روس کے یورپی یونین اور نیٹو کے ساتھ تعلقات کے موضوعات پر تبادلہ خیال کریں گے۔ پوٹن نے ایتھنز روانہ ہونے سے قبل اپنے ایک انٹرویو میں کہا کہ دونوں ممالک کے باہمی تعلقات گہرے ہیں۔ ماہرین کہتے ہیں روس اور یونان کے باہمی روابط بہتر ہیں اور انہیں مزید فروغ دیا جا سکتا ہے۔

اس سے قبل پوٹن نو سال پہلے ایتھنز آئے تھے۔ اُس موقع پر کریملن کے سربراہ اور اس وقت کے یونانی سربراہ ممالکت کوستاس کارامانلس نے ایک ایسے پائپ لائن منصوبے پر اتفاق کیا تھا، جس کے ذریعے روسی خام تیل بلغاریہ سے ہوتا ہوا وسطی یورپ تک پہنچایا جانا تھا۔ ساؤتھ اسٹریم پائٹ لائن کا یہ منصوبہ یورپی کمیشن کے مسابقت کے ضوابط پر پورا نہ اترنے کی وجہ سے ناکام ہو گیا تھا۔

تاہم اب یونان ٹرانس آدریا پائپ لائن منصوبے کا حصہ ہے، جو روس کے قریب سے گزرے گی۔ اس کے ذریعے آذربائیجان کا خام تیل یورپ کو پہنچایا جائے گا۔ دو روزہ دورے کے دوران پوٹن یونان کے خود مختار پہاڑی علاقے ’کوہ آتھوس‘ بھی جائیں گے، جو آرتھوڈوکس کرسچینز کا مرکز ہے۔