پاکستان کی جیت کشمیری طلبہ کے لیے وبال جان بنی ہوئی ہے | حالات حاضرہ | DW | 28.10.2021
  1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages
اشتہار

حالات حاضرہ

پاکستان کی جیت کشمیری طلبہ کے لیے وبال جان بنی ہوئی ہے

پاکستانی کرکٹ ٹیم کی فتح کی 'خوشی منانے‘ کے الزام میں کشمیر میں طلبہ کے خلاف انسداد دہشت گردی قانون کے تحت مقدمات درج کیے گئے ہیں جبکہ آگرہ میں تین کشمیری طلبہ کے خلاف بغاوت کا مقدمہ درج کر کے انہیں گرفتار کر لیا گيا ہے۔

ٹی 20 ورلڈ کپ کے ایک میچ میں بھارت کے خلاف پاکستان کی فتح کی 'خوشی منانے‘ کے الزام میں سری نگر کے شیر کشمیر انسٹی ٹیوٹ آف میڈیکل سائنسز اور گورنمنٹ میڈیکل کالج کی طالبات کے خلاف ریاستی پولیس نے انسداد دہشت گردی کے  قانون یو اے پی اے کی مختلف دفعات کے تحت کیس درج کیا ہے۔ جموں خطے میں نصف درجن افراد کو حراست میں لیا گیا ہے۔ متعدد حلقے  یو اے پی اے کو سیاہ قانون کہتے ہیں۔

ریاست اتر پردیش کی پولیس نے آگرہ کے ایک کالج میں زیر تعلیم انجینئرنگ کے تین طلبہ کے خلاف بغاوت کا مقدمہ درج کرکے انہیں گرفتار کر لیا ہے۔ اس سے قبل انہیں کالج سے نکال دیا گيا تھا۔ ادھر صوبہ راجستھان کے ادے پور میں ایک مسلم خاتون ٹیچر کو واٹس اپ اسٹیٹس کی بنیاد پر ملازمت سے برطرف کر دیا گیا ہے۔

کئی کشمیری رہنماؤں نے طلبہ کے خلاف پولیس کی کارروائی کی مذمت کی ہے اور ان کے خلاف کیسز کو واپس لینے کا مطالبہ کیا ہے۔  سابق وزیر اعلی محبوبہ مفتی کا کہنا تھا، "جموں و کشمیر میں جاری دو برس کے ظلم و جبر کے بعد کی صورت حال، بھارتی حکومت کی آنکھ کھولنے کے لیے کافی ہونی چاہیے تھی اوراس سے اسے اپنی اصلاح کر نی چاہیے تھی۔"  

خوشی منانے کی سزا

دلچسپ بات یہ ہے کہ پاکستان اور بھارت کے درمیان ٹی 20 کا میچ جس دن ہوا اس وقت بھارت کے وفاقی وزیر داخلہ امیت شاہ کشمیر کے دورے پر تھے۔ اس دوران انہوں نے کشمیری نوجوانوں کو جوڑنے کے حوالے سے کئی بیانات دیے تھے۔ تاہم اس کے دو روز بعد ہی کشمیری طلبہ کے خلاف سیاہ ترین قانون یو اے پی کے تحت کیس درج کر لیا گیا۔ یو اے پی اے کا قانون دہشت گردی کی سرگرمیوں کو روکنے کے لیے بنایا گیا تھا اور اس کے تحت پولیس کو غیر معمولی اختیارات حاصل ہیں۔

پولیس کے ایک اعلی افسر نے بتایا کہ دو مختلف تھانوں میں ایف آئی آر درج کیے گئے ہیں اور تفتیش جاری ہے۔فی الحال کسی کی گرفتاری نہیں ہوئی ہے۔ ایک سرکاری ذرائع کا کہنا تھا کہ ایف آئی آر میں لکھا گیا ہے،”ایم بی بی ایس اور دیگر ڈگری کورسز میں زیر تعلیم طلبہ نے نعرے لگائے اور پٹاخے پھوڑے۔ وہ شور مچارہے تھے اور رقص کر رہے تھے۔"

جموں خطے کے سامبا ضلع کے پولیس سربراہ راجیش شرما نے بتایا کہ بین الاقوامی سرحد کے قریب سے چھ سات افراد کو حراست میں لیا گیا۔ وہ پاکستان کی فتح کے بعد مبینہ طور پر پاکستان کے حق میں نعرے لگا رہے تھے۔ انہوں نے بتایا،”ہم نے کیس درج کر لیا ہے اور مزید افراد کو پوچھ گچھ کے لیے طلب کیا جاسکتا ہے۔ قصوروار پائے جانے پر ان کے خلاف قانونی کارروائی کی جائے گی۔"

یہ بہت سخت کارروائی ہے

 جمو ں و کشمیر بی جے پی کے سربراہ نے ایک بیان میں کہا،”ہماری مادر وطن کی سالمیت اور خودمختاری کے لیے جو کوئی بھی خطرہ بنے گا اسے کچل کر رکھ دیا جائے گا۔ ان لوگوں کے خلاف کیس دائر کیا گیا ہے جنہوں نے پاکستان کی فتح پر کشمیر او ردوسری جگہوں پر جشن منایا تھا۔"

