پاکستان کے نائب اٹارنی جنرل نے گوردوارے میں جوتے صاف کیے | معاشرہ | DW | 28.03.2012
  1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

معاشرہ

پاکستان کے نائب اٹارنی جنرل نے گوردوارے میں جوتے صاف کیے

پاکستان کے نائب اٹارنی جنرل محمد خورشید خان نے بھارت میں سکھوں کے مشہور زمانے گوردوارے گولڈن ٹیمپل میں زائرین کے جوتے صاف کیے۔ وہ طالبان کے مظالم کا کفارہ ادا کرنا چاہتے ہیں۔

پاکستان کے نائب اٹارنی جنرل محمد خورشید خان نے بھارت کے دورے کے دوران پہلے نئی دہلی میں سسگنج کے گوردوارے میں چند گھنٹے وہاں آنے والے عقیدت مندوں کے جوتے صاف کیے۔ محمد خورشید خان بھارتی دارالحکومت سے خدمت ’سیوا‘ کرنے کے بعد امرتسر روانہ ہو ئے اور سکھوں کے معروف ترین گوردوارے اور مرکز کہلانے والے گولڈن ٹیمپل پہنچے۔ یہاں پر بھی انہوں نے مزید ہزاروں افراد کے جوتے صاف کیے۔ کسی بھی گوردوارے میں زائرین کے جوتے صاف کرنا خدمت اور ثواب سمجھا جاتا ہے اور یہ ایک عام سی بات سمجھی جاتی ہے۔

Indien Goldener Tempel Amritsar Sikhismus Sikhs

یہ عمل پوری انسانیت کے لیے ایک پیغام ہے،پرم جیت سنگھ

محمد خورشید خان کے بقول 2010ء میں طالبان نے پشاور سے جسپال سنگھ نامی ایک سکھ کو مزید دو افراد کے ساتھ اغوا کیا تھا اوربعد میں اس کا سر قلم کر دیا گیا تھا۔ تاہم دیگر دو افراد کو پاکستانی فوج نے کارروائی کرتے ہوئے بازیاب کرا لیا تھا۔ اس واقعے کے بعد سے انہوں نے پاکستان اور بھارت میں مختلف گوردواروں کے دورے شروع کیے۔ ان کے بقول وہ ’سیواداری‘ کرتے ہوئے دہشت گردی کے خلاف اپنا موقف واضح کرنا چاہتے ہیں۔’’میں جسپال سنگھ کی موت سے بہت افسردہ ہو گیا تھا۔ میں ہندو مندر اور کلیساؤں میں بھی جاؤں گا‘‘۔

ٹائمز آف انڈیا کو انٹرویو دیتے ہوئے خان نے کہا کہ وہ مسلمان ہیں اور پاکستانی ہیں لیکن دہشت گرد نہیں۔ انہوں نے کہا کہ کسی بھی ایک گروپ یا انفرادی کارروائی کو پوری قوم اور مذہب سے جوڑنا صحیح نہیں ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ طالبان نے پاکستان کی ثقافت کو زبردست نقصان پہنچایا ہے۔ ابھی بھی وہاں ہندو، سکھ اور مسیحیوں کے علاوہ دوسری اقلیتیں آباد ہیں۔ ’’یہ سراسر نا انصافی ہو گی کہ چند افراد کا گناہ پوری قوم کے سر ڈال دیا جائے‘‘۔

Indien Amritsar Prozession Guru Govind Singh

گوردوارے میں زائرین کے جوتے صاف کرنا خدمت اور ثواب سمجھا جاتا ہے

اس مقصد کو پایہ تکمیل تک پہنچانے کے لیے پاکستان کے نائب اٹارنی جنرل محمد خورشید خان کو خصوصی اجازت لینا پڑی۔ اس حوالے سے دہلی میں سکھ برادری کے نمائندے پرم جیت سنگھ نے بتایا کہ محمد خورشید خان کے اس عمل نے بھارتی سکھوں کو متاثر کیا ہے۔’’ بہرحال یہ تاثر پایا جاتا تھا کہ ہر پاکستان سخت گیر موقف کا حامل ہے لیکن خورشید خان کی اس سیوا نے سوچ کو بدل دیا ہے‘‘۔ پرم جیت سنگھ کے بقول ان کا یہ عمل پوری انسانیت کے لیے ایک پیغام ہے۔ گو کہ انہوں نے نا تو کسی کو قتل کیا ہے اور نہ ہی مظالم ڈھائے ہیں لیکن انہوں نے طالبان کی زیادتیوں کا درد محسوس کیا ہے۔’’ ہم پاکستان میں اقلیتوں کے لیے کیے جانے والے اس اقدام پر محمد خورشید خان کے شکر گزار ہیں‘‘۔

رپورٹ: عدنان اسحاق

ادارت : کشور مصطفی