پاک بحریہ: ’امن 2021‘ بین الاقوامی مشقیں اگلے ہفتے کراچی میں | حالات حاضرہ | DW | 05.02.2021
  1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages
اشتہار

حالات حاضرہ

پاک بحریہ: ’امن 2021‘ بین الاقوامی مشقیں اگلے ہفتے کراچی میں

پاکستان نیوی کی ’امن 2021ء‘ نامی چھ روزہ بین الاقوامی بحری مشقیں اگلے ہفتے کراچی کے قریبی سمندری علاقے میں شروع ہوں گی۔ علاقائی امن، سلامتی اور تعاون کے لیے ان مشقوں میں تقریباﹰ پینتالیس ممالک کی بحری فوجیں حصہ لیں گی۔

پاکستان نیوی کے ذرائع نے ڈی ڈبلیو کو بتایا کہ ان بحری مشقوں کا انعقاد اس جنوبی ایشیائی ملک کی طرف سے علاقائی امن و سلامتی کے لیے کی جانے والی کوششوں اور پرامن بقائے باہمی کی خواہش کا عملی اظہار ہے، جن میں اس سال 45 کے قریب ممالک کے بحری دستے حصہ لیں گے۔ یہ چھ روزہ سمندری مشقیں 11 فروری کو شروع ہو کر 16 فروری کو اپنے اختتام کو پہنچیں گی۔

بحری مشقوں کے سلسلے کے مقاصد

علاقائی اور غیر علاقائی ریاستوں کی بحری افواج کے ساتھ مل کر ان امن مشقوں کے ہر دو سال بعد انعقاد کا سلسلہ 2007ء میں شروع ہوا تھا اور رواں ماہ کے وسط میں ہونے والی یہ مشقیں اپنی نوعیت کی ساتویں بین الاقوامی مشقیں ہوں گی۔

فنڈ کی کمی کے سبب بھارتی بحریہ کا توسیعی منصوبہ متاثر

پاکستانی بحریہ کے مطابق ان مشقوں کے انعقاد کا مقصد دیگر ممالک کی سمندری افواج کے ساتھ عملی تعاون میں اس طرح اضافہ کرنا ہے کہ علاقائی استحکام کے لیے اپنا اپنا کردار ادا کرتے ہوئے مل کر دہشت گردی، سمندری قزاقی اور دیگر سمندری جرائم کا مقابلہ بھی کیا جا سکے۔

غیر روایتی خطرات کے خلاف تیاری

تقریباﹰ ایک ہفتے دورانیے کی ان مشقوں کے دوران شریک ممالک جن عسکری اور اسٹریٹیجک امور پر زیادہ توجہ دیں گے، ان میں نیول گن فائر، قزاقی کے خلاف کارروائیاں، خفیہ سرگرمیاں کرنے والی آبدوزوں کے خلاف مشقیں، مواصلات اور فضائی دفاع جیسے شعبے خصوصی اہمیت کے حامل ہوں گے۔

اسرائیل خلیج میں ایرانی ’ریڈ لائنز‘ پار کرنے سے باز رہے، تہران کی تنبیہ

ان مشقوں کے ذریعے ان میں شریک ممالک کی جدید ترین عسکری ٹیکنالوجی کو استعمال کرتے ہوئے روایتی اور غیر روایتی خطرات کے خلاف بحری جنگی تیاری کی حالت کا جائزہ بھی لیا جاتا ہے۔ 

آغاز 2007ء میں ہوا

اس سلسلے کی مارچ2007ء میں ہونے والی پہلی اور 'امن 2007‘ نامی مشقوں میں پاکستان کے علاوہ بنگلہ دیش، چین، فرانس، اٹلی، ملائیشیا، برطانیہ اور امریکا کی بحری افواج کے 14 بحری جہازوں نے حصہ لیا تھا جبکہ مجموعی طور پر ان میں 28 ممالک کی بحری افواج کے نمائندے شامل ہوئے تھے۔

امریکی جنگی بحری جہاز دوسرے روز بھی شعلوں کی لپیٹ میں

ایرانی بحری مشقیں: اپنی ہی کشتی میزائل کی زد میں، 19 ہلاکتیں

دو سال قبل فروری کے مہینے میں 'امن 2019‘ کے نام سے ہونے والی ایسے گزشتہ انٹرنیشنل مشقوں میں شرکت کرنے والے ممالک کی تعداد بڑھ کر 46 ہو گئی تھی۔ تب ان مشقوں کو 113 ملکی اور غیر ملکی مبصرین نے بھی دیکھا تھا۔

امسالہ بحری مشقیں

آئندہ ہفتے جمعرات  سے شروع ہونے والی 'امن 2021‘ مشقوں میں تقریباﹰ 45 ممالک اپنی شرکت کے وعدے کر چکے ہیں۔ ایسی مشقیں ہمشہ دو حصوں پر مشتمل ہوتی ہیں۔ ان میں سے ایک حصہ بندرگاہی مرحلہ ہوتا ہے اور دوسرا سمندری مرحلہ۔ ان مشقوں کا ایک اہم اور رنگا رنگ حصہ وہ افتتاحی تقریب بھی ہوتی ہے، جو ان میں شرکت کے لیے غیر ملکی جنگی بحری جہازوں کی آمد کے وقت منعقد کی جاتی ہے۔

فرانسیسی جنگی بحری بیڑے پر بھی کورونا کی وبا، 668 سیلر متاثر

گزشتہ برسوں کی طرح اس سال بھی ان مشقوں کے دوران ایک انٹرنیشنل میری ٹائم کانفرنس (آئی ایم سی) بھی منعقد کی جائے گی، جس کا انعقاد بحریہ یونیورسٹی کے زیر اہتمام پاکستان کا نیشنل انسٹیٹیوٹ آف میری ٹائم افیئرز کرتا ہے۔

انٹرنیشنل فلیٹ ریویو

کھلے سمندر میں ان مشقوں کے دوسرے حصے کے دوران انٹرنیشنل فلیٹ ریویو (آئی ایف آر) کا اہتمام کیا جاتا ہے، جس دوران عملی نوعیت کی جنگی مشقیں، اسٹریٹیجک فائر اور دیگر آپریشنل کارروائیاں کی جاتی ہیں۔

سعودی عرب کے لیے چار جنگی بحری جہاز اطالوی کمپنی بنائے گی

آئی ایف آر کے دوران جنگی بحری جہاز مشقیں کرتے ہوئے راکٹ فائر کرتے ہیں جبکہ شریک ممالک کے نیوی اور ایئر فورس کے ہوائی جہازوں کے ذریعے فضائی طاقت کے مظاہرے کے علاوہ ایک اہم حصہ اسپیشل آپریشن فورسز اور دھماکا خیز مواد کو ناکارہ بنانے والے خصوصی فوجی دستوں کی کارروائیوں کا بھی ہوتا ہے۔

بھارت کے لیے تیسری روسی جوہری آبدوز، تین ارب ڈالر کا معاہدہ

یہ اسپیشل آپریشن فورسز اور دھماکا خیز مواد کو ناکارہ بنانے والی عسکری ٹیمیں کسی بھی ملک کی بحریہ کے لیے سمندری دہشت گردی، قزاقی اور دیگر جرائم کے خلاف صف اول کی حفاظتی دیوار سمجھی جاتی ہیں۔