پاکستان: ڈیجیٹل شراکت داری میں اضافے کے لیے جدت، نتائج کم تر | بولو بھی بیرومیٹر | DW | 01.08.2019
  1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages
اشتہار

بولو بھی بیرومیٹر

پاکستان: ڈیجیٹل شراکت داری میں اضافے کے لیے جدت، نتائج کم تر

پاکستان نے دھیرے دھیرے انٹرنیٹ کے ذریعے جدت لانے کے عمل میں سرمایہ کاری شروع کر رکھی ہے۔ تاہم ابھی تک ڈیجیٹل شراکت داری کے پائیدار منصوبے موجود نہیں اور نہ ہی نیوز رومز کے پاس وسائل اور استعداد موجود ہیں۔

 

  •  پاکستان میں سافٹ ویئر کی تیاری کا کام خوب ترقی کر رہا ہے اور انٹرنیٹ کے ذریعے نئے بزنس شروع کرنے والوں کی حوصلہ افزائی بھی کی جا رہی ہے تاہم جدت متعارف کرانے کا عمل تاحال محدود ہے

  •  نیوز رومز کے پاس اپنے کام میں جدت لانے کے مواقع انتہائی کم ہیں اور ان مواقع سے فائدہ اٹھانے کی صلاحیت بھی بہت محدود ہے

  •  یونیورسٹیاں ڈیجیٹل شراکت داری کے منصوبوں اور تحقیق میں سرمایہ کاری نہیں کر رہیں

  •  سیاسی بحث مباحثے روایتی ٹی وی چینلز اور سوشل میڈیا کے چند پلیٹ فارمز تک محدود ہیں

پاکستان میں کمپیوٹر سافٹ ویئر کی تیزی سے پھیلتی ہوئی صنعت ملک میں ڈیجیٹل شراکت داری میں جدت پسندی متعارف کرانے کے لیے زیادہ معاون ثابت نہیں ہو سکی۔ صحافتی اداروں کے پاس نہ تو وسائل ہیں اور نہ ہی ایسا اعتماد کہ وہ اپنے شعبے میں جدت کے لیے سرمایہ کاری کریں۔ صحافیوں کو جدید صحافت کےطریقے اپنانےکے لیے وقت اور تربیت کے علاوہ اساتذہ اور جدت کاروں کی جانب سے عدم تعاون کے مسائل درپیش ہیں۔ لاکھوں کی تعداد میں سیاسی طور پر متحرک شہری سنسرشپ کے باوجود بحث مباحثوں کے لیے سوشل میڈیا کے روایتی پلیٹ فارمز کا رخ کرتے ہیں۔ تاہم وہ عوامی مباحثوں میں حصہ لینے کے نئے طریقے اختیار نہیں کر پا رہے۔ انٹرنیٹ سے متعلق معلومات اور رہنمائی فراہم کرنے والی ایک تنظیم 'لِنکڈ تِھنگز‘ کی بانی اور سربراہ صوفیہ حسنین کا کہنا ہے کہ پاکستان کے بڑے شہروں میں انٹرنیٹ کے ذریعے کاروباری سرگرمیوں کا آغاز کرنے والی کمپنیوں کی حوصلہ افزائی کے اقدامات کیے گئے ہیں۔ حکومت کی جانب سے بھی ایسے اقدمات کی حوصلہ افزائی کی جا رہی ہے اور بڑے شہروں میں 'نیشنل انکیوبیشن سینٹر‘ قائم کیے گیے ہیں۔ اس کا مقصد ڈیجیٹل منظرنامے میں جدت متعارف کرا نا ہے۔ ڈیجیٹل ماحول کے فروغ کے کام سے وابستہ سعد حامد کا کہنا ہے کہ پاکستان کے تین بڑے شہروں میں ایسی مخلوط جگہیں موجود ہیں۔ ان میں سے ایک صرف خواتین کے لیے ہے، جہاں جدت پسندی اپنانے کی ترغیب دی جاتی ہے۔ جدت پسندی اب کوئی غیر ملکی خیال نہیں تاہم اس رجحان میں اضافے کے باوجود ڈیجیٹل شراکت داری بڑھانے میں مدد نہیں ملی۔ شہریار پوپلزئی نیوز رومز میں جدت لانے کے لیے مختلف صحافتی اداروں کے ساتھ کام کر چکے ہیں۔ ان کا کہنا ہے، ''ٹیکنالوجی کمپنیوں اور نیوز رومز کے درمیان کوئی رابطہ نہیں اور نہ ہی کسی قسم کی معلومات کا تبادلہ عمل میں آتا ہے۔‘‘

