پستے سے ماحول دوست شہر بسانے کا ترک پلان | سائنس اور ماحول | DW | 20.04.2014
  1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages
اشتہار

سائنس اور ماحول

پستے سے ماحول دوست شہر بسانے کا ترک پلان

ترکی میں خشک پھل ’پستے‘ کو گرین گولڈ یا سبز سونے سے تعبیر کیا جاتا ہے۔ ترکی کی ایک صوبائی حکومت اب اس خشک میوے کے استعمال سے ایک ایکو شہر بسانے کی منصوبہ بندی کر رہی ہے۔

ترکی کے علاوہ دنیا بھر میں پستے کو خشک میوہ جات میں ایک خاص مقام حاصل ہے۔ اقوامِ عالم میں سادہ اور نمکین پستے کئی لوگوں کو بہت مرغوب ہیں۔ ترک دسترخوان پر میٹھے میں بکلاوا سب سے اہم خیال کیا جاتا ہے۔ اس کی کئی قسمیں ہیں اور ہر ایک میں پستے کی موجودگی لازمی خیال کی جاتی ہے۔ اب ترکی کی ایک صوبائی حکومت پستے کے استعمال سے ایک ماحول دوست شہر کو آباد کرنے کی منصوبہ بندی کر رہی ہے۔

Deutschland Lebensmittel Gesundheit Pistazien Krebs

ترکی میں خشک پھل ’پستے‘ کو گرین گولڈ یا سبز سونے سے تعبیر کیا جاتا ہے۔

اس متوقع ایکو سٹی میں حدت کا ذریعہ پستے کی سخت بیرونی چھال ہو گی۔ پلان کے مطابق یہ نیا ماحول دوست اور ایکو سٹی ترکی کے قدیمی تاریخی آبادی کے حامل شہر غازی عنتاب سے گیارہ کلومیٹر کی مسافت پر آباد کرنے کا سوچا جا رہا ہے۔ غازی عنتاب اسی نام کے ترک صوبے کا صدر مقام بھی ہے۔ غازی عنتاب کا مقام ترک شہر آدانہ اور شامی شہر حلب کے درمیان میں ہے۔ عثمانی خلافت کے دور میں یہ شہر عین تاب کے نام سے مشہور تھا۔

غازی عنتاب دنیا بھر میں انتہائی لذیذ پستے کی پیداوار کا شہر تصور کیا جاتا ہے۔ اس شہر کے قرب و جوار میں پستے کے بڑے بڑے باغات ہیں۔ پستے کے علاوہ غازی عنتاب زیتون کی پیداوار اور تانبے کی صنعت کے لیے بھی اہم ہے۔ یہ شہر ترکی کی کل معیشت میں چار فیصد کا حصہ رکھتا ہے۔ اس شہر کی مقامی انتظامیہ سے وابستہ ماحول دوست ٹاؤن پلانر سیدا مُفتُو اوغلو گُلیج کا کہنا ہے کہ شہر میں پستے کی باہری چھال یا شیل کو محفوظ یا ضائع کرنا ایک بڑا مسئلہ بھی ہے اور اب اگر نئے ایکو سٹی کا سلسلہ شروع ہو جاتا ہے تو پستے کی سخت چھال نئے شہر کی توانائی کی ضرورت بن جائے گا۔

Baklava

ترک دسترخوان پر میٹھے میں بکلاوا سب سے اہم خیال کیا جاتا ہے

غازی عنتاب کی شہری انتظامیہ کا خیال ہے کہ نیا ایکو سٹی 32 سو ہیکٹرز پر بسایا جائے اور اس نئے شہر میں دو لاکھ افراد کی آبادکاری ممکن ہو سکے گی۔ اس شہر کو عالمی سطح پر سیاحتی سرگرمیوں کے لیے خاص طور پر وقف کیا جائے گا۔ اوغلو گلیج کا کہنا ہے کہ غازی عنتاب کے ارد گرد میں ہوا کی مسلسل ایک رفتار رہتی ہے اور اِس باعث نئے شہر کے لیے بجلی کی فراہمی ہوائی چکیوں کو نصب کرنے سے ممکن ہو گی۔ اس شہر میں سرد موسم میں حدت پستے کی سخت بیرونی چھال کو جلانے سے کر حاصل ہوگی۔

غازی عنتاب صوبے کی حکومت نئے ایکو سٹی کے حوالے سے کچھ اور مقامات پر بھی نگاہ رکھے ہوئے ہے۔ اوغلو گلیج جیسے ٹاؤن پلانر اس مناسبت سے اپنے شہر کو ایک مثالی مقام کے طور پر پیش کر رہے ہیں۔ بعض ماہرین کا خیال ہے کہ غازی عنتاب سے بہتر مقامات اور بھی ہیں۔ ان میں ایک جگہ ترک اور شامی سرحد کے قریب جنوب مشرقی علاقے کا وسیع رقبہ بھی ہے جو پستے کی پیداوار کے لحاظ سے غازی عنتاب سے بھی زیادہ اہم خیال کیا جاتا ہے۔ اس علاقے میں سالانہ بنیادوں پر ہزاروں ٹن پستہ دستیاب ہوتا ہے۔