’پرویز الہی کی مسکراہٹ کو نظر انداز نہیں کیا جانا چاہیے‘ | حالات حاضرہ | DW | 24.01.2020
  1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages
اشتہار

حالات حاضرہ

’پرویز الہی کی مسکراہٹ کو نظر انداز نہیں کیا جانا چاہیے‘

پاکستان کے سب سے بڑے صوبے پنجاب میں وزیراعلٰی کی تبدیلی کے لیے دباؤ بڑھتا جا رہا ہے۔ نئے وزیر اعلٰی کے لیے سیاسی حلقوں میں درجن بھر ارکان اسمبلی کے نام گردش کر رہے ہیں۔

جمعہ 24 جنوری کو پاکستان مسلم لیگ نون کی رہنما عظمٰی بخاری نے وزیر اعلٰی پنجاب عثمان بزدار کے مستعفی ہونے کے حوالے سے ایک قرارداد با ضابطہ طور پر پنجاب اسمبلی میں جمع کرا دی ہے۔ ڈی ڈبلیو سے گفتگو کرتے ہوئے عظمی بخاری کا کہنا تھا کہ عثمان بزدار کی حکومت آٹھ ووٹوں پر کھڑی تھی: ''اب ان کے اتحادی بھی ناراض ہو چکے ہیں۔ آٹے اور چینی کے بحران کے بعد ٹرانسپیرنسی انٹرنیشنل کی تازہ رپورٹ نے بھی وزیر اعلٰی عثمان بزدار کی نا اہلی پر مہر تصدیق ثبت کر دی ہے۔ اس لیے اب ان کا جانا لازمی ہو چکا ہے۔‘‘

ایک سوال کے جواب میں ان کا کہنا تھا کہ پنجاب کا آئندہ وزیر اعلٰی پاکستان تحریک انصاف سے نہیں ہوگا کیونکہ وزیراعظم عمران خان اپنی پارٹی کے ایک گروپ کا وزیراعلٰی بنا کر دوسرے گروپ کی مخالفت مول لینے کے متحمل نہیں ہوسکتے۔ ان کے مطابق اگر پاکستان مسلم لیگ قاف پی ٹی آئی کے اتحاد سے باہر نکل آئے تو پھر ان سے آئندہ وزیر اعلٰی پنجاب کے حوالے سے حمایت کے مسئلے پر بات ہو سکتی ہے۔

دوسری طرف اطلاعات ہیں کہ پنجاب میں عثمان بزدار کی حکومت کے خاتمے کے لیے مسلم لیگ نون کے صدر شہباز شریف نے گرین سگنل دے دیا ہے اور اس ضمن میں مسلم لیگ نون کی پالیمانی پارٹی کا مشاورتی اجلاس پیر 27 جنوری کو طلب کر لیا گیا ہے۔ اس اجلاس میں ممکنہ ان ہاؤس تبدیلی کے حوالے سے ممبران اسمبلی کو اعتماد میں لیا جائے گا۔ تمام ارکان اسمبلی کو اس اجلاس میں حاضری یقینی بنانے کی ہدایت بھی جاری کر دی گئی ہے۔

دوسری طرف وزیر اعلٰی پنجاب عثمان بزدار نے کہا ہے کہ پنجاب میں تبدیلی کی افواہیں پھیلانے والے سازشیں کر رہے ہیں۔ ان کے مطابق پنجاب کے تمام سٹیک ہولڈرز ایک پیج پر ہیں اور پنجاب میں کوئی پریشر گروپ ہے اور نہ ہی کوئی فارورڈ بلاک ہے۔

وزارت اعلیٰ کے اہم امیدوار

پنجاب کے نئے وزیراعلٰی کے لیے جن شخصیات کے نام نمایاں ہیں ان میں پاکستان مسلم لیگ قاف کے چوہدری پرویز الہی کا نام اہمیت کا حامل ہے۔  اسپیکر پنجاب اسمبلی کے طور پر خدمات سر انجام دینے والے پرویز الہی ماضی میں بھی پنجاب کے وزیر اعلٰی رہ چکے ہیں۔ کہا جاتا ہے کہ انہیں طاقتور حلقوں کا اعتماد بھی میسر ہے۔ اس لیے اگر انہیں وزارت اعلٰی ملی تو یہ ان کے اپنے محدود ارکان اسمبلی کی بدولت نہیں بلکہ پس پردہ ہونے والے اس مبینہ معاہدے کی وجہ سے ملے گی جس پر مسلم لیگ نون کو مرکز میں قاف لیگ اور اس کی حمایتی طاقتوں کی حمایت میسر ہو گی۔ چوہدری پرویز الہی کے مخالفین کا کہنا ہے کہ ان کے لیے وزیراعلٰی پنجاب بننے کی صورت میں حمزہ شریف اور ان کے ساتھیوں کے ساتھ معاملہ کرنا آسان نہیں ہو گا۔

Pakistan Punjab Senior Minister Abdul Aleem Khan

پاکستان تحریک انصاف کے رہنما علیم خان کے سپورٹرز بھی انہیں وزیر اعلٰی کے طور پر دیکھنے کے متمنی ہیں۔

پنجاب کی وزارت اعلٰی کے لیے چوہدری نثار کا نام بھی لیا جا رہا ہے لیکن سیاسی ماہرین ان کی کامیابی کا امکان کم دیکھ رہے ہیں کیونکہ ایک تو انہوں نے ابھی تک پنجاب اسمبلی کے رکن کے طور پر حلف ہی نہیں اٹھایا ہے اور دوسرا انہیں کئی قانونی روکاوٹوں کا بھی سامنا ہے۔