جہانزیب حق کے مطابق، ''صحافت کے شعبے میں جدت متعارف کرانے سے متعلق ماہرانہ سوچ کی کمی ہے اور صحافت کو جدید خطوط پر استوار کرنے کے منصوبوں سے متعلق معلومات کا بھی فقدان ہے۔‘‘ ان کا کہنا ہے کہ زیادہ تر صحافی اور ایڈیٹرز ٹیکنالوجی سے ہم آہنگ نہیں ہیں۔ اس کے نتیجے میں صحافتی اداروں کو ٹیکنالوجی کے استعمال کے لیے صحافتی پس منظر سے ہٹ کر پیشہ ور افراد کی خدمات لینا پڑتی ہیں۔ اسی طرح پوپلزئی کے مطابق نیوز رومز کے پاس وسائل کی کمی ہے اور ایسے مطلوبہ آلات بھی موجود نہیں، جو پہلے ہی سے کام کے بوجھ تلے دبے رپورٹروں کو اپنے کام میں جدت لانے میں مدد دے سکیں۔ کوئی فوری منافع حاصل نہ کر نے کی وجہ سے بھی میڈیا ادارے ٹیکنالوجی میں سرمایہ کاری کرنے میں دلچسپی نہیں لیتے۔

ڈیٹا جرنلزم اور تحقیقاتی سرگرمیوں کا فقدان

اس سے بھی بدتر صورت حال یہ ہے کہ یونیورسٹی کی سطح پر صحافت کی تعلیم میں جدت کا موضوع شامل ہی نہیں کیا گیا اور عوامی سطح پر بحث مباحثے کے لیے نئے پلیٹ فارمز کی تلاش کے لیے بھی تحقیق کا کام نہ ہونے کے برابر ہے۔ پوپلزئی کے مطابق، ''بعض مرتبہ ہم ڈیجیٹل صحافت نامی ایک موضوع کو نصاب میں شامل دیکھتے ہیں، لیکن یہ تک معلوم نہیں ہوتا کہ اس کا مطلب کیا ہے۔ ہمیں طلبہ کو ڈیٹا کا استعمال، صارفین کے تجربے کی روشنی میں تحقیق اور منصوبہ بندی سکھانے کی ضرورت ہے۔‘‘

پاکستان کے ڈان میڈیا گروپ کے چیف ڈیجیٹل اسٹریٹیجسٹ جہانزیب حق اس بات کی تصدیق کرتے ہوئے کہتے ہیں، ''بعض جگہوں پر تھوڑے بہت کورسز پیش کیے جاتے ہیں لیکن میڈیا سے متعلق تعلیم زیادہ تر ٹی وی پروڈکشن تک ہی محدود ہے۔‘‘ ان کا مزید کہنا ہے، ''ڈیجیٹل صحافت سے متعلق ریسرچ عملاﹰ کوئی وجود ہی نہیں رکھتی۔‘‘ ڈیجیٹل حقوق پر کام کرنے والی تنطیموں نے اپنے طور پر کچھ ریسرچ کی ہے لیکن ماہرین کا اس بات پر اتفاق ہے کہ ملکی یونیورسٹیاں اس سلسلے میں ابھی بہت پیچھے ہیں۔

جہانزیب حق کا کہنا ہے کہ صحافتی اداروں کو ابھی یہ طے کرنے میں مشکلات کا سامنا ہے کہ ڈیجیٹل صحافتی منصوبوں پر کس طرح سرمایہ کاری کی جائے۔ اس لیے دوسری طرح کے ڈیجیٹل منصوبوں کے ساتھ بین الاقوامی روابط اور فنڈنگ مہیا ہو سکتے ہیں لیکن شہریوں کے لیے ڈیجیٹل شراکت داری کے منصوبے عام نہیں ہیں اور نیوز رومز میں جدت لانے کے پائیدار منصوبے بھی ناپید ہیں۔‘‘