جموں و کشمیر اسٹوڈنٹس ایسوسی ایشن نے لیفٹننٹ گورنر منوج سنہا سے طلبہ کے خلاف یو اے پی اے کے تحت عائد الزامات کو انسانی بنیادوں پر واپس لینے کی اپیل کی ہے۔ایسوسی ایشن نے ایک بیان میں کہا،”طلبہ نے جو کچھ کیا ہم اس کو درست قرار نہیں دے رہے ہیں لیکن ان کے خلاف کیس کے نتیجے میں ان کا کیریئر تباہ ہو جائے گا۔ یہ بہت سخت فیصلہ ہے۔"

آگرہ:کشمیری طلبہ کا اخراج

 آگرہ کے راجہ بلونت سنگھ انجینئرنگ ٹیکنیکل کالج میں پڑھنے والے تین کشمیری طلبہ کے خلاف بھی کیس درج کرنے کے بعد کالج سے نکال دیا گیا ہے۔آگر ہ شہر کے سپرنٹنڈنٹ پولیس وکاس کمار نے بتایا کہ ان طلبہ نے واٹس ایپ پر کچھ پیغامات بھیجے تھے، جو ملک کے خلاف تھے۔ ان تینوں کے خلاف مختلف گروپوں میں دشمنی پیدا کرنے اور عوام میں خوف پیدا کرنے جیسی تعزیرات کے تحت کیس درج کیا گیا ہے۔

کالج کے ایک عہدیدار کا کہنا تھا کہ تینوں طلبہ نے ”پاکستان کے حق میں پوسٹ کر کے ضابطے کی خلاف ورزی کی تھی۔ یہ طلبہ پاکستانی ٹیم کے کپتان بابر اعظم کی حمایت کر رہے تھے۔بعض طلبہ نے یہ بات انتظامیہ کی علم میں لائی جس کے بعد ان طلبہ سے پوچھ گچھ کی گئی۔"

حالانکہ ان طلبہ نے انتظامیہ سے معافی مانگ لی تھی لیکن کالج انتظامیہ نے انہیں کالج اور ہاسٹل سے نکال دیا۔

ٹیچر بھی برطرف

ادھر راجستھان کے ادے پور میں ایک پرائیوٹ اسکول کی ٹیچر نفیسہ عطاری نے اپنے واٹس ایپ اسٹیٹس پر پاکستانی کھلاڑیوں کی تصویر لگا لی تھی اور میچ کے بعد انہوں نے لکھا 'ہم جیت گئے۔‘

ان کے واٹس ایپ اسٹیٹس کا ویڈیو وائرل ہو گیا، جس کے بعد اسکول انتظامیہ نے انہیں برطرف کر دیا جبکہ پولیس نے ان کے خلاف قومی اتحاد کو مجروح کرنے کا کیس درج کر لیا ہے۔

نفیسہ عطاری کا کہنا تھا ”یہ سب کچھ صرف مذاق میں تھا۔میں ایک بھارتی ہوں، بھارت سے محبت کرتی ہوں اور میں مجھے بھی بھارت سے اتنا ہی پیا ر ہے جتنا کے کسی اور کو۔" ان کا مزید کہنا تھا کہ انہوں نے فوراً ہی اسٹیٹس میسج ڈیلیٹ کر دیا اور”اگر کسی کے جذبات کو ٹھیس پہنچی ہو تو میں اس کے لیے معذرت خواہ ہوں۔"

انتقامی کارروائیوں سے کوئی فائدہ نہیں ہو گا

جموں و کشمیر کی سابق وزیر اعلیٰ محبوبہ مفتی کا کہنا ہے کہ بھارت سرکار تعلیم یافتہ نوجوانوں کی اپنی شناخت پاکستان کے ساتھ کرانے کی وجوہات معلوم کرانے کی بجائے انتقامی کارروائیاں عمل میں لا رہی ہیں۔ ایسی کارروائیوں سے حکومت اور نوجوانوں کے درمیان دوریاں مزید بڑھ جائیں گی۔

پیپلز کانفرنس کے صدر سجاد غنی لون نے پاکستان کی جیت پر جشن منانے کے الزام میں میڈیکل طلبا پر مقدمہ درج کرنے کی مذمت کرتے ہوئے کہا ہے،”ہم کشمیر میں رہتے ہیں تو نظریاتی اختلاف رکھنے والوں کے ساتھ مل جل کر رہنا ہی ہے۔ ہندوستان مخالف ہونا یا پاکستان حامی ہونا کوئی نا قابل علاج مرض نہیں ہے۔ یہ ایک قابل علاج مرض ہے لیکن تعزیری اقدامات سے یہ مرض مزید بڑھ سکتا ہے۔"

DW.COM