پاکستان تحریک انصاف کے رہنما علیم خان اور سبطین خان کے سپورٹرز بھی انہیں وزیر اعلٰی کے طور پر دیکھنے کے متمنی تو ہیں لیکن ماضی میں وزارت اعلٰی کی خواہش کرنے پر انہیں احتسابی کارروائیوں کا سامنا کرنا پڑا تھا۔ اب بھی مقتدر حلقے ان رہنماؤں کے ساکھ پر اٹھنے والے سوالات کی وجہ سے انہیں وزارت اعلٰی کے سنجیدہ امیدواروں کی فہرست میں دیکھنے سے اجتناب کر رہے ہیں۔ وزارت اعلٰی کی خواہش کے انہی 'سائیڈ ایفیکٹس‘ کی وجہ سے پاکستان تحریک انصاف کے اہم رہنما میاں محمود الرشید نے اپنے آپ کو وزارت اعلٰی کی دوڑ سے عملاﹰ الگ کر لیا ہے۔

پی ٹی آئی کے بعض حلقے آئندہ وزارت اعلٰی کے لیے صوبائی وزیر میاں اسلم اقبال کا نام بھی لے رہے ہیں۔ میاں اسلم اقبال کی صلاحیتوں کے قدردان بنی گالہ اور راولپنڈی میں بھی موجود ہیں لیکن ان کی ایک نجی چینل کے ایک مالک سے گہری وابستگی جو ایک دو درمیانی رابطوں کے توسط سے رائے ونڈ تک پہنچتی ہے، بعض پارٹی رہنماؤں کو بہت کھٹکتی ہے۔ سیاسی حلقوں کے مطابق میاں اسلم اقبال کے وزیر اعلٰی بننے کی صورت میں گورنر پنجاب کو ہٹائے جانے کے لیے دباؤ میں اضافہ ہو جائے گا کیونکہ گورنر اور وزیر اعلٰی کے عہدوں پر ایک ہی برادری سے تعلق رکھنے والی ان دونوں شخصیات کا تعلق وسطی پنجاب سے ہونا مناسب نہیں سمجھا جائے گا۔ ایسی صورت میں گورنر جنوبی پنجاب سے لائے جانے کا امکان بڑھ جائے گا۔

بعض حلقے پنجاب کے نئے وزیر اعلی کے طور پر صوبائی وزیرخزانہ ھاشم جوان بخت کا نام بھی لے رہے ہیں جو کہ اعلٰی تعلیم یافتہ اور وفاقی وزیر خسرو بختیار کے چھوٹے بھائی ہیں۔ بعض رپورٹس کے مطابق اس خاندان کے حوالے سے نیب کے پاس موجود مواد ہاشم کی راہ میں رکاوٹ بن سکتا ہے۔

Pakistan Islamabad Imran Khan

’’وزیراعظم عمران خان اپنی پارٹی کے ایک گروپ کا وزیراعلٰی بنا کر دوسرے گروپ کی مخالفت مول لینے کے متحمل نہیں ہوسکتے‘‘

پنجاب حکومت کے امور کو باقاعدگی سے کور کرنے والے ایک نوجوان صحافی ذیشان بخش کہتے ہیں کہ اس بات میں کوئی شک نہیں کہ سردار عثمان بزدار بڑی حد تک علامتی وزیراعلٰی پنجاب بن چکے ہیں۔ ان کے بقول یہ بھی ہو سکتا ہے کہ تبدیلی کے سارے شور وغل کے باوجود وہی وزیر اعلٰی رہیں: ''ان کے مطابق چوہدری پرویز الہی، چوہدری سرور اور دیگر اہم رہنماوں کا فائدہ بھی اسی میں ہے کہ وزیراعلٰی بزدار کو ان کے اختیارات واپس مل جائیں اور ان کے کام ہوتے رہیں، ان کے خیال میں وزارت اعلٰی پر سردار عثمان کی موجودگی پی ٹی آئی کے لیے بھی اچھی ہے کیونکہ اگر سردار عثمان بزدار کی جگہ کسی اور شخص کو وزیر اعلٰی پنجاب بنایا گیا توشدید گروپ بندی کی شکار پی ٹی آئی ٹوٹ بھی سکتی ہے۔‘‘

بعض سیاسی حلقے پنجاب اسمبلی میں قائد حزب اختلاف حمزہ شہباز شریف اور صوبائی وزیر یاسر ھمایوں کا نام بھی لے رہے ہیں، لیکن ایک رائے یہ بھی ہے کہ ہو سکتا ہے کہ پنجاب اسمبلی کا فیصلہ بنی گالہ کی متبرک فضاؤں میں پرچی ڈال کر کیا جائے اور اس طرح ایک نیا بزدار بھی سامنے آ سکتا ہے۔ سینیئر تجزیہ کار رؤف طاہر کا کہنا ہے کہ پنجاب کی وزارت اعلٰی کے لیے آپ جتنے نام چاہیں ڈسکس کرلیں لیکن اگر آپ حقیقت تک پہنچنا چاہیں تو آپ کو چوہدری پرویز الہی کی مسکراہٹ کو نظرانداز نہیں کرنا چاہیے۔

ڈی ڈبلیو کے ایڈیٹرز ہر صبح اپنی تازہ ترین خبریں اور چنیدہ رپورٹس اپنے پڑھنے والوں کو بھیجتے ہیں۔ آپ بھی یہاں کلک کر کے یہ نیوز لیٹر موصول کر سکتے ہیں۔

DW.COM