پاکستان کی معاشی شرح نمو میں کمی کے ممکنہ اثرات | حالات حاضرہ | DW | 16.10.2019
  1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages
اشتہار

حالات حاضرہ

پاکستان کی معاشی شرح نمو میں کمی کے ممکنہ اثرات

پاکستان میں ماہرین نے معاشی شرح نمو میں کمی کے بارے میں رپورٹ پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے حکومت کو خبردار کیا ہے کہ اگر معیشت کی بہتری کے لیے اقدامات نہ کیے گئے تو ملک سیاسی و سماجی انتشار کا شکار ہو سکتا ہے۔

پاکستان میں معاشی نمو کی رفتار میں مسلسل کمی ہو رہی ہے اور عالمی مالیاتی ادارے آئی ایم ایف نے اپنی ایک رپورٹ میں کہا ہے کہ سن دو ہزار بیس میں یہ شرح دو اعشاریہ چار فیصد رہ جائے گی۔ معاشی ماہرین کا خیال ہے کہ اس سے بے روزگاری میں اضافہ ہوگا، سرمایہ کاری میں کمی آئے گی، مہنگائی بڑھے گی اور کئی سماجی مسائل جنم لیں گے۔

عالمی مسابقتی انڈیکس: پاکستان تنزلی کے بعد مزید تین درجے نیچے

پاکستان کی معیشیت کو تجارتی خسارے، قرضوں کے بوجھ سمیت کئی طرح کے مسائل درپیش ہیں۔ معاشی نمو میں کمی سے معیشت کو مزید دھچکا لگے گا۔

پاکستان میں عالمی مالیاتی اداروں کی بڑی ناقد اور ماہر معیشت ڈاکڑ عذرا طلعت سعید کا کہنا ہے اقتصادی نمو میں کمی سے صنعتی سرگرمیاں بہت سست ہو جائیں گی۔ ڈی ڈبلیو سے گفتگو کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا، ''اس کا مطلب یہ ہے کہ آپ کی صنعتی پیداوار کم ہو گی اور بے روزگاری میں مزید اضافہ ہوگا۔ اس سے صرف بے ورزگاری ہی نہیں بڑھے گی بلکہ بھوک اور غربت میں بھی اضافہ ہوگا۔ حکومت معیشت کو بہتر کرنے کے نام پر نجکاری کرے گی۔ تعلیم، صحت، ٹرانسپورٹ اور دیگر اداروں کی نجکاری کی جائے گی، جس سے عام آدمی کی مشکلات میں اضافہ ہوگا اور سماجی بے چینی بڑھے گی۔‘‘

ڈاکڑ عذرا کا کہنا تھا کہ اصل مسئلہ سرمایہ دارانہ معیشت کا ہے۔ ''پوری دنیا میں بھوک و افلاس میں اضافہ ہو رہا ہے اور یہ اس وجہ سے ہے کہ سرمایہ دارانہ معیشت میں گراوٹ ہے، تو اصل مسئلہ نظام کے بدلنے کا ہے۔‘‘

تیل کی بڑھتی ہوئی قیمتیں: پاکستانی معیشت کے لیے خطرہ

کراچی سے تعلق رکھنے والی اقتصادی امور کی ماہر ڈاکڑ شاہدہ وزارت کا کہنا ہے کہ اس شرح نمو میں کمی سے جو معاشی مسائل جنم لیں گے، اس سے ملک میں سیاسی انتشار پھیلے گا۔

ڈاکٹر شاہدہ وزارت کے مطابق، ''اس کمی سے روزگار کے مواقع کم ہوں گے۔ غربت بڑھے گی۔ حکومت اپنے اخراجات کم کرنے کی کوشش کرے گی۔ جس کا مطلب یہ ہے کہ تعلیم، صحت اور دوسرے سماجی شعبوں کے بجٹ میں کمی کی جائے گی، جس سے غربت میں اضافہ ہوگا اور غربت کی وجہ سے جرائم بھی بڑھیں گے۔ جو سیاسی انتشار کا موجب بن سکتے ہیں۔‘‘

