پاکستان ′نیشنل ہیلتھ ایمرجنسی‘ کا اعلان کرے: عالمی ادارہ صحت | حالات حاضرہ | DW | 11.01.2020
  1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages
اشتہار

حالات حاضرہ

پاکستان 'نیشنل ہیلتھ ایمرجنسی‘ کا اعلان کرے: عالمی ادارہ صحت

ڈبلیو ایچ او نے خبردار کیا کہ ملک میں انسداد پولیوکے لیے حالیہ برسوں کی کوششیں ناکام ہو رہی ہیں اور پولیو وائرس پاکستان سے دیگر ملکوں میں پھیلنے کا خطرہ بہت بڑھ چکا ہے۔

عالمی ادارہ صحت (ڈبلیو ایچ او) کی تنبیہ کے بعد امریکا نے پاکستان میں پولیو کے بڑھتے ہوئے کیسز کے تناظر میں  نئے ضابطے جاری کیے ہیں، جن کے تحت پولیو سے متاثرہ ممالک سے امریکا کے لیے سفر کرنے والے تمام بالغ افراد کے لیے ‘لائف ٹائم بوسٹر ویکسین‘  لازم  قرار دی گئی ہے۔

امریکا نے یہ نیا سفری الرٹ ایشیا کے آٹھ ملکوں کے لیے جاری کیا ہے، جن میں پاکستان کے ساتھ افغانستان، چین، میانمار، انڈونیشیا، ملائیشیا، پاپوا نیو گنی اور فلپائن شامل ہیں۔

امریکی حکام کے مطابق یہ قدم عالمی ادراہ صحت کی سفارشات کی روشنی میں اٹھایا گیا ہے، جن میں ان ممالک کے مسافروں کے لیے پولیو ویکسین کا سرٹیفیکیٹ لازمی قرار دینے کی سفارش کی گئی ہے۔

امریکا کے لیول ٹو سفری الرٹ کے تحت وہ تمام مسافر جو بچپن میں یا زندگی میں پہلے کبھی پولیو ویکسین  لے چکے ہیں انہیں بھی احتیاطی طور پر یہ ویکسین  دوبارہ لینا ہو گی۔ اسی طرح باہر سے ان ممالک کو جانے والوں کو بھی  پولیو کے اضافی بوسٹر ڈوز لینے کا مشورہ دیا گیا ہے۔

وزیر اعظم  عمران خان کی حکومت اقرار کرتی ہے کہ سال دو ہزار انیس پولیو کے خلاف لڑائی میں پاکستان کے لیے ایک خراب سال ثابت ہوا۔ اس سال پاکستان میں 134 بچے پولیو کی ویکسین نہ لینے کی وجہ سے زندگی بھر کے لیے اپاہج ہو گئے جبکہ سال دو ہزار اٹھارہ میں ایسے بچوں کی تعداد  محض 12 تھی۔

پاکستان میں دہشت گردی اور شورش سے متاثرہ علاقوں میں پولیو کا مسئلہ سب سے زیادہ سنگین رہا ہے۔ ان میں خیبرپختونخوا اور بلوچستان جیسے صوبوں کے ساتھ ساتھ آبادی کے لحاظ سے ملک کا سب سے بڑا شہر کراچی بھی شامل ہے۔

سن دو ہزار چودہ میں میں پولیو کے 306 کیسز سامنے آئے تھے، جن کی بڑی تعداد شورش سے متاثرہ قبائلی علاقوں سے تھی۔ اُس وقت بھی عالمی ادارہ صحت کی طرف سے پاکستانی شہریوں کو سفری ضابطوں کا سامنا کرنا پڑا تھا۔ حکام کا خیال تھا کہ شمالی وزیرستان میں آپریشن ضرب عضب کے بعد اس وبا پر قابو پانے میں مدد ملے گی اور  ایسا ہوا بھی۔

اگلے سال سن دو ہزار پندرہ میں پولیو کیسز کی تعداد  نمایاں طور پر کم ہو کر 54 تک آ گئی جبکہ بعد کے تین برسوں میں ہر سال پولیو سے متاثرہ بچوں کی تعداد صرف  20 یا اس سے بھی کم رہی۔

ڈبلیو ایچ او نے حکومت پاکستان پر زور دیا ہے کہ وہ تیزی سے بگڑتی اس صورتحال کے پیش نظر ملک میں 'نیشنل ہیلتھ ایمرجنسی‘ نافذ کرنے پر غور کرے اور پولیو کی روک تھام کے لیے ہنگامی بنیادوں پر اقدامات کا اعلان کرے۔        

پاکستانی حکام کا کہنا ہےکہ  نئے سال میں اس چیلنج سے نمٹنے کے لیے جامع اور مربوط حکمت عملی وضع کر لی گئی ہے، جس کے تحت ملک کے پولیو سے متاثرہ اضلاع میں تیرہ جنوری سے لگ بھگ ایک کروڑ بیس لاکھ بچوں کو ویکسین دی جائے گی۔ حکام کا دعویٰ ہے کہ پچھلے ماہ دسمبر میں پولیو مہم کے دوران ملک بھر میں پانچ سال سے کم عمر کے چار کروڑ بچوں کو  پولیو کے قطرے پلائےگئے تھے۔

پاکستان کے بعض علاقوں میں ویکسین کے معیار اور اس کے مؤثر ہونے پر بھی سوالات اٹھتے رہے ہیں۔ عالمی ماہرین کے مطابق اس کی بڑی وجہ ملک میں صحت کے سرکاری نظام میں بنیادی خرابیاں ہیں۔

پولیو ایک لا علاج بیماری ہے جس سے متاثرہ بچے زندگی بھر کے لیے معذور ہو سکتے ہیں۔ اس سے بچاؤ کا واحد علاج بچوں کو حفاظتی ویکسین کے قطرے پلانا ہے۔

DW.COM