پاکستان: کراچی چڑیا گھر کے جانورعدم توجہ کا شکار ہیں | معاشرہ | DW | 03.12.2021
  1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages
اشتہار

معاشرہ

پاکستان: کراچی چڑیا گھر کے جانورعدم توجہ کا شکار ہیں

ایک پاکستانی چڑیا گھر میں ایک نایاب شیر کی موت کے بعد سوشل میڈیا پر ناقدین نے چڑیاگھروں کے مخدوش و خراب حالات کو تنقید کا نشانہ بنایا ہے۔ جانوروں کی حیات کے حامی اب بقیہ جانوروں کی صحت بارے آواز بلند کیے ہوئے ہیں۔

رواں برس 24 نومبر کو ایک نایاب سفید شیر پاکستانی شہر کراچی کے چڑیا گھر میں تپِ دق کی بیماری سے ہلاک ہو گیا۔ اس شیر کی ہلاکت کے بعد جانوروں کے حقوق کے پاکستانی کارکنوں کا کہنا ہے کہ شیر کی ہلاکت چڑیا گھر کے ملازمین کی غفلت کا نتیجہ ہے۔

کاون کے حق میں فیصلہ، امریکی سنگر شئر بھی خوش ہو گئیں

اس تنقید کے بعد کراچی چڑیا گھر کے نگران ادارے کراچی میونسپل کارپوریشن نے چڑیا گھر کے انچارج کو نوکری سے برخاست کر دیا۔

Hitze Wetter Klima

کراچی چڑیا گھر میں ایک ٹائیگر گرمی میں برف کو چاٹتے ہوئے

کراچی کا چڑیا گھر مخدوش حالات میں

پاکستان کے مالیاتی مرکز کراچی کے چڑیا گھر کے ناقص انتظامی حالات کے بارے میں سرگرم افراد کی منفی تنقید سفید شیر کی موت سے ایک ہفتہ قبل سوشل میڈیا پر آنا شروع ہو گئی تھی۔ پاکستان میں بین الاقوامی ادارے ورلڈ وائلڈ لائف فنڈ (WWF) کے سینیئر ڈائریکٹر رب نواز نے شیر کی موت کو انتظامیہ کی غفلت کا نتیجہ قرار دیا اور کہا کہ ایسا دکھائی دیتا ہے کہ ایک قیمتی جانور کو انتہائی غیر صحت مند حالات میں رکھا گیا تھا۔

ڈی ڈبلیو سے بات کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ انتظامیہ کو بیمار شیر کو قرنطینہ میں رکھنا چاہیے تھا۔ ان کا یہ بھی کہنا ہے کہ کراچی کے چڑیا گھر کو وسائل کی کمی کا بھی سامنا ہے، اس میں نہ تو جانوروں کا معالج موجود ہے اور نہ ہی عملہ مناسب تربیت کا حامل ہے۔

پاکستان لاک ڈاؤن، پنجروں میں بند سینکڑوں جانور ہلاک

کراچی سے تعلق رکھنے والی جانوروں کی حیات کی ماہر اسما گھی والا نے ڈی ڈبلیو کو بتایا کہ چڑیا گھر میں جانوروں کی مناسب طبی سہولیات کا شدید فقدان ہے۔ انہوں نے بتایا کہ چڑیا گھر کو اخراجات کے لیے سرمایہ بھی فراہم نہیں کیا جاتا اور اس کی وجہ چڑیا گھر کے کُل بجٹ میں سے 70 سے 80 فیصد ملازمین کی تنخواہوں میں نکل جاتا ہے۔ اسما گھی والا نے مزید بتایا کہ چڑیا گھر کا انحصار امداد پر ہے اور انتظامیہ کو چاہیے کہ وہ نئی بھرتیوں کے سلسلے کو فوری طور پر بند کرے۔

