پاکستان کی احمدی کمیونٹی کا الیکشن بائیکاٹ | الیکشن اسپیشل 2018 | DW | 19.07.2018
  1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages
اشتہار

الیکشن اسپیشل 2018

پاکستان کی احمدی کمیونٹی کا الیکشن بائیکاٹ

پاکستان کی احمدی برادری  نےعام انتخابات کے بائیکاٹ کا اعلان کر دیا ہے۔ دوسری جانب کراچی کے آزاد امیدوار جبران ناصر نے الزام عائد کیا ہے کہ انہیں احمدیوں کو گالیاں دینے پر اکسایا جارہا ہے۔

پاکستان میں جماعت احمدیہ کے ترجمان  سلیم الدین نے ڈی ڈبلیو سے گفتگو کرتے ہوئے بتایا، ’’بظاہر ان انتخابات میں مذہبی تفریق کرتے ہوئے صرف احمدیوں کے لیے الگ ووٹر لسٹ بنائی گئی ہے۔‘‘ سلیم کہتے ہیں کہ انتخابی قوانین کے تحت احمدی رائے دہندگان کی الگ فہرست مرتب کی گئی ہے۔

ربوہ کی جانب سے انتخابات کا بائیکاٹ کرنے سے متعلق ایک بیان میں لکھا گیا ہے کہ اس وقت رائے دہندگان کی ایک فہرست میں مسلمان، ہندو، مسیحی، پارسی، سکھ اور دیگر مذاہب کے افراد کے نام شامل ہیں جب کہ صرف احمدیوں کے لیے ہی الگ ووٹر لسٹ بنائی گئی ہے۔ سلیم الدین نے ڈی ڈبلیو سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ان حالات میں جماعت احمدیہ انتخابات سے لاتعلقی کا اعلان کرتی ہے۔

دوسری جانب پاکستان کے شہر کراچی کے حلقہ پی ایس 111 اور این اے 247 کی نشستوں سے آزاد حیثیت میں کھڑے ہونے والے امیدوار، وکیل اور سماجی کارکن جبران ناصر نے ایک پریس کانفرنس میں کہا کہ انہیں مسلسل کئی دنوں سے احمدیوں کے خلاف بولنے اور انہیں گالیاں دینے پر اکسایا جا رہا ہے۔

جبران ناصر کا کہنا تھا کہ گزشتہ کئی روز سے ان کی کارنر میٹنگز میں ایسے افراد آ جاتے ہیں جو ان پر زور ڈالتے ہیں کہ وہ احمدیوں کو ’کافر‘ کہیں اور ان کے خلاف بات کریں۔ ناصر نے کہا کہ یہ ایک باقاعدہ مہم کے تحت کیا جارہا ہے اور انہوں نے پولیس اور الیکشن کمیشن کو اس کی شکایت درج کرادی ہے۔

سوشل میڈیا پر کئی افراد جبران ناصر کے حق میں بات کر رہے ہیں۔ ڈان نیوز سے وابستہ کالم نویس ندیم فاروق پراچہ نے ایک ٹویٹ میں لکھا، ’’این اے 247 میں ’شدت پسند‘ جبران ناصر کی حوصلہ شکنی کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ ان میں سے کسی ایک کو بھی حق نہیں کہ وہ اسمبلیوں کا حصہ بنیں۔‘‘

صحافی ضرار کھوڑو نے اپنی ٹویٹ میں لکھا، ’’انتہائی دائیں بازو کے ووٹروں کو اپنی طرف راغب کرنے کے لیے جہاں سب کچھ کیا جارہا ہے وہاں جبران ناصر بہادری کی علامت بنے ہیں اور وہ وہ سب کچھ کر رہے ہیں جو کہ ہمارے ’تجربہ کار‘ سیاست دان کرنے میں ناکام ہیں۔‘‘

DW.COM