پاکستان کے دریائے کابل کی مچھلیوں کی بقا کو خطرہ | معاشرہ | DW | 11.11.2016
  1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

معاشرہ

پاکستان کے دریائے کابل کی مچھلیوں کی بقا کو خطرہ

پاکستانی صوبے خیبر پختونخواہ میں دریائے کابل کے کنارے واقع گاؤں حاجی ضیاء میں مچھیرے جنریٹرز، بارودی مواد اور زہریلی ادویات کے ذریعے مچھلیوں کا شکار کر رہے ہیں جس کے باعث مچھلیوں اور دیگر آبی حیات کو نقصان پہنچ رہا ہے۔

حاجی ضیاء کے رہائشی عباس خان دریائے کابل کے کنارے بیٹھے جنریٹر کی تار کو دریا میں ڈالتے ہیں۔ بجلی کے جھٹکے سے پانی میں موجود مچھلیوں کو ایک جھٹکا لگتا ہے اور وہ اوپر آ جاتی ہیں۔ عباس خان کا ماننا ہے کہ مچھلیوں کو پکڑنے کا یہ طریقہء کار دیگر طریقوں سے بہتر ہے لیکن جنریٹر کے کرنٹ سے مچھلیوں کا شکار اس کے کئی ساتھیوں کی جان لے چکا ہے۔

دریائے کابل کی مچھلی ’شیر ماہی‘ کا شکار کرنے کے لیے سینکڑوں مچھیرے روز اپنی زندگیوں کو خطرے میں ڈالتے ہیں۔ کئی مچھیرے روز ٹائروں کی ٹیوبوں میں بڑے جالوں کے ساتھ کئی گھنٹے ٹھنڈے پانی میں تیرتے ہیں۔ کچھ غیر قانونی طور پر براہ راست دریا میں زہریلی ادویات کا استعمال کرتے ہیں، کچھ عباس خان کی طرح جنریٹرز سے بجلی کا کرنٹ استعمال کرتے ہیں تو کچھ بارودی مواد کا استعمال کرتے ہیں۔ عباس خان کی رائے میں کرنٹ کے ذریعے مچھلی کا شکار خطرناک تو ہے لیکن اب انہیں اس طریقہء کار پر مہارت حاصل ہو گئی ہے۔ وہ سمجھتے ہیں کہ زہریلی ادویات کا استعمال سب سے زیادہ خطرناک ہے کیوں کہ اس کے ذریعے نہ صرف مچھلیاں مرتی ہیں بلکہ پانی بھی زہریلا ہو جاتا ہے۔

کم کانٹوں والی ’شیرماہی‘ شمال مغربی پاکستانی علاقے میں دریائے کابل میں پائی جاتی ہے اور لمبائی میں 12 انچ تک ہوتی ہے۔ یہ مچھلی اپنے بہترین ذائقے کی وجہ سے مشہور ہے۔ 

Pakistan Fischen mit Elektrizität (picture-alliance/AP Photo/A. Majeed)

کم کانٹوں والی ’شیرماہی‘ شمال مغربی پاکستانی علاقے میں دریائے کابل میں پائی جاتی ہے

مچھلی پکڑنے کے روایتی طریقے استعمال کرنے والے ایک ماہی گیر غنی الرحمان کا کہنا ہے کہ بارودی مواد یا جنریٹر کے ذریعے مچھلیوں کا شکار آبی حیات کے لیے بہت نقصان دہ ہے۔

58 سالہ غنی روزانہ ٹائر کی ٹیوب کے ساتھ کئی گھنٹے دریائے کابل میں گزارتے ہیں۔ روانہ وہ کچھ مچھلیاں پکڑنے میں کامیاب ہو جاتے ہیں۔ غنی یہ کام گزشتہ پچیس برسوں سے کر رہے ہیں۔ ان کے مطابق اب مچھلیوں کی تعداد میں بہت کمی ہو گئی ہے کیوں کہ مچھیروں کی تعداد میں خاطر خواہ اضافہ ہوا ہے۔ غنی الرحمان نے نیوز ایجنسی اے ایف پی کو بتایا کہ وہ روزانہ چھ سو سے ایک ہزار روپے کماتے ہیں اور جب کبھی وہ مچھلی کا زیادہ شکار کریں تو وہ دس ہزار روپے تک کما لیتے ہیں۔

عباس خان اور غنی الرحمان کی طرح خیبر پختونخواہ کے دیگر مچھیرے بھی مچھلیوں کو پکڑنے کے ان طریقوں سے خوش نہیں ہیں۔ دھماکا خیز مواد کے ذریعے مچھلیوں کے شکار پر مقامی انتظامیہ نے سن 1982 سے پابندی عائد کی ہوئی ہے لیکن اس طریقہء کار میں کمی سن 2009 میں اس علاقے کے قریب قبائلی علاقوں میں فوجی آپریشن کے بعد ہی دیکھنے میں آئی ہے۔ فوجی آپریشن کے باعث اب بارودی مواد کی رسائی مشکل ہو گئی ہے۔ لیکن پابندی عائد ہونے کے باوجود اب بھی کرنٹ اور زہریلی ادویات کے ذریعے مچھلیوں کا شکار ایک عام سی بات ہے۔

Pakistan Fischen mit Elektrizität (picture-alliance/AP Photo/A. Majeed)

جنریٹر کے ذریعے کرنٹ اور زہریلے کیمکلز کا استعمال نہ صرف ایک جرم ہے بلکہ اس کے باعث کئی بیماریاں بھی جنم لیتی ہیں

حاجی ضیاء کے ناظم خیر گل جو خود ایک مچھیرے بھی ہیں، کا کہنا ہے کہ انتظامیہ مچھلیاں پکڑنے کے غیر قانونی طریقوں کو روکنے کے لیے سنجیدہ نہیں ہیں۔ خیر گل نے اے ایف پی کو بتایا، ’’ہم نے کچھ گروہوں کے خلاف کاروائی کی تھی لیکن مقامی افسران نے ان سے چار یا پانچ سو روپے رشوت لے کر انہیں چھوڑ دیا تھا۔‘‘ خیر گل کہتے ہیں کہ بارودی مواد، جنریٹر کے ذریعے کرنٹ اور زہریلے کیمکلز کا استعمال نہ صرف ایک جرم ہے بلکہ اس کے باعث کئی بیماریاں بھی جنم لیتی ہیں۔

لیکن غیر قانونی طریقہء کار پر پابندی کو نافذ کرنا ایک مسئلہ ہے۔ ایک سرکاری اہلکار ہدایت شاہ کا کہنا ہے کہ پورے پشاور کو صرف نو افراد پر مشتمل ایک ٹیم دیکھتی ہے، ان کے پاس نہ گاڑیاں ہیں، نہ کشتیاں اور نہ کوئی ساز وسامان۔ اس کے باوجود شاہ کی ٹیم نے سن 2015 سے سن 2016 کے درمین 60 غیر قانونی مچھیروں کو پکڑا تھا لیکن عدل کے ناقص نظام کے باعث ایک کیس بھی منتقی انجام تک نہیں پہنچا۔ افسوس ناک بات یہ ہے کہ چارسدہ اور نوشہرہ میں سرکاری ٹیم میں افسران کی تعداد پشاور کی ٹیم سے بھی نصف ہے۔