پوٹن اور ٹرمپ کے مابین پہلا رابطہ ہفتے کو متوقع | حالات حاضرہ | DW | 27.01.2017
  1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

پوٹن اور ٹرمپ کے مابین پہلا رابطہ ہفتے کو متوقع

ماسکو حکومت نے بتایا ہے کہ روسی صدر ولادیمیر پوٹن نئے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ سے ہفتے کے دن ٹیلی فون پر بات کر سکتے ہیں۔ ٹرمپ کی طرف سے عہدہ صدارت سنبھالنے کے بعد ان دونوں رہنماؤں کا یہ پہلا رابطہ ہو گا۔

خبر رساں ادارے اے ایف پی نے ستائیس جنوری بروز جمعہ کریملن کے حوالے سے بتایا ہے کہ متوقع طور پر روسی صدر ولادیمیر پوٹن ہفتے کے دن امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ سے ٹیلی فون پر بات چیت کر سکتے ہیں۔ اگر یہ دونوں رہنما رابطہ کرتے ہیں تو بیس جنوری کو صدر کا حلف اٹھانے والے ٹرمپ کا پوٹن کے ساتھ یہ پہلا سرکاری رابطہ ہو گا۔
امریکی انتخابات میں مداخلت کے احکامات خود پوٹن نے دیے؟

امریکی سفارتکاروں کو جواباً بیدخل نہیں کریں گے، روسی صدر

ہیکنگ کا امریکی الزام اپنے عوام کو ’گم راہ کرنے کی کوشش‘ ہے

روسی نیوز ایجنسی RIA نے بتایا ہے کہ امریکی نشریاتی ادارے سی این این کے ایک نمائندے کے ایک سوال کے جواب میں کریملن کے ترجمان دیمتری پیسکوف نے تصدیق کی ہے کہ دونوں صدور کا رابطہ ہو سکتا ہے۔ قبل ازیں روسی حکومت نے کہا تھا کہ ابھی تک معلوم نہیں ہے کہ پوٹن اور ٹرمپ کب رابطے کریں گے۔

ٹرمپ کی طرف سے گزشتہ برس کے امریکی صدارتی انتخابات میں کامیاب ہونے کے بعد نومبر میں روسی صدر پوٹن نے ٹرمپ کو ٹیلی فون کیا تھا۔ اس مبارکبادی ٹیلی فون کے دوران دونوں رہنماؤں نے اتفاق کیا تھا کہ امریکا اور روس کے باہمی تعلقات کو بہتر بنانے کی خاطر اقدامات اٹھائے جائیں گے۔ کریمیا کے بحران کی وجہ سے واشنگٹن اور ماسکو کے مابین کشیدگی میں اضافہ ہو گیا تھا۔

یہ امر اہم ہے کہ امریکی صدارتی انتخابات کی مہم کے دوران ڈیموکریٹک پارٹی اور صدارتی امیدوار ہلیری کلنٹن نے ٹرمپ پر الزام عائد کیا تھا کہ وہ روسی صدر پوٹن کی ’کٹھ پتلی‘ ہیں۔ الیکشن کے بعد ایسے الزامات بھی عائد کیے گئے کہ روسی ہیکرز نے ہلیری کلنٹن اور ڈیموکریٹ پارٹی کے کمپیوٹرز ہیک کیے اور انہوں نے عوامی رائے پر اثرانداز ہوتے ہوئے ٹرمپ کو جتوانے کی کوشش کی۔

گزشتہ برس دسمبر میں اس تناظر میں سابق امریکی صدر باراک اوباما کی انتظامیہ نے روس پر پابندیاں بھی عائد کی تھیں۔ تاہم روس ان الزامات کو مسترد کرتا ہے، اسی طرح ٹرمپ بھی کہتے ہیں کہ ان کی کامیابی میں ماسکو کا ہاتھ نہیں بلکہ عوام نے انہیں اپنا نمائندہ چنا ہے۔ ٹرمپ اپنے دور اقتدار میں روسی حکومت کے ساتھ تعلقات میں بہتری کا عندیہ بھی دے چکے ہیں۔

DW.COM