پتھراؤ سے بندوقوں تک: کشمیر میں تشدد، ہلاکتوں کا شیطانی چکر | حالات حاضرہ | DW | 16.07.2018
  1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages
اشتہار

حالات حاضرہ

پتھراؤ سے بندوقوں تک: کشمیر میں تشدد، ہلاکتوں کا شیطانی چکر

بھارت کے زیر انتظام جموں کشمیر کا متنازعہ اور بدامنی کا شکار خطہ کئی برسوں سے مسلسل تشدد اور عدم استحکام کا شکار ہے۔ ناقدین کے مطابق نئی دہلی کی کشمیر میں ’آہنی ہاتھ کی فوجی پالیسی‘ خطے کی صورتحال کو مزید خراب کر رہی ہے۔

بھارت کے زیر انتظام کشمیر میں نئی دہلی کی حکمرانی کے خلاف کشمیری نوجوانوں اور سیاسی کارکنوں کا جو احتجاج کبھی محض پتھراؤ کے ساتھ شروع ہوا تھا، اس میں اب پتھروں کی جگہ بندوقیں لی چکی ہیں۔ گزشتہ چند برسوں میں کشمیر میں حالات بہتر ہونے کے بجائے خراب تر اس لیے ہوتے چلے گئے کہ نئی دہلی نے پاکستان اور بھارت کے مابین منقسم اور بدامنی کے شکار اس خطے کے بارے میں اپنی سخت عسکری حکمت عملی پر دوبارہ کبھی زیادہ غور ہی نہیں کیا۔

بھارت کے زیر انتظام کشمیر پر براہ راست یا سری نگر میں علاقائی حکومت کے ذریعے نئی دہلی کی حکمرانی کے خلاف مسلح جدوجہد کس حد تک پھیل چکی ہے، اس کی ایک مثال ترال بھی ہے۔ جنوبی کشمیر میں ترال کے علاقے کو جانے والی سڑک پر سفر کریں، تو یہ بل کھاتی سڑک چاول کی فصلوں اور ٹھنڈے برفانی پانی والی کئی ندیوں کے قریب سے گزرتی ہے، جہاں افق پر ہمالیہ کے پہاڑی سلسلے کا نظارہ بھی انتہائی قابل دید ہوتا ہے۔ لیکن گزشتہ چند برسوں کے دوران ترال تک میں بھی بھارتی حکمرانی کے خلاف مسلح مزاحمت بہت زور پکڑ چکی ہے۔

برہان وانی نہیں، سوچ باقی ہے

اس علاقے میں پیدا ہونے والے مشہور ترین باشندوں میں سے ایک نام برہان وانی کا بھی تھا۔ وانی کشمیر میں مسلح جدوجہد کرنے والے عسکریت پسندوں کا ایک نوجوان اور بہت مقبول کمانڈر تھا، جو دو سال قبل بھارتی سکیورٹی دستوں کے ہاتھوں مارا گیا تھا۔ برہان وانی اب ترال میں نہیں رہتا لیکن سات جولائی کے روز اس کی دوسری برسی سے ایک روز قبل قدرتی حسن سے مالا مال اس دیہی علاقے کا منظر نامہ اس بات کا گواہ بھی بنا کہ سینکڑوں لوگ ترال میں وانی کے گھر پہنچ گئے۔ ان لوگوں کی آمد اس بات کا ثبوت تھی کہ برہان وانی خود تو زندہ نہیں ہے لیکن جس سوچ کے تحت اس نے ہتھیار اٹھائے تھے، وہ سوچ ابھی تک زندہ ہے اور کشمیر پر بھارتی حکمرانی کے خلاف مقامی آبادی کی سوچ بھی نہیں بدلی۔

پھر آٹھ جولائی کو جب برہان وانی کی ہلاکت کو ٹھیک دو سال ہو گئے تھے، ترال کی سڑکوں پر پولیس اور نیم فوجی دستوں کی بکتر بند گاڑیوں سے کیے گئے اعلانات میں مقامی باشندوں کو یہ پیغام دیا جاتا رہا کہ وہ باہر نہ نکلیں اور اپنے گھروں ہی میں رہیں۔ اس کے علاوہ پورے ضلع میں نصف درجن کے قریب چیک پوسٹوں پر کڑی نگرانی کے ذریعے اس بات کو بھی یقینی بنایا گیا کہ اس روز کوئی باہر سے اس گاؤں میں داخل نہ ہونے پائے، جہاں برہان وانی کا آبائی گھر ہے۔

