پاکستان: پرفیوم فیکٹری میں دھماکا، کم از کم گیارہ افراد ہلاک | حالات حاضرہ | DW | 28.01.2020
  1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages
اشتہار

حالات حاضرہ

پاکستان: پرفیوم فیکٹری میں دھماکا، کم از کم گیارہ افراد ہلاک

آبادی کے لحاظ سے پاکستان کے سب سے بڑے صوبے پنجاب کے مرکزی شہر لاہور میں واقع ایک پرفیوم فیکڑی میں ہونے والے دھماکے کے نتیجے میں کم از کم گیارہ افراد ہلاک ہو گئے ہیں۔ طبی ذرائع نے ہلاکتوں میں اضافے کا خدشہ ظاہر کیا ہے۔

صوبائی دارالحکومت لاہور میں ایمرجنسی سروس کے اہلکاروں کا کہنا ہے کہ یہ دھماکا ایک گیس سلنڈر پھٹنے کی وجہ سے ہوا جس کی وجہ سے فیکڑی کی چھت مکمل طور پر تباہ ہو گئی۔ ایمرجنسی سروس کے رانا اظہر کا نیوز ایجنسی اے پی سے گفتگو کرتے ہوئے کہنا تھا کہ  دھماکے کے بعد عمارت کو آگ لگ گئی جبکہ دو افراد زخمی بھی ہوئے ہیں۔

عینی شاہدین کے مطابق دھماکا اس قدر طاقت ور تھا کہ کئی قریبی مکان بھی متاثر ہوئے۔ طبی حکام کے مطابق ایک زخمی کی حالت انتہائی تشویش ناک ہے۔ ایمرجنسی اور پولیس ذرائع کے مطابق ابھی تک یہ واضح نہیں کہ گیس سلنڈر کس وجہ سے پھٹا۔ عینی شاہدین کے مطابق ایک زور دار دھماکا ہوا اور اس کے فوراﹰ بعد پوری عمارت آگ کے شعلوں کی لپیٹ میں آ گئی۔ سوشل میڈیا پر شیئر کردہ ویڈیوز میں دیکھا جا سکتا ہے کہ فائر فائٹرز آگ بجھانے کی کوششیں کرتے رہے اور متاثرہ افراد کے رشتہ دار جو وہاں موجود تھے، مدد کے لیے پکارتے رہے۔

ریسکیو سروس کے مطابق عمارت کے اندر موجود کوئی بھی شخص زندہ نہیں بچا۔ پاکستان میں ناقص حفاظتی انتظامات کی وجہ سے بار بار ایسے واقعات رونما ہوتے رہتے ہیں۔ کچھ عرصہ قبل ایک مسافر ٹرین میں ایک سلنڈر پھٹنے کے باعث ہونے والے دھماکے کی وجہ سے کم از کم چوہتر افراد ہلاک ہو گئے تھے۔ اسی طرح جولائی دو ہزار اٹھارہ میں ملتان شہر میں بھی ایک سلنڈر دھماکے کے نتیجے میں تین جانیں ضائع ہو گئی تھیں۔

 ا ا / م م ( اے پی)