پاکستان کی رضامندی کے بعد واہگہ کے راستے افغان ۔ بھارت تجارت بحال | حالات حاضرہ | DW | 15.07.2020
  1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages
اشتہار

حالات حاضرہ

پاکستان کی رضامندی کے بعد واہگہ کے راستے افغان ۔ بھارت تجارت بحال

پاکستان کی رضامندی کے بعد واہگہ بارڈر کے راستے بھارت کو افغانستان سے مصنوعات کی برآمدات آج بدھ 15جولائی سے بحال ہورہی ہیں۔

گوکہ پاکستان نے یہ فیصلہ افغانستان کی خصوصی درخواست پر کیا ہے تاہم اس پیش رفت کو اسلام آباد پر پڑنے والے بین الاقوامی دباو کا نتیجہ بھی قرار دیا جارہا ہے۔

نئی دہلی میں ذرائع کا کہنا ہے کہ پاکستان نے واہگہ بارڈ کے راستے افغانستان سے بھارت کو برآمدات کے حوالے سے کووڈ 19سے پہلے کی صورت حال بحال کردی ہے۔ پاکستان اور افغانستان کے مابین ایک تجارتی معاہدہ کے تحت افغانستان (واہگہ اٹاری بارڈرکے راستے) بھارت کو اپنی مصنوعات برآمد کرسکتا ہے لیکن وہ بھارت سے مصنوعات درآمد نہیں کرسکتا۔

یاد رہے کہ کورونا وائرس کی عالمی وبا پھوٹنے کے بعد پاکستان نے رواں سال مارچ میں افغانستان اور ایران سمیت ہمسایہ ممالک کے ساتھ اپنی سرحدوں کو بند کر دیا تھا جس کی وجہ سے پاک افغان سرحد پر دو طرفہ تجارت اور واہگہ کے راستے بھارت جانے والی افغان برآمدات بھی رک گئی تھیں۔

پاکستان کا کہنا ہے کہ واہگہ بارڈر کھولنے کی اجازت دینے کے ساتھ ہی اس نے افغانستان پاکستان ٹرانزٹ ٹریڈ ایگریمنٹ (اے پی ٹی ٹی اے) کے تحت 2010 میں ہوئے باہمی تجارتی معاہدہ کے حوالے سے اپنے وعدے پورے کردیے ہیں۔  اس معاہدہ کی رو سے افغان تاجروں کو واہگہ بارڈر تک رسائی کی اجازت حاصل ہے جہاں وہ افغانی مصنوعات بھارتی ٹرکوں میں رکھ سکتے ہیں۔

بھارتی تاجروں اور تجارتی انجمنوں نے پاکستان کے اس فیصلے کا خیرمقدم کیا ہے۔

کنفیڈریشن آف انٹرنیشنل چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری کے سینئر نمائندہ راجدیپ سنگھ اپّل کا کہنا تھا ”ہم پاکستان کے فیصلے کا خیرمقدم کرتے ہیں۔ تین افغانی ٹرک مئی کے اواخر میں بھارت میں داخل ہوئے تھے لیکن اس کے بعد سے آج تک کوئی ٹرک نہیں آسکا ہے۔"

India Delhi | Gewürzmarkt (DW/J. Akhtar)

بھارت افغانستان سے بڑی مقدار میں افغانستان سے خشک میوہ جات اور مصالحے درآمد کرتا ہے۔

کریانہ اور ڈرائی فروٹ ایسوسی ایشن کے صدر انل مہرا کا کہنا تھا کہ پاکستان اور بھارت کے درمیان 1962 اور 1971 کی جنگ کے دوران بھی واہگہ بارڈر کے راستے بھارت اور افغانستان کے درمیان تجارت بند نہیں ہوئی تھی۔ ”پاکستان پر بین الاقوامی دباو پڑا ہے کہ وہ افغانستان اور بھارت کے درمیان تجارت میں رخنہ نہ ڈالے۔"

افغانستان سے خشک میوہ جات اور مصالحے درآمد کرنے والے دہلی کے تاجر زبید علی نے اس نئی پیش رفت پر خوشی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ افغانستان کو ٹرانزٹ روٹ کی اجازت دینے کا یہ نہایت مناسب وقت ہے ورنہ دیوالی کی آمد سے پہلے یہا ں خشک میووں کی قیمت آسمان کو پہنچ جاتی۔  ان کا کہنا تھا”ہم نے آرڈر دے دیے تھے اور دیگر راستوں کے بارے میں سوچ رہے تھے لیکن اس سے ہماری لاگت کافی بڑھ جاتی۔"

ایک دیگر تاجر مہیش کمار نے کہا کہ 'جاڑے کے دنوں میں افغانستانی بادام کی مانگ بہت بڑھ جاتی ہے اور خردہ مارکیٹ میں اس کی قیمت پہلے ہی 900  روپے فی کلوگرام سے تجاوز کرچکی ہے۔ اگر واہگہ روٹ نہیں کھولا جاتا ہے تو جلد ہی اس کی قیمت 1200 روپے فی کلوگرام تک پہنچ جائے گی۔"

بھارت کے وزارت ٹرانسپورٹ سے وابستہ ایک اعل افسر نے بتایا کہ ”ہمیں یہ اطلاع مل چکی ہے کہ پاکستان نے 15 جولائی سے افغانستان کو اپنی مصنوعات بھارت ایکسپورٹ کرنے کی اجازت دے دی ہے۔ ہماری ٹیمیں تیار ہیں۔"

خیال رہے کہ پاکستانی دفتر خارجہ نے اس اقدام کو پاکستان اورافغانستان کے درمیان تجارتی سطح پر ایک بڑی پیش رفت قرار دیا تھا۔ گزشتہ پیر کو پاکستانی دفتر خارجہ کی طرف سے جاری بیان میں کہا گیا ”افغان حکومت کی خصوصی درخواست پر پاکستان نے بھارت جانے والی افغان برآمدات کے لیے واہگہ بارڈر کھول کر 'افغان ٹرانزٹ ٹریڈ' معاہدے کے تحت اپنی ذمہ داریوں کو پورا کر دیا ہے اور افغانستان کے ساتھ دو طرفہ تجارت اور ٹرانزٹ ٹریڈ کو 'کووڈ 19' سے پہلے کی حالت پر بحال کر دیا ہے۔"

ویڈیو دیکھیے 02:11

’گرو نانک کے گردوارے میں عبادت کرنے کی خواہش پوری ہوگئی‘

DW.COM