پاکستان کے لیے امریکی عسکری تربیتی پروگرام بحال | حالات حاضرہ | DW | 04.01.2020
  1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages
اشتہار

حالات حاضرہ

پاکستان کے لیے امریکی عسکری تربیتی پروگرام بحال

مشرق وسطیٰ میں نئی کشیدگی کے بعد امریکا نے پاکستان کے لیے عسکری تربیتی پروگرام بحال کر دیا ہے۔ اعلیٰ ایرانی جنرل کے امریکی حملے میں ہلاک ہونے کے بعد ادھر افغانستان میں نئے تشدد کا خطرہ پیدا ہونے کا عندیہ دیا جا رہا ہے۔

اعلیٰ امریکی سفارت کار ایلس ویلس نے کہا ہے کہ مشترکہ ترجیحات اور امریکی قومی سلامتی کی تناظر میں پاکستان کے عسکری تربیتی پروگرام کو بحال کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔ آج ہفتے کے دن انہوں نے کہا کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے پاکستانی افواج کے لیے امریکی تربیتی اور تعلیمی پروگراموں میں شرکت کی بحالی کو منظور کر لیا ہے۔

امریکی اسٹیٹ ڈیپارٹمنٹ میں جنوبی ایشیائی امور کی انچارج ایلس ویلس نے اپنے ایک ٹوئٹ میں البتہ یہ بھی لکھا کہ 'پاکستان کے لیے مجموعی سکیورٹی تعاون معطل ہی رہے گا‘۔

انہوں نے یہ اعلان ایک ایسے وقت میں کیا، جب ایک روز قبل امریکی وزیر خارجہ مائیکل پومپیو نے پاکستانی فوجی سربراہ جنرل قمرجاوید باجودہ سے ٹیلی فون پر گفتگو کی۔ یہ گفتگو عراق میں امریکی حملے میں اعلیٰ ایرانی جنرل قاسم سلیمانی کی ہلاکت کے بعد ہوئی، جس میں خطے میں قیام امن پر اور کشیدگی کے خاتمے پر اتفاق کیا گیا۔

امریکا نے گزشتہ ایک سال سے پاکستان کے لیے 'انٹرنیشنل ملٹری ایجوکیشن اینڈ ٹریننگ پروگرام‘  IMET کو معطل کر رکھا تھا۔ اس پروگرام کی بحالی کو امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور پاکستانی وزیر اعظم عمران خان کے مابین گرمجوشی پر مبنی تعلقات کے تناظر میں بھی پرکھا جا رہا ہے۔ اسی برس کے دوران واشنگٹن حکومت نے افغان امن عمل میں پاکستان کے کردار کی ستائش بھی کی۔

Alice Wells (picture-alliance/AP Photo/R. Adayleh)

ایلس ویلس نے البتہ کہا کہ 'پاکستان کے لیے مجموعی سکیورٹی تعاون معطل ہی رہے گا‘

ایرانی ایلیٹ قدس فورس کے راک اسٹار جنرل سلیمانی کے قتل کے بعد مشرق وسطیٰ میں نئی کشیدگی دیکھی جا رہی ہے۔ اس کشیدگی کے اثرات پاکستان اور افغانستان پر پڑنے کے امکانات بھی ہیں۔ جمعے کے دن ہی کابل حکومت نے کہا کہ اس نئی صورتحال میں افغانستان میں تشدد بڑھ سکتا ہے۔

افغان صدر اشرف غنی نے امریکی وزیر خارجہ مائیکل پومپیو سے ٹیلی فون پر گفتگو کے بعد میڈیا کو بتایا کہ ان کی کوشش ہے کہ افغانستان کی سرزمین کو کسی دوسرے ملک یا علاقائی تنازعے کے لیے استعمال نہ ہونے دیا جائے۔

چیف ایگزیکٹیو عبداللہ عبداللہ اور سابق صدر حامد کرزئی نے بھی زور دیا ہے کہ امریکا اور ایران کے مابین کشیدگی کے اثرات افغانستان پر نہیں پڑنا چاہییں۔ کرزئی نے کہا کہ افغانستان میں امریکی افواج کی موجودگی کے باوجود کابل اور تہران کے دوستانہ تعلقات خراب نہیں ہوں گے۔

ع ب / ا ا / خبر رساں ادارے

DW.COM