Pakistan Zoo in Karatschi | Elefant

کراچی چڑیا گھر کے ہاتھی کو نہلایا جا رہا ہے

اسٹاف کم، جانوروں کی خوراک محدود

کراچی کا چڑیا گھر 33 ایکڑ رقبے پر پھیلا ہوا ہے اور پاکستان کے بڑے چڑیا گھروں میں شمار کیا جاتا ہے۔ اس میں تربیت یافتہ اسٹاف بھی کم ہے۔ ایک بڑے جانور کے پنجرے یا کمرے کو مناسب انداز میں صاف کرنے میں کم از کم ایک گھنٹہ درکار ہوتا ہے اور موجود ملازمین کو اس کام میں شدید مشکلات کا سامنا ہے۔

چڑیا گھر کو خوراک فراہم کرنے والے ٹھیکیدار امجد محبوب کا کہنا ہے کہ اسے رواں برس فروری سے فراہم کردہ خوراک کی ادائیگی نہیں کی گئی ہے۔ انہوں نے رقم کی ادائیگی میں مزید تاخیر پر خوراک فراہم کرنے کا سلسلہ بند کرنے کی دھمکی بھی دے رکھی ہے۔ اب انتظامیہ نے انہیں بقایا جات ادا کرنے کا وعدہ دیا ہے۔

پاکستانی اشرافیہ کے شوق، نایاب اور مہنگے جانور

عدالت کی مداخلت

جانوروں کے حقوق کے سرگرم کارکنوں نے اس چڑیا گھر کے بارے میں گہری تشویش ظاہر کی ہے۔ ایک ایسے ہی کارکن اویس اعوان کا کہنا ہے کہ ایک ماہر حیوانات کی کراچی چڑیا گھر میں ضرورت ہے تا کہ جانوروں کے باقاعدہ طبی معائنے کا سلسلہ شروع کیا جا سکے۔ ان کا کہنا ہے کہ انہوں نے مقامی ہائی کورٹ سے رجوع کیا ہے اور عدالت کی ہدایت پر قریبی چڑیا گھر اور سفاری پارک میں رکھے گئے چار افریقی ہاتھیوں کا طبی معائنہ کرایا گیا۔

یہ امر اہم ہے کہ چڑیا گھر کسی مقامی ماہر حیوانات سے معائنہ کرانا چاہتا تھا لیکن عدالت نے غیر ملکی ماہرین کی خدمات کو فوقیت دی۔ ایک غیر ملکی ماہرین کی ٹیم نے پاکستان پہنچ کر ان جانوروں اور خاص طور پر ہاتھیوں کا معائنہ بھی کیا ہے۔

Four Paws

کراچی کے سفاری پارک میں رکھے گئے دو ہاتھیوں میں سے ایک مٹی سے کھیلتا ہوا

اس ٹیم میں جرمن دارالحکومت برلن کے لائبنس انسٹیٹیوٹ برائے زُو اور وائلڈ لائف ریسرچ ادارے سے منسلک ماہرین کی ٹیم کے سرکردہ ماہر فرانک گؤرٹس بھی شامل ہیں۔ برلن کی فری یونیورسٹی کے ماہر تھوماس ہیلڈے برانٹ بھی پاکستان پہنچے۔

گلگت میں ایک اور امریکی کی ہاتھوں مارخور کا شکار

اس ٹیم نے سندھ ہائی کورٹ میں جو رپورٹ پیش کی ہے، اس میں واضح کیا کہ سفاری پارک اور چڑیا گھر کے ہاتھیوں کو شدید کم خوراکی کا سامنا ہے۔ ماہرین نے رپورٹ میں تجویز کیا کہ بہتر میڈیکل چیک اپ اور رہنے کے حالات کو بہتر بنانا بہت ضروری ہو چکا ہے۔

ناقدین کا تاہم سوال ہے کہ چڑیا گھر کی بہتری کے لیے فنڈ کون فراہم کرے گا اور کہاں سے آئے گا۔

ایس خان، اسلام آباد (ع ح/ا ب ا)