پناہ کے قوانين ميں تراميم مہاجرين کے ليے کيا معنی رکھتی ہيں؟ | مہاجرین کا بحران | DW | 14.01.2018
  1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

مہاجرین کا بحران

پناہ کے قوانين ميں تراميم مہاجرين کے ليے کيا معنی رکھتی ہيں؟

جرمن حکومت اس بارے ميں فکرمند ہے کہ يورپی يونين کے سياسی پناہ سے متعلق قوانين ميں مجوزہ تراميم کی منظوری کی صورت ميں مستقبل ميں کہيں زيادہ تارکين وطن پناہ کے ليے جرمنی کا رخ کر سکتے ہيں۔

برلن حکومت کو خدشہ ہے کہ ڈبلن ريگوليشن ميں ترميم کے نتيجے ميں مہاجرين کی ايک بڑی تعداد جرمنی پہنچ سکتی ہے۔ اس بارے ميں رپورٹ جرمن اخبار ’ڈيئر اشپيگل‘ ميں ہفتہ تيرہ جنوری کو شائع ہوئی۔

ڈبلن ريگوليشن کے مطابق يورپی يونين کے رکن ملکوں ميں سياسی پناہ کے متلاشی افراد کو صرف اسی ملک ميں اپنی درخواست جمع کرانے کا اختيار حاصل ہے، جس ملک ميں وہ سب سے پہلے پہنچے ہوں۔ تاہم اگر يورپی پارليمان ميں مجوزہ ترميم منظور ہو جاتی ہے، تو اس کے نتيجے ميں پناہ کی درخواستيں اس ملک ميں جمع کرائی جا سکتی ہيں جن ميں متعلقہ تارک وطن کے رشتہ دار موجود ہوں۔ جرمن وزارت داخلہ کے ايک ميمو کے مطابق ’ايسی ترميم کے نتيجے ميں جرمنی کو کہيں زيادہ پناہ گزينوں کو جگہ دينی پڑے گی۔‘ وزارت کا يہ بھی کہنا ہے مجوزہ قوانين کے مطابق، ملک ميں مہاجرين کی اوپری حد بھی مقرر نہيں کی جا سکے گی۔ ڈبلن ريگوليشن اور سياسی پناہ سے متعلق ديگر قوانين ميں تراميم  کا مسودہ پچھلے سال نومبر ميں يورپی پارليمان ميں پيش کيا گيا تھا۔ اس کی توثيق يورپی کونسل نےکرنی ہے، جس کے ارکان رکن رياستوں کے حکومتی رہنما ہيں۔

جرمن وزارت داخلہ نے مجوزہ تراميم کے مسودے ميں ايک نکتے پر بالخصوص اپنے تحفظات کا اظہار کيا ہے، جو سياسی پناہ کے متلاشی افراد کے اہل خانہ کے بارے ميں ہے۔ اس کی منظوری کی صورت ميں جن ملکوں ميں مہاجرين آن بسے ہيں، ان ملکوں کی حکومتوں کی يہ ذمہ داری بھی ہو گی کہ وہ ديگر ملکوں ميں موجود ان کے اہل خانہ کو ان سے ملائيں۔ وزارت داخلہ کے پارليمانی اسٹيٹ سيکرٹری اولے شروڈر کا کہنا ہے کہ اگر سن 2015 سے اب تک تقريباً 1.4 ملين تارکين وطن نے جرمنی ميں سياسی پناہ کی درخواستيں جمع کرائيں، تو وہ تمام ہی افراد اپنے ديگر رشتہ داروں کے ليے ’اينکر پرسن‘ بن جاتے ہيں، تو ايک بہت بڑی تعداد کے بارے ميں بات ہو رہی ہے۔

جرمن سياسی جماعت کرسچيئن ڈيموکريٹک يونين کے سياستدان اسٹيفان مائر اور اسٹيفان ہاربارتھ نے زور دے کر کہا ہے کہ ان تراميم کے جرمنی پر کافی واضح اثرات مرتب ہوں گے۔

ویڈیو دیکھیے 04:06
Now live
04:06 منٹ

يورپ ميں بہتر مستقبل کی خواہش اور بھيانک حقيقت

Audios and videos on the topic

اشتہار