کشمیری عوام کی ہمدردیاں

کئی تجزیہ کار کہتے ہیں کہ مظاہرین کی طرف سے بھارتی سکیورٹی دستوں پر پتھراؤ اور جواباﹰ حکومتی ڈھانچے کی طرف سے کریک ڈاؤن کے علاوہ برہان وانی کی موت بھی مقامی طور پر کشمیری نوجوانوں میں پائی جانے والی عسکریت پسندی میں اضافے کی وجہ بنی ہے۔ وانی کی موت کے بعد سے اب تک کے دو برسوں میں اس علاقے سے سینکڑوں نوجوان اپنے گھروں سے بھاگ کر کشمیری عسکریت پسند تنظیموں میں شامل ہو چکے ہیں۔

اس کے علاوہ کشمیری عسکریت پسندوں کے لیے، جنہیں سری نگر اور نئی دہلی کی سرکاری زبان میں باغی کہا جاتا ہے، عوامی سطح پر پائی جانے والی ہمدردی بھی زیادہ ہو چکی ہے۔ بھارت کے زیر انتظام کشمیر میں ایسا اب کئی جگہوں پر دیکھنے میں آتا ہے کہ مقامی لوگوں کو اگر یہ پتہ چلے کہ کسی جگہ علیحدگی پسندوں کی بھارتی دستوں کے ساتھ کوئی جھڑپ ہو رہی ہے، تو وہ کسی بھی عمارت یا جگہ پر چھپے ہوئے علیحدگی پسندوں کی اس طرح مدد کرنے لگتے ہیں کہ رکاوٹیں کھڑی کرتے ہوئے وہاں پہلے سے موجود یا اضافی سکیورٹی دستوں کو عسکریت پسندوں تک پہنچنے سے روکنے کی کوشش کرتے ہیں۔

’سینکڑوں نئے عسکریت پسند‘

برہان وانی کی والدہ نے اس بارے میں چند روز قبل ڈی ڈبلیو کو بتایا، ’’صورت حال ہر روز خراب تر ہی ہوتی جا رہی ہے۔ زیادہ سے زیادہ نوجوان علیحدگی پسندوں اور عسکریت پسندوں کی صفوں میں شامل ہوتے جا رہے ہیں، کیونکہ کشمیریوں سے ناانصافی ہو رہی ہے۔‘‘

برہان وانی نے 16 برس کی عمر میں کشمیری علیحدگی پسندوں کی صفوں میں شمولیت اختیار کی تھی۔ اس نے چھ سال تک مسلح مزاحمت کرنے والے ایک نوجوان کے طور پر کشمیر میں علیحدگی پسندی کی تحریک میں حصہ لیا اور اس دوران وہ کشمیری عسکریت پسندوں کا ایک انتہائی اہم کمانڈر بن چکا تھا۔ وانی 2016ء میں جنوبی کشمیر کے بمدورہ نامی گاؤں میں بھارتی فورسز کے ساتھ ایک خونریز جھڑپ میں ہلاک ہوا تھا۔

بھارت کے زیر انتظام کشمیر میں 1980 کی دہائی کے اواخر میں زور پکڑ لینے والی علیحدگی پسندی کی مسلح تحریک کے دوران اب تک کم از کم بھی 44 ہزار کشمیری عسکریت پسند، بھارتی سکیورٹی اہلکار اور مقامی شہری مارے جا چکے ہیں۔ کئی سیاسی تجزیہ کاروں کے مطابق کشمیر سے متعلق نئی دہلی میں ہندو قوم پسند جماعت بھارتیہ جنتا پارٹی سے تعلق رکھنے والے وزیر اعظم نریندر مودی کی حکومت نے آہنی ہاتھ کی جو فوجی حکمت عملی اپنا رکھی ہے، اس سے حالات بہتر ہونے کے بجائے خراب تر ہی ہوئے ہیں۔

DW.COM

ملتے جلتے مندرجات