پاکستان نے بھارتی وزیراعظم مودی کو اپنی فضائی حدود سے گزرنے کی اجازت دینے سے انکار کر دیا | حالات حاضرہ | DW | 19.09.2019
  1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages
اشتہار

حالات حاضرہ

پاکستان نے بھارتی وزیراعظم مودی کو اپنی فضائی حدود سے گزرنے کی اجازت دینے سے انکار کر دیا

پاکستان نے بھارتی وزیر اعظم نریندر مودی کو پاکستانی فضائی حدود سے گزرنے کی اجازت دینے سے انکار کر دیا ہے۔ یہ پیش رفت ایک ایسے موقع پر سامنے آئی ہے جب دونوں ہمسایہ ممالک میں کشمیر کے معاملے پر شدید تناؤ موجود ہے۔

پاکستانی وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی کے مطابق اسلام آباد نے نئی دہلی کی اس درخواست کو رد کر دیا ہے جس میں بھارتی وزیر اعظم نریندر مودی کے ہوائی جہاز کو 20 اور پھر 28 ستمبر کو گزرنے کی اجازت طلب کی گئی تھی۔ بدھ 18 ستمبر کی شب اپنے ایک ویڈیو بیان میں قریشی نے کہا، ''ہم نے یہ فیصلہ کشمیر کی موجودہ صورتحال کے تناظر میں کیا ہے۔‘‘ ان کا اشارہ بھارت کی طرف سے کشمیر کی خصوصی حیثیت کے خاتمے اور پھر وہاں جاری مسلسل لاک ڈاؤن کی طرف تھا۔

پاکستان کی فضائی حدود تجارتی پروازوں کے لیے تو کھلی ہے مگر ایک ماہ کے دوران یہ دوسرا موقع ہے جب پاکستان نے بھارتی رہنماؤں کو اپنی فضائی حدود استعمال کرنے کی اجازت دینے سے انکار کر دیا ہے۔

پاکستان کی طرف سے یہ پیشرفت بھارتی وزیر خارجہ سبرامنیم جے شنکر کے اُس بیان کے ایک روز بعد سامنے آئی جس میں انہوں نے کہا تھا کہ بھارت پاکستانی زیر انتظام کشمیر کو بھی ایک دن اپنی عملداری میں لے آئے گا۔ اس کے جواب میں پاکستان کی طرف سے کہا گیا کہ اگر بھارت کی طرف سے اس حوالے سے کوئی بھی اشتعال انگیزی کی گئی تو پاکستان اس کا بھرپور جواب دے گا۔

Indien Kaschmir-Konflikt

پاکستانی وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی کے مطابق، ''ہم نے یہ فیصلہ کشمیر کی موجودہ صورتحال کے تناظر میں کیا ہے۔‘‘

حالیہ پاکستانی اقدام پانچ اگست کو بھارت کی طرف سے متنازعہ علاقے جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت ختم کیے جانے کے بعد پیدا ہونے والی صورتحال میں تازہ پیشرفت ہے جس سے ایٹمی ہتھیار رکھنے والی ان دونوں ریاستوں کے درمیان تعلقات میں کشیدگی کا اندازہ ہوتا ہے۔ بھارتی فیصلے کے بعد اسلام آباد نے نئی دہلی کے ساتھ سفارتی تعلقات میں کمی لاتے ہوئے باہمی تجارت روک دی تھی اور دونوں ممالک کے آمد ورفت کا سلسلہ بھی معطل کر دیا تھا۔

ڈی ڈبلیو کے ایڈیٹرز ہر صبح اپنی تازہ ترین خبریں اور چنیدہ رپورٹس اپنے پڑھنے والوں کو بھیجتے ہیں۔ آپ بھی یہاں کلک کر کے یہ نیوز لیٹر موصول کر سکتے ہیں۔

ا ب ا / ع ت (ڈی پی اے)

DW.COM