پاکستان کا افغان طالبان سے امن مذاکرات کے آغاز کا مطالبہ | حالات حاضرہ | DW | 26.08.2020
  1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages
اشتہار

حالات حاضرہ

پاکستان کا افغان طالبان سے امن مذاکرات کے آغاز کا مطالبہ

پاکستانی وزیر خارجہ نے طالبان کے سینیئر رہنماؤں سے ملاقات میں تاخیر کے شکار امن مذاکرات کو دوبارہ شروع کرنے پر زور دیا ہے۔ وزیر خارجہ کے بقول افغان جنگ کا کوئی ’عسکری حل‘ نہیں ہے۔

پاکستانی وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے منگل کو یہ بیان اسلام آباد میں طالبان کے قطر میں قائم سیاسی دفتر کے ایک وفد کے ساتھ ملاقات کے دوران دیا۔ طالبان کے اس وفد کی سربراہی ان کے قطر آفس کے سربراہ ملا برادر اور طالبان کے سیاسی معاملات کے نگران نائب امیر نے کی۔ افغان طالبان کا یہ اعلیٰ سطحی وفد پاکستانی وزارت خارجہ کی دعوت پر پیر کو اسلام آباد پہنچا تھا۔ ملکی دفتر خارجہ کے ترجمان کے مطابق اس ملاقات کا مقصد افغان امن مذاکرات کی موجودہ صورت حال اور اسے آگے بڑھانے کے امکانات کا مختلف پہلوؤں سے جائزہ لینا تھا۔

پاکستانی وزارت خارجہ اس امر پر زور دے رہی ہے کہ موجودہ ملکی حکومت اور وزیر اعظم کے اس  مستقل موقف کو طالبان اور عالمی برادری کے سامنے بار بار پیش کیا جائے جس کے مطابق، ''افغان جنگ کا کوئی فوجی حل نہیں ہے اور اسے سیاسی طریقے سے ہی ختم کیا جا سکتا ہے۔‘‘

Pakistan Islamabad Taliban-Delegation trifft Außenminister Shah Mahmood Qureshi

ملاقات میں کورونا سے بچاؤ کے ایس او پیز کو ملحوظ رکھا گیا ۔

 

تاخیر کے شکار مذاکرات

کابل اورطالبان کے مابین مذاکرات گزشتہ مارچ میں ہی شروع ہوجانا چاہیے تھے لیکن قیدیوں کے تبادلے کا تنازعہ ان کی راہ میں رکاوٹ بنا۔ اس لیے کہ طالبان قیدیوں میں سینکڑوں ایسے شدت پسند بھی شامل ہیں، جو گزشتہ 19 برسوں میں بڑے پیمانے پر کیے گئے دہشت گردانہ حملوں میں ملوث رہے ہیں۔ اسلام آباد میں شاہ محمود قریشی اور طالبان کے وفد کے مابین ملاقات منگل کے روز افغانستان کے شمالی صوبے بلخ کے ایک فوجی اڈے کے نزدیک ہونے والے خود کش بم حملے کے کچھ  ہی دیر بعد ہوئی۔ اس دہشت گردانہ حملے میں دو شہری اور ایک پولیس کمانڈو کی ہلاکت کے علاوہ 40 افراد کے زخمی ہونے کی تصدیق علاقے کے فوجی ترجمان حنیف رضائی نے بھی کر دی تھی۔ انہوں نے کہا کہ اس خود کش بم حملے میں بہت سے مکانات کو بھی نقصان پہنچا یا وہ تباہ ہوگئے۔ ملکی فوجیوں نے متاثرین کو محفوظ مقامات تک پہنچانے کے لیے امدادی کارراوئیاں کیں۔ طالبان نے دعویٰ کیا کہ یہ حملہ افغانستان میں جاری تشدد کے دوران ہوا۔ طالبان عسکریت پسند کابل اور ملک بھر میں اپنے روزانہ پر تشدد حملے جاری رکھے ہوئے ہیں۔

