پاکستان نے کابل میں ویزہ سروس بحال کر دی | حالات حاضرہ | DW | 29.12.2019
  1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages
اشتہار

حالات حاضرہ

پاکستان نے کابل میں ویزہ سروس بحال کر دی

تعلقات میں بہتری کے بعد افغان دارالحکومت کابل میں پاکستانی سفارت خانے نے اپنی تمام قونصلر سروسز بحال کر دی ہیں۔ قبل ازیں نومبر میں پاکستانی سفارت کاروں کی مبینہ ہراسانی کے بعد ویزہ سروس بند کر دی گئی تھی۔

پاکستانی وزارت خارجہ کی ایک ترجمان عائشہ فاروقی نے آج اتوار کے روز  اس بات کی تصدیق کرتے ہوئے کہا، ''آج سے کابل میں ہمارا سفارت خانہ تمام قونصلر سروسز بحال کر دے گا۔‘‘ قبل ازیں افغان دارالحکومت میں قائم پاکستانی سفارت خانے نے ہفتے کے روز ایک ٹویٹر پیغام میں بھی یہی اعلان کیا تھا۔

افغان شہریوں کی ایک بڑی تعداد روزانہ کی بنیاد پر پاکستان آتی ہے۔ ان میں سے زیادہ تر افراد تجارتی، علاج، تعلیم اور پاکستان میں آباد اپنے رشتہ داروں سے ملاقات جیسے مقاصد کے لیے پاکستان آتے ہیں۔ پاکستان بیس لاکھ سے زائد افغان مہاجرین کی میزبانی بھی کر رہا ہے کیوں کہ افغانستان میں گزشتہ کئی عشروں سے جاری جنگ کی وجہ سے حالات انتہائی مخدوش ہیں۔

پاکستانی وزارت خارجہ کے مطابق روزانہ کی بنیاد پر قونصلر سیکشن کو تقریبا دو ہزار ویزہ درخواستیں موصول ہوتی ہیں۔ رواں برس کے آغاز پر پاکستان اور افغانستان کے مابین سفارتی تعلقات اس وقت مزید کشیدہ ہو گئے تھے، جب افغانستان نے ایک متنازعہ عمارت سے افغانستان کا پرچم ہٹائے جانے کے بعد پشاور قونصل خانہ بند کرنے کا اعلان کیا تھا۔

گزشتہ جمعے کے روز افغانستان نے یہ مسئلہ مذاکرات سے حل کرنے کے اعلان کے بعد پشاور قونصل خانہ دوبارہ کھولنے کا اعلان کیا تھا۔ اب پاکستان کی طرف سے کابل میں ویزہ سروس بحال کرنے کے اعلان کو دو طرفہ تعلقات میں بہتری کی علامت کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔

رواں ماہ کے آغاز میں پاکستان نے امریکا کی اس تازہ کوشش کی حمایت کا بھی اعلان کیا تھا، جس کا مقصد طالبان اور کابل حکومت کے مابین براہ راست مذاکرات کا آغاز کروانا ہے۔ افغان طالبان امریکا کے ساتھ تو امن مذاکرات جاری رکھے ہوئے ہیں لیکن کابل حکومت سے براہ راست مذاکرات سے ابھی تک انکار کرتے آئے ہیں۔ طالبان کابل حکومت کو امریکا کی کٹھ پتلی حکومت قرار دیتے ہیں۔ 

ا ا / آ ع (ڈی پی اے ، اے ایف پی)