پشتون تحفظ موومنٹ کے رہنماؤں کی گرفتاری | حالات حاضرہ | DW | 06.01.2021
  1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages
اشتہار

حالات حاضرہ

پشتون تحفظ موومنٹ کے رہنماؤں کی گرفتاری

کراچی میں پشتون تحفظ مومنٹ کے اہم رہنماء اور قومی اسمبلی کے رکن علی وزیر سمیت محمد بشیر مسید، نوراللہ ترین اور چار دیگر ارکان گرفتار کیے گئے ہیں۔

علی وزیر، رہنما پی ٹی ایم

علی وزیر، رہنما پی ٹی ایم

کراچی میں پشتون تحفظ مومنٹ کے اہم رہنماء اور قومی اسمبلی کے رکن علی وزیر سمیت محمد بشیر مسید، نوراللہ ترین اور چار دیگر ارکان گرفتار کیے گئے ہیں۔ پی ٹی ایم ذرائع کا دعویٰ ہے کہ اس تنظیم کے کُل 10 ارکان گرفتار ہوئے ہیں۔ علی وزیر کو پشاور میں گرفتار کیا گیا تھا جس کے بعد انہیں کراچی منتقل کیا گیا تھا۔

علی وزیر کی گرفتاری کے بعد پی ٹی ایم نے بنوں اور پھر ضلع خیبر کی باڑہ تحصیل میں جلسہ کیا۔ اس کے بعد تین مختلف مقامات پشاور، کوئٹہ اور اسلام آباد میں احتجاج کی کال دی گئی۔

پشاور کے احتجاج کے بعد میر کلام وزیر، محسن داوڑ اور سید عالم محسود پر ایف آئی آر کاٹی گئیں۔ سید عالم محسود اور روخان افغان جس کا اصل نام عبدالحق ہے ان کو بھی گرفتار کیا گیا۔ سید عالم محسود کو رات کی تاریکی میں پولیس نے ان کو گھر سے گرفتار کیا۔

شدت پسندی سے متاثرہ باڑہ کے علاقے میں پشتون تحفظ موومنٹ کا جلسہ

یہاں آ کر دیکھیں ہر طرف پی ٹی ایم نظر آئے گی، منظور پشتین

آج بدھ چھ جنوری کی شام کو پی ٹی ایم اراکین نے پشاور میں ایک پر امن احتجاج کیا جس کے اختتام پر پی ٹی ایم کے 30 پرامن مظاہرین کو گرفتار کیا گیا جن میں پی ٹی ایم کی مرکزی رہنماء ثنا اعجاز بھی شامل ہیں۔

ثناء اعجاز کی گرفتاری پر عوامی نیشنل پارٹی کے رہنماء ایمل ولی خان نے ٹوئیٹ کیا ہے کہ پرامن مظاہرین کو ٹارگٹ کرنا غیر قانونی اور غیر آئینی عمل ہے۔ پی ٹی ایم کے رہنما محسن داوڑ نے اپنے ٹوئیٹ میں اپنے ارکان کو پرامن رہنے کا کہا ہے۔

ملالہ یوسفزئی کے والد ضیاءالدین یوسفزئی نے ثناء اعجاز کی گرفتاری پر اپنے ٹوئیٹ میں لکھا ہے کہ ان کے اصل مطالبات کو ماننے کی بجائے جیل بھیجنا صحیح نہیں۔

پی ٹی ایم کے مرکزی رہنماء عبداللہ ننگیال نے ڈی ڈبلیو کو بتایا کہ ان کے 30 سے زیادہ ارکان کو بغیر کسی ایف آئی آر کے گرفتار کیا ہے کیونکہ وزیر داخلہ شیخ رشید نے چارج سنبھالتے ہی یہ کہا تھا کہ آرمی کے خلاف جو بات کرے گا انہیں ہم گھنٹوں میں گرفتار کریں گے: ''اس کٹھ پتلی وزیر داخلہ کو اس لیے رکھا گیا کہ سیاسی ورکروں کو دبایا جا سکے اور ان کی آوازوں کو دبایا جا سکے تاکہ جو اصل کام کرنے والے ہیں ان کی طرف کسی کی انگلی نہ اٹھے۔‘‘

Mohsin Dawar, Mitglied der Nationalversammlung Pakistan

پشاور کے احتجاج کے بعد محسن داوڑ، میر کلام وزیر اور سید عالم محسود پر ایف آئی آر کاٹی گئیں۔

ڈی ڈبلیو کو پشاور پولیس کے پی آر او عالم خان نے بتایا کہ پی ٹی ایم کے ارکان کی کوئی گرفتاری نہیں ہوئی ہے اور ثناء اعجاز کی گرفتاری بھی نہیں ہوئی ہے۔

ڈی ڈبلیو کی طرف سے ثنا اعجاز کو باربار فون کرنے پر رابطہ نہیں ہوا جبکہ ان کے قریبی دوستوں اور ہمسایوں نے ان کی گرفتاری کی تصدیق کی۔

خیبر پختونخوا کی وزیراطلاعات کے ساتھ بار بار رابطہ کرنے کی کوشش کی گئی لیکن ان سے بات نہیں ہو سکی۔

پشتون تحفظ مومنٹ پر آرمی مخالف الزامات ہیں اور سابق ڈی جی آئی ایس پی آر جنرل عبدالغفور نے کہا تھا کہ پی ٹی ایم کے بعض مطالبات درست ہیں لیکن ساتھ ہی انہوں نے ان پر دشمن ممالک سے پیسے لینے کا الزام عائد کیا تھا تاہم اس کی تفصیل نہیں بتائی تھی۔ پاکستان کے آرمی چیف جنرل قمر باجوہ کہتے ہیں انہیں ہائبرڈ جنگ کا سامنا ہے جس میں ملک کے نوجوانوں کو ملک خلاف استعمال کیا جارہا ہے۔