’پوتے کی پیدائش، مردہ بیٹے کا نطفہ استعمال نہیں کیا جا سکتا‘ | معاشرہ | DW | 05.12.2019
  1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages
اشتہار

معاشرہ

’پوتے کی پیدائش، مردہ بیٹے کا نطفہ استعمال نہیں کیا جا سکتا‘

ماں اپنے مردہ بیٹے کے فریز کیے گئے سپرمز اسرائیل لے جانا چاہتی تھی تاکہ ان سپرمز سے ایک پوتے یا پوتی کی پیدائش کو ممکن بنایا جا سکے۔ لیکن عدالت کے مطابق اولاد پیدا کرنے کا حق کسی اور کو منتقل نہیں کیا جا سکتا۔

یورپی عدالت برائے انسانی حقوق (ای سی ایچ آر) نے جمعرات کو اپنا فیصلہ سناتے ہوئے کہا ہے کہ پیٹھتری لینزمین نامی خاتون کو اپنے مردہ بیٹے کے فریز کیے گئے سپرمز سے ایک بچہ پیدا کرنے کی اجازت نہیں دی جا سکتی۔ پیٹھتری لینزمین کا کہنا تھا کہ وہ اپنے مردہ بیٹے کے فریز کیے گئے سپرمز اس وجہ سے ایک اسرائیلی ہسپتال لے جانا چاہتی ہیں تاکہ وہ اپنے بیٹے کی اُس آخری خواہش کو پورا کر سکیں، جو اس نے اپنی وفات سے پہلے کی تھی۔ اس کی خواہش ایک باپ بننے کی تھی۔

اسرائیلی کلینک کو تولیدی معاملات میں معاونت فراہم کرنے کی حکومت نے اجازت فراہم کر رکھی ہے۔ اس فرانسیسی خاتون کا بیٹا سن دو ہزار سترہ میں کینسر کی وجہ سے انتقال کر گیا تھا۔ اس کے بعد پیٹھتری لینزمین نے حکام سے درخواست کی تھی کہ اسے اپنے بیٹے کے سپرمز اسرائیل لے جانے کی اجازت دی جائے، جسے مسترد کر دیا گیا تھا۔

یورپی عدالت برائے انسانی حقوق کے تمام ججوں نے مشترکہ طور پر یہ فیصلہ سنایا ہے کہ والد یا والدہ بننے کا حق ہر ایک کا ذاتی حق ہے اور اولاد کی پیدائش کے حوالے سے کوئی دوسرا شخص اس حق کو استعمال نہیں کر سکتا۔ فیصلے میں مزید یہ بھی کہا گیا ہے کہ وفات پا جانے والے بیٹے کی صرف خواہش کی بنیاد پر پیٹھتری لینزمین کو دادی بننے کی اجازت فراہم نہیں کی جا سکتی۔

کیس کا پس منظر

پیٹھتری لینزمین کے بیٹے کو سن دو ہزار چودہ میں کینسر ہوا تھا۔ اس کے کچھ ہی دیر بعد اس نے اس خواہش کا اظہار کیا تھا کہ وہ ایک والد بننا چاہتا ہے اور اس مقصد کے لیے اس نے اپنے سپرمز کو پیرس کے ایک ہسپتال میں فریز کروا دیا تھا۔ اس کے مرنےکے بعد سن دو ہزار سترہ میں اس کی والدہ نے فرانس کی دو عدالتوں سے رابطہ کیا کہ وہ یہ سپرمز اسرائیل کے ایک مخصوص ہسپتال میں منتقل کرنا چاہتی ہیں لیکن دونوں عدالتوں نے اس درخواست کو مسترد کر دیا۔ 

قبل ازیں فرانسیسی فرٹیلٹی کلینک کے انکار کے بعد پیٹھتری لینزمین نے عدالت میں یہ موقف اختیار کیا تھا کہ انہیں اس طرح ایک خاندانی زندگی گزارنے کے حق سے محروم کیا جا رہا ہے۔ پیٹھتری لینزمین نے اپنی درخواست میں مزید کہا تھا کہ وہ دادی بننے کی حقدار ہیں اور ان کے بیٹے کی آخری خواہش کا احترام کیا جانا لازمی ہے۔ 

ا ا / ش ح