پاکستان کا یوم آزادی، کشمیر کا موضوع زیربحث | حالات حاضرہ | DW | 14.08.2019
  1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages
اشتہار

حالات حاضرہ

پاکستان کا یوم آزادی، کشمیر کا موضوع زیربحث

آج پاکستان کا 73 یوم آزادی منایا جا رہا ہے۔ بھارت کی جانب سے کشمیر کی حیثیت تبدیل کرنے کے تازہ فیصلے کا واضح اثر یوم آزادی کی ان تقاریب پر دیکھا جا سکتا ہے۔

پاکستان کے یوم آزادی کی سرکاری تقریب تو دارالحکومت اسلام آباد میں ہوئی، جس کی صدارت صدر عارف علوی نے کی، تاہم وزیراعظم عمران خان پاکستان کے زیرانتظام کشمیر کے مرکزی شہر مظفر آباد میں ہیں۔ بدھ کے روز اپنے ایک بیان میں عمران خان نے بھارت کی جانب سے پانچ اگست کو کشمیر کی حیثیت میں تبدیلی کے فیصلے کی مذمت کی اور کشمیروں کے ساتھ یک جہتی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان کشمیروں کے حقِ خود ارادیت کے لیے کوشاں رہے گا۔

کشمیر حساس معاملہ ہے: بھارتی سپریم کورٹ

کشمیر سے متعلق بھارتی فیصلہ: کس ملک نے کیا کہا؟

عمران خان پاکستان کا یوم آزادی منانے کے لیے مظفر آباد میں موجود ہیں۔ وہ آج کشمیر کی قانون ساز اسمبلی سے خطاب بھی کر رہے ہیں۔ بھارت اور پاکستان دونوں نے 1947 میں برطانیہ سے آزادی حاصل کی تھی، تاہم آزادی کے ساتھ ہی کشمیر کے موضوع پر ان دونوں ممالک کے درمیان جنگ ہوئی۔ اسی تناظر میں کشمیر کا خطہ دو حصوں میں تقسیم ہو گیا۔

بھارت کے زیرانتظام کشمیر کو دستوری طور پر ایک خودمختار حیثیت حاصل تھی، تاہم وزیراعظم نریندر مودی نے یہ خصوصی حیثیت ختم کرنے کا اعلان کیا ہے۔ گزشتہ ہفتے پیر کے روز کیے گئے اس فیصلے کے بعد سے اب تک نو دن گزر جانے کے باوجود کشمیر بھر میں کرفیو نافذ ہے، جب کہ ذرائع مواصلات منقطع ہیں۔

پاکستان نے منگل کے روز اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کے خصوصی اجلاس کی درخواست دی ہے۔ پاکستان کا موقف ہے کہ بھارت کے اس اقدام سے بین الاقوامی سلامتی کو خطرات لاحق ہیں۔ پاکستان کا یہ بھی کہنا ہے کہ بھارت اپنے زیرانتظام کشمیر کے خطے میں نسلی تطہیر جیسے اقدامات کر سکتا ہے۔

رواں ماہ سلامتی کونسل کے موجودہ سربراہ ملک پولینڈ کی جانب سے کہا گیا ہے کہ پاکستانی خط کی بابت سلامتی کونسل کے رکن ممالک سے بات چیت کی جائے گی۔

یہ بات اہم ہے کہ پانچ اگست کے اس فیصلے کے بعد سے کشمیر کے ایک بڑے حصے میں سخت کرفیو نافذ ہے اور مقامی افراد کو احتجاج کی اجازت نہیں ہے اور کشمیر کا رابطہ بیرونی دنیا سے ایک طرح سے کٹا ہوا ہے، مگر اس خطے سے احتجاج اور مظاہروں کی خبریں موصول ہو رہی ہیں۔

ع ت، ع ح (روئٹرز، اے ایف پی، اے پی)

DW.COM