پاکستان کی ون ڈے کرکٹ کا مستقبل تابناک ہے، مصباح | کھیل | DW | 14.07.2019
  1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages
اشتہار

کھیل

پاکستان کی ون ڈے کرکٹ کا مستقبل تابناک ہے، مصباح

کرکٹ ورلڈکپ فائنل آج میزبان انگلینڈ اور نیوزی لینڈ کے درمیان لارڈز پر کھیلا جا رہا ہے۔ مصباح الحق کہتے ہیں کہ اپنی فارم اور وسائل کی وجہ سے انگلینڈ فائنل میں فیورٹ ہے لیکن نیوزی لینڈ میں سرپرائز دینے کی اہلیت موجود ہے۔

ڈی ڈبلیو کو لاہور میں خصوصی انٹرویو دیتے ہوئے پاکستانی تاریخ کے سب سے کامیاب سابق کپتان مصباح الحق نے بتایا کہ کرکٹ کے لیے یہ ایک اچھا دن ہے کہ ایک نیا چمپئین سامنے آئے گا۔ دونوں ٹیمیں مختلف انداز میں کھیل کر فائنل میں آئی ہیں۔ انگلینڈ بالکل نئے برانڈ کی کرکٹ کھیل رہا ہے۔ ان کی بیٹنگ کا اسٹائل غیر روایتی اور جارحانہ ہے۔ دوسری جانب نیوزی لینڈ کے کھیلنے کا انداز وہی ہے، جو پاکستان نے 1992ء میں اپنا کر ورلڈ کپ جیتا تھا۔ وکٹیں بچائیں اور اتنے رنز بنا لیے جائیں، جو باؤلرز کے فائٹ کرنے کے لیے کافی ہوں۔

مصباح کے بقول گزشتہ چار سال سے انگلینڈ نے بہت محنت کی ہے۔ انہوں نے اپنی کرکٹ میں ایک انقلاب برپا کیا۔ کھیلنے کا جدید انداز اپنایا، اپنی پچز کو تبدیل کیا۔ اسٹروک پلیئرز کو اہمیت دی۔ جیسن رائے، جوس بٹلر اور بین اسٹوکس ایک ہی انداز سے جارحانہ کھیلتے ہیں۔ انگلش ٹیم کے تمام چھ بیٹسمین اچھی فارم میں ہیں۔ باؤلنگ طاقتور ہے۔ لیگ اسپنر عادل رشید نے بھی سیمی فائنل میں وکٹیں لیں۔ اسی وجہ سے انگلینڈ آج فائنل میں فیورٹ ہو گا۔

مصباح الحق نے مزید بتایا کہ نیوزی لینڈ فائنل کھیلنے کی حق دار تھی۔ ایک زمانے میں یہ ٹیم میڈیم پیسرز کی ٹیم تھی لیکن اب اس میں لوکی فرگوسن اور میٹ ہنری جیسے تیز باؤلرز موجود ہیں۔ فاسٹ باؤلنگ کا کلچر وہاں پروان چڑھا ہے۔ یہ ٹیم فائنل میں اپنی باؤلنگ سے اپ سیٹ کر سکتی ہے۔

پاکستانی کرکٹ ٹیم کی عالمی کپ میں کارکردگی کا تجزیہ کرتے ہوئےماضی کے عظیم کرکٹر اور شہرہ آفاق کپتان مصباح کا کہنا تھا کہ اس عالمی کپ سے پاکستان کی بیٹنگ دیکھتے ہوئے ان کو بہت امید تھی لیکن ابتدائی چار میچوں تک ٹیم کو اپنے بہترین گیارہ کھلاڑیوں کا ہی اندازہ نہ ہو سکا، جس کا بعد میں نقصان اٹھانا پڑا۔ بارش سے بھی زیادہ پاکستانی ٹیم ہی متاثر ہوئی۔ آئندہ دیکھنا ہو گا کہ نیٹ رن ریٹ سے پہلے باہمی مقابلے کے نتیجے کو اہمیت دی جائے۔

مصباح کے مطابق امام ، فخر، بابر اور شاہین آفریدی کی کارکردگی پاکستان کرکٹ کے روشن مستقبل کی عکاس ہے۔ انہوں نے کہا کہ امام، فخر، بابر اور حارث جیسے اعلیٰ پائے کے بیٹسمین کبھی ماضی میں پاکستان کو ایک وقت میں میسر نہیں آئے۔ یہ کھلاڑی ابھی اپنے کیریئر کے ابتدائی دور میں ہیں اور آگے چل کر بہتر سے بہتر ہوتے جائیں گے۔ پاکستانی وائٹ بال کرکٹ کا مستقبل روشن دکھائی دیتا ہے لیکن ہمیں متبادل کھلاڑی بھی تیار کرنا ہوں گے۔ محمد عامر اور حسن علی کے متبادل فاسٹ باؤلر ڈھونڈنا ہوں گے۔ ابھی شاداب خان ان فٹ ہوئے تو ہمارے پاس کوئی متبادل اسپنر موجود نہ تھا۔

سابق کپتان کے مطابق آئی سی سی چمپئنز ٹرافی جیتنے کے بعد ورلڈ کپ کے لیے ایک اچھی ٹیم تیار کرنے کا موقع تھا لیکن اس سے فائدہ نہ اٹھایا گیا اور ورلڈ کپ کے پانچویں میچ تک ہمیں اپنی بہترین الیون کا ہی علم نہ ہو سکا۔ آئندہ عالمی کپ سے ایک سال پہلے تک اس بات کو یقینی بنانا ہو گا کہ ٹیم کا بہترین کمبینیشن کیا ہوگا؟

مصباح الحق کے بقول اس عالمی کپ نے اس تصور کو ختم کر دیا کہ ون ڈے کرکٹ صرف بیٹسمین کا کھیل ہے اور باؤلر کا کوئی مستقبل نہیں۔ ٹورنامنٹ میں جن ٹیموں کی باؤلنگ اچھی تھی وہ 250 رنز بنا کر بھی کامیاب ہوئیں۔ اس چمپئین شپ سے کھیل متوازن ہو گیا ہے اور اسپیشلسٹ باؤلر اور بیٹسمین کی اہمیت بڑھ گئی ہے، جو کرکٹ کے لیے ایک اچھا شگون ہے۔