پاکستان کرسمس کے موقع پر بھارتی مچھیروں کو رہا کرے گا | حالات حاضرہ | DW | 23.12.2016
  1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

پاکستان کرسمس کے موقع پر بھارتی مچھیروں کو رہا کرے گا

پاکستان کرسمس کے  موقع پر بھارت کے ان 439 مچھیروں کو رہا کرے گا جن کی کشتیاں غلطی سے پاکستانی سمندری علاقے میں پہنچ گئی تھیں۔

تجزیہ کاروں کے مطابق ہمسایہ ملک بھارت  کے قیدیوں کو رہا کرنا دونوں ممالک کے درمیان شدید کشیدگی میں کچھ حد تک آنے والی کمی کو ظاہر کرتا ہے۔ پولیس اہلکار معشوق علی نے نیوز ایجنسی ڈی پی اے کو بتایا،’’ اس ہفتے کے اختتام پر ان مچھیروں کو رہا کر دیا جائے گا اور بھارتی انتظامیہ کے حوالے کیا جائے گا۔‘‘ان مچھیروں کو پاکستان کے جنوبی شہر کراچی سے رہائی دی جائے گی۔

پاکستان اور بھارت  ایک دوسرے ملک کے مچھیروں کو سمندر پر بین الاقوامی حدود پار کرنے کی صورت میں گرفتار کر لیتے ہیں۔ اکثر انہیں فوری طور پر رہا کر دیا جاتا ہے لیکن جب دونوں ممالک کے درمیان کشیدگی کی صورتحال ہو تو ان مچھیروں کو کئی ماہ اور بعض اوقات طویل عرصے تک جیل میں مقید رہنا پڑتا ہے۔

پاکستان اور بھارت کے درمیان رواں برس تعلقات مزید کشیدہ اس وقت ہوئے جب بھارتی زیر کنٹرول کشمیر کی  لائن آف کنٹرول کے نزدیک ایک بڑے فوجی مرکز پر عسکریت پسندوں نے حملہ کیا تھا۔ اس حملے میں کم از کم اٹھارہ فوجی مارے گئے تھے۔  عسکریت پسندوں نے یہ حملہ بھارت  کے زیر انتظام کشمیر میں ایک باغی لیڈر برہان وانی کو ہلاک کرنے جواب میں کیا تھا۔ بھارت فوجی مرکز پر حملے کا ذمہ دار پاکستان کو ٹھہرایا تھا۔ کچھ تجزیہ کاروں کی رائے میں اس خطے کی سلامتی اور ترقی کے لیے ضروری ہے کہ پاکستان اور بھارت دوطرفہ تعلقات میں بہتری لائیں۔

 

DW.COM