ڈیجیٹل ایکو سسٹم تیار کرنے والے سعد حامد کے مطابق میڈیا ہاؤسز نئے بزنس ماڈل  تیار نہیں کر سکے اور نتیجہ یہ کہ اب وہ اپنے ہاں رپورٹروں کو نوکریوں سے فارغ کر رہے ہیں۔ بہت سی معلوماتی اور تفریحی سٹارٹ اپ کمپنیوں نے اپنا کام شروع کرنے کے لیے پیسے جمع کیے اور کامیابی سمیٹی لیکن سیاسی بحث مباحثہ تاحال روایتی سوشل میڈیا پلیٹ فارمز تک ہی محدود ہے۔ سعد حامد کے خیال میں، ''میڈیا کمپنیاں بارہ کروڑ نوجوان قارئین  تک پہنچنے کے مواقع کھوتی جا رہی ہیں۔‘‘

ماہرین کیا کہتےہیں؟

جہانزیب حق، چیف ڈیجیٹل اسٹریٹیجسٹ، ایڈیٹر، ڈان میڈیا گروپ

’’پاکستان کے روایتی صحافتی اداروں میں جدت پسندی ابتدائی مرحلے میں ہی دم توڑ دیتی ہے کیونکہ صحافی اور ایڈیٹرز تمام پرنٹ میڈیا کا پس منظر رکھتے ہیں اور جدت ان کی سمجھ میں آتی ہی نہیں۔‘‘

صوفیہ حسنین، بانی اور سربراہ، ’لِنکڈ تِھنگز‘

’’جدت پسندی، کچھ نیا کرنے، جیسے اپنا کوئی کاروبار شروع کرنے کے موضوعات کو لے کر کافی بات کی جاتی ہے۔ ایسا کرنے کے لیے لوگوں کی حوصلہ افزائی بھی کی جاتی ہے۔ اس کے تحت ای کامرس اور ای پیمنٹس (مالی ادائیگیوں) وغیرہ میں جدت لانے پر غور بھی کیا جاتا ہے، لیکن زیادہ تر لوگ ڈیجیٹل شراکت داری کے بارے میں نہیں سوچ رہے۔‘‘

شہریار پوپلزئی، نیوز روم اِنّوویٹر

’’نیوز رومز کے پاس وسائل کی کمی ہے۔ اگر آپ ان آلات کو دیکھیں، جو صحافی اپنے فرائض کی انجام دہی کے لیے استعمال کر رہے ہیں، تو آپ کو مایوسی ہو گی۔ وہ پرانے موبائل فون اور پرانے لیپ ٹاپ کمپیوٹر استعمال کر رہے ہیں۔ اگر ان کے لیے جدت پسندی سیکھنا ضروری ہو، تو پھر انہیں اپنا وقت اور وسائل استعمال کرنا پڑتے ہیں۔ صحافیوں کو ایسی ٹیکنالوجی دستیاب نہیں، جس کے ذریعے وہ تجربات کر سکیں۔‘‘

سعد حامد، ڈیجیٹل ایکو سسٹم بلڈر

’’پاکستان میں بسنے والے بیس کروڑ سے زائد شہریوں میں سے بارہ کروڑ تیس سال سے کم عمر کے لوگ ہیں۔ میڈیا گروپ ٹوئٹر پر ایک دوسرے کے خلاف تو چیخ رہے ہیں لیکن انہیں نوجوانوں کی صلاحیتوں اور ان کے استعمال کا اندازہ ہی نہیں۔‘‘