اسلام آباد میں ملاقات سماجی فاصلوں کے ساتھ

 

پاکستانی وزارت خارجہ کی طرف سے طالبان رہنماؤں اور وزیر خارجہ کی ملاقات کی تصاویر بھی جاری کی گئی ہیں، جن میں شاہ محمود قریشی اور طالبان رہنما جسمانی فاصلے برقرار رکھتے ہوئے ہاتھ ملاتے دکھائی دے رہے ہیں مگر چہروں پر ماسک پہنے ہوئے۔ گزشتہ سال طالبان کے ایک وفد کے پاکستان کے ایسے ہی ایک دورے کے دوران وزیر خارجہ قریشی اور طالبان رہنماؤں کی ملاقات کی چند تصاویر کابل میں افغان حکام کی شدید ناراضگی اور غصے کا سبب بنی تھیں۔ ان تصاویر میں شاہ محمود قریشی اور طالبان رہنماؤں کو ایک دوسرے سے مسکراتے ہوئے بغل گیر ہوتے دیکھا جا سکتا تھا۔ اس کے برعکس کل منگل کی ملاقات میں بغیر ایک دوسرے کو گلے ملے باہمی فاصلہ رکھے جانے کو بھی واضح طور پر دیکھا جا سکتا تھا۔

Pakistan Islamabad Taliban-Delegation trifft Außenminister Shah Mahmood Qureshi

کابل اورطالبان کے مابین مذاکرات گزشتہ مارچ میں ہی شروع ہوجانا چاہیے تھے۔

کابل اور اسلام آباد کے تعلقات بدستور کشیدہ

 

اسلام آباد میں وزارت خارجہ کی طرف سے حکومت ، خاص طور سے وزیر اعظم عمران خان کے افغانستان میں امن سے متعلق موقف کو اکثر دہرایا جاتا ہے تاہم دونوں ممالک کے مابین کشیدگی برقرار ہے۔ افغان صدر اشرف غنی کی انتظامیہ اسلام آباد پر الزام عائد کرتی ہے کہ وہ طالبان کو ملک میں پناہ دینے اور ان کی مالی اعانت کا سلسلہ جاری رکھے ہوئے ہے۔ پاکستان، جو ان تین ممالک میں شامل ہے جنہوں نے 1990 کی دہائی میں طالبان کی حکومت کو تسلیم کیا تھا، کابل کے ان الزامات کو رد کرتا ہے۔

پاکستانی حکومت کی طرف سے کہا جا رہا ہے کہ پاکستان کے اثر و رسوخ اور کوششوں نے عسکریت پسندوں کی اس سلسلے میں حوصلہ افزائی کی کہ وہ امریکا کے ساتھ فروری میں ہونے والے مذاکرات میں شامل ہوں۔ اس ڈیل کا مقصد افغانستان سے غیر ملکی فوجوں کے انخلا کو ممکن بنانا ہے۔ پاکستانی وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے امریکا اور طالبان کے مابین امن معاہدے پر پوری طرح عمل درآمد پر زور دیا ہے۔ قریشی کے بقول، ''یہی اقدام جلد از جلد بین الافغان مذاکرات کی راہ ہموار کرے گا۔‘‘

ادھر صدر اشرف غنی کے ترجمان صدیق صدیقی نے کہا ہے کہ پاکستان کو خطے میں امن کے لیے زیادہ اقدامات کرنا چاہییں۔ اے ایف پی کو ایک بیان دیتے ہوئے صدیقی نے کہا، ''پاکستان اب تک افغانستان میں امن و استحکام کے لیے اپنے عزائم اور وعدوں کو پورا کرنے میں ناکام رہا ہے۔‘‘ انہوں نے کابل میں کہا، ''ہم امید کرتے ہیں کہ حکومت پاکستان عملی اقدامات کرتے ہوئے خطے میں استحکام لانے میں افغان حکومت اور عالمی برادری کے ساتھ تعاون کرے گی۔‘‘

ک م / م م (نیوز ایجنسیاں)

DW.COM