کچھ سماجی ماہرین کا خیال ہے کہ مسلسل شرح نمو میں کمی سے کراچی، فیصل آباد، لاہور اور ملک کے دیگر علاقوں میں جرائم کی شرح بھی بڑھ رہی ہے۔

بلوچستان کے سابق وزیر اعلی ڈاکڑ عبدالمالک نے دعویٰ کیا کہ جب سے پی ٹی آئی کی حکومت آئی ہے ملک میں بیس لاکھ سے زائد لوگ بے روزگار ہو چکے ہیں۔

ڈی ڈبلیو سے گفتگو کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا، ''یہ بین الاقوامی پیمانہ ہے کہ ایک فیصد اگر شرح نمو کم ہوتی ہے تو دس لاکھ افراد بے روزگار ہو جاتے ہیں۔ نواز دور میں ترقی کی شرح پانچ فیصد سے زیادہ تھی اور اب وہ تین فیصد سے بھی کم ہو گئی ہے۔ جب کہ اگلے برس یہ مزید کم ہو جائے گی۔ تو اس کا مطلب ہے کہ بے روزگاری اور غربت میں اضافہ ہوگا۔ ریاستی اداروں کے خلاف غصہ بڑھے گا اور ملک ممکنہ طور پرسنگین سماجی و سیاسی مسائل کا شکار ہو جائے گا۔‘‘

ایف اے ٹی ایف کی شرائط: حکومتی اقدامات میں تیزی

پاکستان میں غربت مکاؤ پروگرام کے لیے کام کرنے والے عامر حسین کا خیال ہے کہ معاشی شرح نمو میں کمی سے فی کس آمدنی میں بھی مسلسل کمی ہو رہی ہے۔ ڈی ڈبلیو سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا، ''دوہزار اٹھارہ میں فی کس آمدنی سولہ سو پچاس امریکی ڈالر تھی اب یہ پندرہ سو ہو گئی ہے اور اس کی وجہ یہ ہے کہ اُس وقت شرح نمو پانچ اعشاریہ آٹھ فیصد تھی جو اب دو اعشاریہ چھ فیصد ہے اور اگلے برس یہ دو اعشاریہ چار تک رہ جائے گی اور تب فی کس آمدنی چودہ سو نوے ڈالر ہو جائے گی۔ اس کا مطلب ہے کہ ہماری فی کس آمدنی بنگلہ دیش سے بھی کم ہو جائے گی۔‘‘

پاکستانی روپے کی قدر میں ایک سال میں تیس فیصد کمی

عامر حسین کا یہ بھی کہنا تھا کہ اگر حکومت نے ہنگامی اقدامات نہ کیے تو ہر سال مزید چالیس لاکھ لوگ غربت کی لکیر سے نیچے چلے جائیں گے۔ ان کا کہنا تھا، ''اب بھی سرکاری طور پر پچیس فیصد لوگ غربت کی لکیر سے نیچے ہیں جب کہ آزاد ذرائع کا خیال ہے کہ غربت کی شرح انتالیس فیصد ہے۔ حکومت نے بے نظیر انکم سپورٹ پروگرام کے لیے ایک سو اسی بلین روپے رکھے تھے۔ معاشی نمو میں کمی کی وجہ سے اس کو پہلے ہی ایک سو چالیس ارب کر دیا گیا ہے اور مزید کم کیے جانے کی خبریں بھی ہیں۔ ایسی صورت میں غربت میں بے پناہ اضافہ ہو گا، جو سیاسی طور پر بہت منفی ہو سکتا ہے۔‘‘

ڈی ڈبلیو نے وفاقی حکومت کے کئی ذمہ داروں سے رابطے کرنے کی کوشش کی، لیکن انہوں نے ٹیلی فون کالوں کا جواب نہیں دیا۔

DW.COM