سفارشات

صحافتی اداروں کی استعداد میں اضافہ

صحافیوں کی جانب سے مستقبل میں جدید ٹیکنالوجی کو استعمال میں لاتے ہوئے شہریوں کی ڈیجیٹل شراکت داری بڑھانے سے متعلق جہانزیب حق کا کہنا ہے، ''یہ صلاحیت کا سوال ہے۔‘‘ شہریار پوپلزئی کا کہنا ہے کہ رپورٹروں کو نئی ٹیکنالوجیز کے ذریعے کام کرنے کی تربیت دی جانا چاہیے اور نیوز رومز کو اپنے ہاں جدت لانے کے لیے وسائل کی ضرورت ہے۔ سعد حامد کے مطابق نیوز رومز کو طویل المدتی فوائد سامنے رکھتے ہوئے شہریوں کی ڈیجیٹل شراکت داری کے پائیدار منصوبوں میں سرمایہ کاری کرنا چاہیے۔

تعلیم وتربیت اور تحقیق

شہریار پوپلزئی کے مطابق تعلیمی اداروں میں میڈیا سے متعلق شعبوں کو چاہیے کہ وہ ٹیلی وژن اور پرنٹ میڈیا پر زور دینے کے بجائے نئے اعداد و شمار اور آلات کا استعمال کرتے ہوئے شہری شراکت داری پر توجہ دیں، ''صحافت کا پیشہ اب ایک مختلف کھیل بن چکا ہے۔‘‘ پوپلزئی کے خیال میں رپورٹروں کو بتایا جانا چاہیے کہ ڈیٹا کا استعمال کس طرح کیا جائے؟ انہیں صارفین کے تجربات پر مشتمل ریسرچ اور ڈیجیٹل منصوبوں کی تربیت دی جانا چاہیے تاکہ وہ اپنے کام میں جدت متعارف کراتے ہوئے شہریوں کی ڈیجیٹل شراکت داری کے چیلنجز سے نمٹ سکیں۔

جدت پسندی کے دیرپا منصوبوں کی ترقی میں سرمایہ کاری

جہانزیب حق کے مطابق شہریوں کی ڈیجیٹل شراکت داری کے لیے کام کرنے والے صحافیوں کو اپنے اپنے اداروں میں مارکیٹنگ کے شعبوں کی جانب سے بھی چیلنجز کا سامنا کرنا پڑتا ہے کیونکہ مارکیٹنگ کے لوگ  یہ  نہیں جانتےکہ ان کے اداروں کی طرف سے سرمایہ کاری کے لیے پائیدار بزنس ماڈل کس طرح تیار کیے جا سکتے ہیں۔ سعد حامد کے بقول، ''رقوم موجود ہیں۔ یہ بات درست ہے کہ سرمایہ کاروں اور عطیات دینے والوں کو اس کے لیے قائل کرنا مشکل کام ہے۔ لیکن اگر آپ کے پاس کوئی ٹھوس منصوبہ ہے، تو پھر مالی وسائل کی دستیابی بھی ممکن ہو جاتی ہے۔‘‘ شہریار پوپلزئی کے الفاظ میں، ''اگر میڈیا ادارے نئے خیالات کا خیر مقدم کریں اور ان کے مطابق کام کریں، تو پھر انہیں قابل ذکر صلہ ملنے کی توقع بھی رکھنا چاہیے۔‘‘

عوامی کوشش

جہانزیب حق کے مطابق پاکستان میں سافٹ ویئر کمپنیوں اور اپنا کاروبار کرنے والوں نے تیزی سے پھیلتی ہوئی برادریاں قائم کر لی ہیں۔ تاہم  دوسری جانب شہری شراکت داری میں دلچسپی رکھنے والے عام شہریوں، صحافیوں اور جدت کاروں کی طرف سے اس طرح کے اقدمات نہیں کیے گئے۔ صوفیہ حسنین کے مطابق صحافیوں کو اپنے کام میں جدت لانے کے لیے خود ایسے اقدامات کرنا چاہییں تاکہ وہ شہری شراکت داری کے نئے منصوبوں کی تیاری کے ساتھ ساتھ اپنے لیے فنڈنگ کا محفوظ بندوبست بھی کر سکیں۔

#بولو بھی بیرومیٹر ڈی ڈبلیو اکیڈیمی کا ایک پروجیکٹ ہے، جس میں ڈیجیٹل شراکت داری، آزادی اظہار اور معلومات تک رسائی کے درمیان ربط کی جانچ پڑتال کی جاتی ہے۔ مزید معلومات کے لیے:  www.dw.com/barometer