پاک امریکا تعلقات، پاکستانی پارلیمان میں بحث | حالات حاضرہ | DW | 27.03.2012
  1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

پاک امریکا تعلقات، پاکستانی پارلیمان میں بحث

پاکستان میں پارلیمان کے مشترکہ اجلاس کے دوسرے روز بھی امریکہ اور نیٹو ممالک کے ساتھ تعلقات پر نظر ثانی کے لیے پارلیمان کی قومی سلامتی کی سفارشات پر باقاعدہ بحث کا آغاز نہیں ہوسکا ہے۔

default

منگل کے روز پارلیمان کا مشترکہ اجلاس شروع ہوا تو حکومت کی اہم اتحادی جماعت ایم کیو ایم نے کراچی میں اپنے ایک کارکن اور اس کے بھائی کے قتل کے خلاف احتجاج کرتے ہوئے واک آؤٹ کیا۔ آج حکومتی اراکین اور دیگر اتحادی جماعتوں کے منانے کے باوجود ایم کیو ایم نے پارلیمان کے اجلاس کا واک آؤٹ جاری رکھا۔ اسی دوران قومی اسمبلی میں قائد حزب اختلاف چوہدری نثار علی خان نے نکتہ اعتراض پر بات کرتے ہوئے کہا کہ قومی سلامتی کی کمیٹی کی سفارشات پر نظر ثانی کی جائے۔ انہوں نے کہا کہ جب تک اپوزیشن کے تحفظات دور نہیں ہوتے ان سفارشات پر پارلیمان میں بحث نہیں ہوسکتی۔ انہوں نے کہا کہ حزب اختلاف ایک ایسا مسودہ پیش کیے جانے کی خواہاں ہے جس کا مقصد پاکستان کی سلامتی اور خود مختاری کا تحفظ ہو۔

چوہدری نثار علی خان نے کہا کہ پیپلز پارٹی نے پرویز مشرف دور کے طرز کی سفارشات تیار کی ہیں جن میں غیر ملکی طاقتوں کو جگہ دینے کے لئے زبانی معاہدے کی بات کی گئی ہے اور ملکی خود مختاری کی بات کر کے دوسرے ملکوں کے سکیورٹی اداروں کو کھلی چھٹی دینے کی سفارش کی گئی ہے۔

بعد ازں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے چوہدری نثار علی خان نے کہا کہ ’’اس حکومت کو اختیارات دینا تو پاکستان کی خودمختاری پر سمجھوتہ کرنے کے مترادف ہے۔ پچھلے چار سال میں جس طرح حکمرانوں نے مذاق اڑایا ہے، ہماری آزادی اور خود مختاری کا، یہ تو پرویز مشرف کو بھی پیچھے چھوڑ گئے ہیں۔ پرویز مشرف کو تو پھر بھی فوج کا، اپنے کور کمانڈرز کا خوف تھا کہ وہ ایک خاص حد سے آگے پیچھے نہیں جا سکتا تھا لیکن زرداری صاحب کی پالیسی تو مادر پدر آزاد ہے۔‘‘

اپوزیشن جماعت جمعیت علمائے اسلام کے سربراہ مولانا فضل الرحمان نے بھی نکتہ اعتراض پر بات کرتے ہوئے کہا کہ اگر حکومت نے طاقت کے بل بوتے پر یکطرفہ قرارداد منظور کر بھی لی تو اس پر عملدرآمد نہیں ہونے دیا جائے گا۔

مولانا فضل الرحمان کے مطابق ایسی اطلاعات ہیں کہ ایوان صدر میں بڑوں کا اجلاس ہوا اور افغانستان میں موجود اتحادی افواج کے لیے پاکستان سے رسد کی فراہمی کے راستے کھولنے کا فیصلہ کیا گیا۔ حکومت ان رپورٹوں کی وضاحت کرے اور اگر ایسا کیا گیا ہے تو پھر پارلیمنٹ میں بحث اور منظوری کا کیا مقصد ہے۔ انہوں نے کہا کہ امریکہ کو اپنی پالیسوں میں ناکامی کے بعد مفاہمت کا راستہ تلاش کرنا چاہیے۔ امریکی معافی کو صرف سلالہ چیک پوسٹ پر حملے سے کیوں مشروط کیا جا رہا ہے، معاملہ اتنا سطحی نہیں کہ معافی سے حل ہوجائے۔

جنوبی کوریا کے دارالحکومت سیول میں منگل ستائیس مارچ کو امریکی صدر اوباما اور پاکستانی وزیر اعظم یوسف رضا گیلانی کی ملاقات

جنوبی کوریا کے دارالحکومت سیول میں منگل ستائیس مارچ کو امریکی صدر اوباما اور پاکستانی وزیر اعظم یوسف رضا گیلانی کی ملاقات

دوسری جانب پارلیمان کی قومی سلامتی کمیٹی کے چیئرمین سینیٹر رضا ربانی نے نکتہ اعتراض کے جواب میں کہا کہ سفارشات کی تیاری میں تمام اپوزیشن جماعتیں شامل تھیں۔ انہوں نے کہا کہ ان سفارشات پر بحث ہو گی کیونکہ یہ حکومت کی تیار کی ہوئی نہیں بلکہ پارلیمانی کمیٹی نے انہیں اتفاق رائے سے مرتب کیا ہے۔

رضا ربانی نے کہا کہ یہ سفارشات پارلیمان کی امانت ہیں تاہم اس کے باوجود اگر اپوزیشن کے اس پر کوئی تحفظات ہیں تو وہ دور کیے جائیں گے۔

ادھر حکومت کی اتحادی جماعت مسلم لیگ (ق) کے رہنماؤں نے بھی حکومت پر زور دیا ہے کہ وہ جلد بازی میں کوئی بھی فیصلہ نہ کرے اور پارلیمنٹ کے اندر اور باہر موجود تمام جماعتوں کو مشاورت کے عمل میں شامل کیا جائے۔ پارلیمانی پارٹی کے اجلاس میں شرکت کے بعد صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے مسلم لیگ ق کے رہنما چوہدری پرویز الہٰی نے کہا کہ سفارشات کے بامقصد نفاذ کے لئے ان پر اتفاق رائے کا ہونا بہت ضروری ہے۔

دریں اثناء مذہبی تنظیموں جماعت الدعوۃ، جماعت اسلامی اور جمعیت علمائے اسلام (س) کے کارکنوں نے منگل کے روز نیٹو سپلائی کی ممکنہ طور پر دوبارہ بحالی کے خلاف پارلیمنٹ ہاؤس کے باہر مظاہرہ کیا۔ مظاہرین نے امریکہ اور نیٹو ممالک کے خلاف نعرے لگائے جبکہ حکومت کو انتباہ کیا کہ اگر پارلیمنٹ کے ذریعے نیٹو سپلائی لائن کھولی گئی تو اس کے خلاف ملک گیر احتجاجی تحریک شروع کی جائے گی۔

رپورٹ: شکور رحیم، اسلام آباد

ادارت: امجد علی

DW.COM