پولیس افسران کے ساتھ سلوک پر میں شرمندہ ہوں، بلاول بھٹو | حالات حاضرہ | DW | 20.10.2020
  1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages
اشتہار

حالات حاضرہ

پولیس افسران کے ساتھ سلوک پر میں شرمندہ ہوں، بلاول بھٹو

کیپٹن ریٹائرڈ محمد صفدر کی گرفتاری کے حوالے سے سندھ پولیس کی اعلیٰ کمان کے ساتھ متنازعہ سلوک کا معاملہ سنگین صورت اختیار کرگیا ہے۔ آئی جی سندھ پولیس سمیت اعلیٰ افسران نے چھٹیوں کی درخواست دے دی ہے۔

بلاول بھٹو زرداری نے کہا کیپٹن ریٹائرڈ صفدر کی گرفتاری کے معاملے نے انہیں کہیں منہ دکھانے کے قابل چھوڑا۔ دوسرا طرف پاکستانی فوج کے سربراہ جنرل قمر جاوید باجوہ نے بھی کراچی واقعے کا نوٹس لے لیا ہے۔

سینئر پولیس افسران کی طرف سے چھٹی کی درخواستیں

سندھ کے محکمہ پولیس کے انسپکٹر جنرل مشتاق مہر سمیت کئی افسران نے ایک ساتھ دو ماہ کی چھٹی پر جانے کا فیصلہ کیا ہے۔ ماضی میں کبھی ایسا نہیں ہوا کہ اتنی بڑی تعداد میں پولیس فورس کے اعلیٰ ترین افسران نے ایک ساتھ چھٹیوں کے لیے درخواست دی ہو۔ ذرائع کا کہنا ہے گزشتہ روز کیپٹن (ر) محمد صفدر کی گرفتاری کے واقعے کے بعد پولیس فورس میں مایوسی پیدا ہوئی ہے۔ چھٹی پر جانے والوں میں آئی جی سندھ مشتاق مہر، ایڈیشنل آئی جی کراچی غلام نبی میمن، ایڈیشنل آئی جی اسپیشل برانچ عمران یعقوب منہاس، ڈی آئی جی ساوتھ، ڈی آئی جی ایسٹ، ڈی ائی جی سی ٹی ڈی سمیت متعدد ڈی آئی جیز نے بھی چھٹی کی درخواستیں ارسال کر دی ہیں ۔

Pakistan Oppositionsparteien in Gujranwala

مسلم لیگ (ن) کی نائب صدر مریم نواز پاکستان ڈیموکریٹک موومنٹ (پی ڈی ایم) کے جلسے میں شرکت کے لیے 18 اکتوبر کو کراچی آئی تھیں۔


ذرائع کا یہ بھی کہنا ہے کہ ایڈیشنل آئی جی اسپیشل برانچ عمران یعقوب منہاس نے اپنی درخواست میں یہ موقف اپنایا ہے کہ اعلیٰ پولیس افسران کی بے عزتی کی گئی ہے۔ انہوں نے مزید لکھا کہ اس تمام معاملے میں پولیس کو نہ صرف دھچکہ لگا بلکہ فورس کا مورال بھی ڈاؤن ہوا اور وہ شدید دباؤ کی صورتحال میں پروفیشنل ذمے داریاں ادا کرنے سے قاصر ہیں اور اس دباؤ سے نکلنے کے لیے انہیں 60 روز کی رخصت درکار ہے۔

مزارِ جناح پر نعرے بازی، کیپٹن صفدر گرفتار

مزار قائد پر کیپٹن (ر) صفدر کا عمل، قانونی طور پر کتنی سزا

کہیں منہ دکھانے کے قابل نہیں چھوڑا، بلاول بھٹو

کراچی میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے کہا کہ مریم نواز کے شوہر کیپٹن ریٹائرڈ صفدر کی گرفتاری نے انہیں کہیں منہ دکھانے کے قابل نہیں چھوڑا۔ انہوں نے کہا آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ اور ڈی جی آئی ایس آئی جنرل فیض حمید سے کہیں گے کہ وہ اپنے اداروں سے اس کی تحقیقات کرانے کا حکم دیں۔
دوسری طرف پاکستان فوج کے شعبہ تعلقات عامہ آئی ایس پی آر کے مطابق آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ نے کراچی واقعے کا نوٹس لیتے ہوئے تحقیقات کا حکم دے دیا ہے۔

وزیراعلی سندھ کا معاملے پر انکوائری کمیشن

سینئر پولیس افسران کے چھٹی پر جانے کے فیصلے سے قبل وزیراعلیٰ سندھ  مراد علی شاہ وزیراعلیٰ ہاؤس میں پریس کانفرنس کی۔ انہوں نے کیپٹن ریٹائرڈ صفدر کے واقعے پر وزارتی کمیٹی بنانے کا اعلان کیا۔ ان کا کہنا تھا وفاقی وزراء کی جانب سے کیپٹن صفدر کے خلاف مقدمے کے لیے پولیس پر دباؤ ڈالا گیا اوراس سازش کو ایسے نہیں چھوڑا جائے گا اور اس کی مکمل انکوائری کی جائے گی۔

کیپٹن ریٹائرڈ محمد صفدر کی گرفتاری

واضح رہے کہ مسلم لیگ (ن) کی نائب صدر مریم نواز پاکستان ڈیموکریٹک موومنٹ (پی ڈی ایم) کے جلسے میں شرکت کے لیے 18 اکتوبر کو کراچی آئی تھیں۔ اس دوران انہوں نے سب سے پہلے مزارِ قائد پر حاضری دی اور فاتحہ خوانی بھی کی تھی۔ تاہم فاتحہ کے بعد مریم نواز کے شوہر کیپٹن (ر) محمد صفدر نے مزار قائد میں سیاسی نعرے بازی کی تھی۔ جس کے بعد ایک شہری وقاص احمد کی جانب سے اس معاملے میں کیپٹن محمد صفدر کے خلاف مقدمہ درج کروایا گیا تھا جس میں مزارِ قائد کی بے حرمتی سے متعلق دفعات شامل کی گئی تھیں اور مقدمے کے اندراج سے متعلق متعدد افواہیں بھی گردش کرتی رہیں کہ آئی جی سندھ پولیس پر کیپٹن صفدر کے خلاف مقدمہ درج کروانے  کے لیے دباؤ تھا۔