’پریس فریڈم ڈے‘ اور پاکستان میں آزادی صحافت کی صورتحال | معاشرہ | DW | 03.05.2019
  1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages
اشتہار

معاشرہ

’پریس فریڈم ڈے‘ اور پاکستان میں آزادی صحافت کی صورتحال

آج پاکستان سمیت دنیا بھر میں آزادی صحافت کا عالمی دن منایا جا رہا ہے۔ اس موقع پر ڈی ڈبلیو اردو کی نمائندہ، مونا کاظم شاہ نے پاکستان میں آزادی صحافت کی صورتحال، پاکستانی صحافیوں سے جاننے کی کوشش کی ہے۔

تين مئی کو دنيا بھر ميں آزادی صحافت کا دن منايا جاتا ہے۔ اقوام متحدہ نے 1993ء میں اس دن کو آزادی صحافت کا دن قرار ديا تھا۔ اس دن کو منانے کا مقصد دنيا بھر ميں صحافيوں کے حقوق اور ان کی آزادی رائے کے تحفظ اور ایسے صحافيوں کو خراج تحسين پيش کرنا ہے جنہوں نے سچ کی تلاش ميں اپنی جانيں گنوا ديں۔

اس دن کی مناسبت سے ڈی ڈبليو اردو نے واشنگٹن ڈی سی ميں مقيم سينئير صحافی انور اقبال سے پاکستان ميں مقيم صحافيوں اور آزادی رائے کے حوالے سے بات کی۔ اس دن کی اہميت پر روشنی ڈالتے ہوئے انہوں نے کہا، ’’اس وقت پاکستان ميں بہت عجيب وغريب صورتحال ہے۔ ميں نے براہ راست ضياء الحق کے سينسرشپ کا دور بھی ديکھا ہے، جس ميں پورا اخبار سينسر کيا جاتا تھا۔ اس کے بعد بتدريج حالات بہتر ہوئے اور آزادی اظہار رائے کسی حد تک بحال ہوئی۔ ليکن اس وقت جس قسم کی سينسر شپ ہے وہ آمريت کے دور کی سينسر شپ سے بھی بدتر ہے۔ زمينی حقائق جھوٹ بولنے سے بدل نہيں سکتے۔‘‘

1971ء میں سقوط ڈھاکا کا حوالہ ديتے ہوئے انہوں نے کہا، ’’یحيٰی خان کے دور ميں جس وقت ہم ہتھيار ڈال چکے تھے اس وقت ہر اخبار ميں يہ خبر چلی تھی کہ جنگ ايک ہزار سال تک جاری رہے گی۔ آزادی صحافت پر قدغنيں لگانے سے دو چار دن آپ اپنا موقف دے سکتے ہيں مگر بالآخر سچائی آپ کو ماننا پڑتی ہے۔‘‘

انور اقبال نے دور آمريت اوردور حاضرکا موازنہ کرتے ہوئے مزید کہا کہ آج کل چينل يا ادارے کو سينسرشپ کے نام پرسزا کا مرتکب قرار ديا جاتا ہے جس کے نتيجے ميں بہت ساری ایسی چيزيں جو چھپنا چاہيے تھيں منظر عام پر نہيں آ پاتيں۔

پاکستانی صحافی اور ڈاکومنٹری فلمساز بينا سرور نے اس دن کی مناسبت سے ڈی ڈبلييو سے بات کرتے ہوئے کہا کہ اس قسم کے دن روز منانے چاہيیں کيونکہ معاشرے ميں صحافيوں کا کردار بہت اہميت کا حامل ہے، مگر کيونکہ ايسا ممکن نہيں اس ليے ہر سال اس دن کو منانے سے اندازہ ہوتا ہے کہ کہاں تبديلی لانے کی ضرورت ہے اور یہ اندازہ بھی ہوتا ہے کہ اس ايک سال ميں ہم نے کیا کھويا اور کيا پايا۔

صحافی معاشرے کو طاقتور بناتے ہيں کيونکہ کہاوت ہے کہ ’’معلومات میں طاقت ہے‘‘ اور صحافی آپ کو وہ طاقت ديتا ہے۔ بینا سرور کے مطابق، ’’سوشل ميڈيا کے اس دور ميں غيرجانبدارانہ رپورٹنگ کی ضرورت اور اہمييت اور بھی بڑھ گئی ہے اور اسی کے ساتھ صحافيوں کی ذمہ داری بھی۔‘‘

یوم آزادی صحافت کے حوالے سے پاکستان ميں مقيم صحافی شاہ زيب جيلانی نے ڈی ڈبلييو سے گفتگو کرتے ہوئے کہا، ’’اس بات میں کوئی شک نہیں کہ پاکستان میں حالیہ برسوں میں ریاست کی طرف سے صحافیوں کی زبان بندی کے لیے دباؤ بڑھتا گیا ہے۔ یہ پہلی بار نہیں ہو رہا کہ ریاست اپنی غلط پالیسوں پر نظر ثانی کرنے کی بجائے اپنی ناکامیوں کا غصہ صحافیوں اور صحافتی اداروں پر نکالتی نظر آتی ہے۔ میڈیا کو کنڑول کرنے کے لیے ہمارے آج کل کے حکمران سعودی عرب چین اور روس سے متاثر نظر آتے ہیں لیکن مسئلہ یہ ہے کہ ہمارے لوگوں کی اکثریت کا مزاج جمہوری ہے اور میڈیا پر شکنجہ کسنے سے ملک اندر سے کمزور ہوتا ہے۔ میرے خیال میں صحافیوں کی زبان بندی اور انہیں دھمکانے کی حالیہ روش ایک لمبی جدوجہد کا ایک کٹھن دور ہے لیکن یہ صورتحال زیادہ دیر قائم نہیں رہ سکتی۔‘‘

یاد رہے کہ گزشتہ دنوں ايف آئی اے نے شاہ زيب جیلانی کے خلاف سائبر ٹيررازم اور رياستی اداروں کو بدنام کرنے کے الزامات پر مقدمہ درج کيا تھا۔ تاثر ہے کہ يہ مقدمہ ان کے اور ان جیسے دیگر صحافیوں کی آزادی اظہار رائے اور آزادی صحافت پر دباؤ ڈالنے کے ليے کيا گيا ہے۔

ویڈیو دیکھیے 04:04

’آئی ايس پی آر کی معاشرے ميں شايد ضرورت سے زيادہ مداخلت ہے‘

ڈی ڈبلیو کے ایڈیٹرز ہر صبح اپنی تازہ ترین خبریں اور چنیدہ رپورٹس اپنے پڑھنے والوں کو بھیجتے ہیں۔ آپ بھی یہاں کلک کر کے یہ نیوز لیٹر موصول کر سکتے ہیں۔

 

DW.COM

Audios and videos on the topic