پاکستان کو نئے وفاقی وزیر خزانہ کی تلاش | حالات حاضرہ | DW | 23.11.2017
  1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

پاکستان کو نئے وفاقی وزیر خزانہ کی تلاش

پاکستانی وزیر اعظم نے وزیر خزانہ اسحاق ڈار کی چھٹی کی درخواست منظور کرتے ہوئے ان سے وزارت خزانہ کا قلمدان واپس لے لیا ہے۔ اب یہ جنوبی ایشیائی ریاست نئے ملکی وزیر خزانہ کی تلاش میں ہے۔

اسحاق ڈار سے وزارت خزانہ کا قلمدان واپس لے لیے جانے سے متعلق اطلاعات گزشتہ کئی دنوں سے مقامی میڈیا میں گردش کر رہی تھیں۔ ڈار کے خلاف احتساب عدالت میں مقدمہ چل رہا ہے اور نیب کی ایک عدالت میں پیش نہ ہونے کی بنا پر ان کے ناقابل ضمانت وارنٹ گرفتاری بھی جاری کیے جا چکے ہیں۔

اسحاق ڈار پر بدعنوانی کے الزام میں فرد جرم عائد کر دی گئی

تاہم اسحاق ڈار خود پر لگائے گئے الزامات کی تردید کرتے ہیں اور ان کے مطابق وہ علاج کی غرض سے لندن میں موجود ہیں۔ حکمران جماعت مسلم لیگ ن سے تعلق رکھنے والے اسحاق ڈار نواز شریف کے قریبی عزیز بھی ہیں اور حکمران جماعت نواز شریف اور اسحاق ڈار کے خلاف الزامات کو ملک کی طاقتور فوج اور اپوزیشن کی جانب سے ’سیاسی انتقام‘ قرار دیتی ہے۔

وزیر خزانہ کے طور پر ڈار نے ملکی وزیر اعظم شاہد خاقان عباسی کو چھٹی کی ایک درخواست بھیجی تھی۔ روئٹرز کے مطابق وزیر اعظم نے غیر معینہ مدت کے لیے ان کی چھٹی منظور کرتے ہوئے ان سے وزارت خزانہ کا قلمدان بھی واپس لے لیا ہے۔

وفاقی وزیر خزانہ کے طور پر اسحاق ڈار کو سن دو ہزار تیرہ میں ملک کو ’گردشی ادائیگیوں‘ کے بھنور سے نکالنے کا کریڈٹ دیا جاتا ہے۔ وزارت خزانہ سے ان کی علیحدگی ایک ایسے موقع پر ہوئی ہے جب پاکستان زر مبادلہ کے کم ہوتے ہوئے ذخائر کے باعث سرکاری آمدنی اور ادائیگیوں میں توازن تلاش کرنے کی تگ و دو میں ہے۔

اسحاق ڈار کے بعد پاکستانی ذرائع ابلاغ میں ان کے ممکنہ جانشین وزیر خزانہ کے طور پر مفتاح اسماعیل اور سرتاج عزیز کے نام سامنے آ رہے ہیں۔ سرتاج عزیز اس سے قبل بھی پاکستان کے وزیر خزانہ رہ چکے ہیں جب کہ مفتاح اسماعیل کچھ عرصہ قبل تک پاکستان کے ’بورڈ آف انویسٹمنٹ‘ کے چیئرمین تھے۔

علاوہ ازیں ایسی خبریں بھی ہیں کہ وزیر اعظم شاہد خاقان عباسی اسحاق ڈار کی چھٹی کے دوران اور شاید آئندہ برس ہونے والے عام انتخابات تک وزارت خزانہ کا قلمدان بھی سنبھال لیں گے۔

تاہم ماہرین کی رائے میں اس بات سے قطع نظر کہ ڈار کی جگہ آئندہ یہ ذمہ داری کون نبھائے گا، ایک بات طے ہے کہ پاکستانی روپے کی قدر کو مستحکم رکھنے کی ڈار کی پالیسی آئندہ دنوں میں بھی جاری رکھی جائے گی۔ حکمران جماعت آئندہ عام انتخابات سے قبل روپے کی قدر میں کمی کے نتیجے میں ممکنہ طور پر بہت زیادہ افراط زر کی صورت حال کی متحمل نہیں ہو سکتی۔

اسحاق ڈار کے ناقابل ضمانت وارنٹ گرفتاری جاری

DW.COM

اشتہار