پاکستان کی تاریخ میں قبائلی علاقوں کے پہلے صوبائی انتخابات | حالات حاضرہ | DW | 19.07.2019
  1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages
اشتہار

حالات حاضرہ

پاکستان کی تاریخ میں قبائلی علاقوں کے پہلے صوبائی انتخابات

پاکستان کی تاریخ میں پہلی مرتبہ صوبہ خیبر پختونخوا میں شامل ہونے والے قبائلی اضلاع میں انتخابات منعقد ہو رہے ہیں۔ صوبائی اسمبلی کی سولہ نشستوں کے لیے دو سو پچاسی اُمیداوار میدان میں اُترے ہیں۔

ہفتے کو ہونے والے ان انتخابات میں آزاد امیدواروں کی تعداد دو سو دو ہے جبکہ سیاسی جماعتوں میں پاکستان تحریک انصاف، عوامی نیشنل پارٹی اور جمیعت علماء اسلام نے زیادہ امیدوار میدان میں اتارے ہیں۔ مرکز اور پختونخوا میں حکمران سیاسی جماعت پی ٹی آئی کے حوالے سے الیکشن پر اثر انداز ہونے کی شکایات بھی سامنے آئی ہیں۔ اپوزیشن کے امیدواروں کے مطابق صوبائی حکومت کی طرف سے عوام کو مفت طبی سہولیات کی فراہمی، بے روزگار نوجوانوں کو قرضے جاری کرنے اور سیاسی بنیادوں میں پر تعمیراتی منصوبوں کا آغاز براہ راست ووٹرز پر اثر انداز ہونے کی کوششیں ہیں۔ 
 الیکشن کمیشن نے ان اعتراضات کا نوٹس لیتے ہوئے تعمیراتی کاموں سمیت قرضوں اور صحت سہولت کارڈز کی تقسیم پر عارضی پابندی عائد کر دی ہے۔ انتظامات کے حوالے سے ڈوئچے ویلے نے الیکشن کمیشن کے ترجمان سہیل احمد سے رابطہ کیا تو انہوں نے بتایا، ’’تمام تر انتظامات مکمل کیے جا چکے ہیں اور الیکشن کے لیے تمام سامان پولنگ اسٹیشوں تک پہنچا دیا گیا ہے۔ خواتین کو تمام تر سہولیات فراہم کی جائیں گی تا کہ وہ ووٹ کا حق استعمال کر سکیں۔ ‘‘


سہیل احمد نے مزید بتایا کہ کوڈ آف کنڈکٹ کی خلاف ورزی کرنے والوں کے خلاف فوری ایکشن لیا جائے گا۔ ان کا کہنا تھا، ’’جہاں جہاں سے شکایات موصول ہوئیں، الیکشن کمیشن نے فوری نوٹس لیا اور اگر خواتین کے ووٹ ڈالنے کی شرح دس فیصد سے کم رہی تو وہ الیکشن کالعدم قرار دے دیے جائیں گے۔‘‘
بعض قبائلی اضلاع میں خواتین کو پولنگ اسٹیشنز تک لانے کے لیے ٹرانسپورٹ کا انتظام بھی کیا گیا ہے۔ باجوڑ اور مہمند سمیت کئی اضلاع میں پی ٹی آئی کے اُمیدواروں کو مشکلات اور سخت مقابلے کا سامنا ہے۔ پارٹی ٹکٹیں نہ ملنے کی وجہ سے تحریک انصاف کے ہی کئی کارکن آزاد حیثیت سے پی ٹی آئی کے مقابلے پر کھڑے ہیں۔ پی ٹی آئی کے امیدواروں کو ملک کے معاشی مسائل، مہنگائی اور بے روزگاری کی وجہ سے بھی تنقید کا سامنا ہے۔ جنوبی اور شمالی وزیر ستان میں دفعہ ایک سو چوالیس لگا کر سیاسی جماعتوں کے امیدواروں کی سیاسی سرگرمیاں محدود کر دی گئی ہیں۔ اگرچہ پختون تحفظ موومنٹ کی قیادت الیکشن سے دور ہے لیکن ایسا دیکھا گیا ہے کہ ان کے ہم خیال امیدواروں کو عوام میں پذیرائی حاصل ہے۔ وزیرستان سمیت کئی دیگر علاقوں میں بحالی اور تعمیر نو کے کاموں میں تاخیر نے بھی قبائلی عوام کو تحریک انصاف سے دور رہنے میں کردار ادا کیا ہے۔


عوامی نیشنل پارٹی کے صوبائی سیکریٹری جنرل سردار حسین بابک کا انتخابات کے حوالے سے کہنا تھا، ’’ تمام اضلاع کے دور دراز علاقوں میں کرفیو کا سا سماں بنا دیا گیا ہے۔ صرف حکومتی جماعت کے امیدواروں کو انتخابی مہم چلانے کی اجازت دی گئی ہے اور سرکاری مشینری کا کھلے عام استعمال کیا جا رہا ہے۔ دیگر جماعتوں کے کارکنوں اور امیدواروں پر دباؤ ڈالا جا رہے ہے۔ ‘‘
دہشت گردی کے خلاف جنگ کے دوران قبائلی اضلاع میں صحت اور تعلیم کے مراکز بری طرح تباہ ہو گئے تھے اور ان کی بحالی کے لیے ابھی تک موثر اقدامات سامنے نہیں آئے۔ اسی طرح ایک بڑی تعداد آج بھی حکومتی کی جانب سے تباہ حال گھروں کے معاوضے سے محروم ہے۔ یہ بات بھی انتخابات کے دوران پی ٹی آئی کے ووٹ بینک پر اثر انداز ہو سکتی ہے۔
پی ٹی آئی کے ناراض امیدواروں کا کہنا ہے کہ پارٹی نے ٹکٹ ایم این ایز اور سینیٹرز کے رشتہ داروں کی دیے ہیں۔ 
ہفتے کو ہونے والے انتخابات میں ایسے امیدوار بھی سامنے آئے ہیں، جو قبائلی علاقوں کے خیبر پختونخوا میں انضمام کے سخت مخالف رہے ہیں۔ اگر چہ زیادہ تر علاقوں میں سیاسی جماعتوں کا ووٹ بینک ہے لیکن اب بھی کرم اور ضلع اورکزئی سمیت کئی دیگر اضلاع میں برادریوں اور قبیلوں کا اجتماعی ووٹ بنک ہے۔ یہ ووٹ کس کو ڈالے جائیں گے، اس کا فیصلہ اب بھی جرگوں میں ہی کیا جاتا ہے۔

DW.COM