پاکستان میں کوئلے کی کان بیٹھ گئی، تئیس کان کن ہلاک | حالات حاضرہ | DW | 06.05.2018
  1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages
اشتہار

حالات حاضرہ

پاکستان میں کوئلے کی کان بیٹھ گئی، تئیس کان کن ہلاک

پاکستانی صوبہ بلوچستان میں کوئلے کی ایک کان دھماکے کے بعد بیٹھ گئی، جس کے نتیجے میں کم از کم تئیس کان کن ہلاک ہو گئے۔ ہفتہ پانچ مئی کو رات گئے پیش آنے والے اس حادثے کے وقت اس کان میں دو درجن سے زائد مزدور کام کر رہے تھے۔

بلوچستان کے صوبائی دارالحکومت کوئٹہ سے اتوار چھ مئی کو ملنے والی نیوز ایجنسی ڈی پی اے کی رپورٹوں کے مطابق صوبائی حکام نے آج بتایا کہ کوئٹہ کے قریب ماروار کے علاقے میں اس کان میں پیش آنے والے حادثے کے نتیجے میں متعدد کان کن زخمی بھی ہو گئے۔

کوئلے سے بجلی: پاکستان میں چینی سرمایہ کاری ماحول دوست نہیں

تھر میں کان کنی کا منصوبہ تنازعات کی زد میں

ہنگامی امدادی کارروائیوں کے صوبائی محکمے کے اہلکار سید حسنین احمد شاہ نے ڈی پی اے کو بتایا، ’’اس کان میں میتھین گیس جمع ہو گئی تھی، جس کی وجہ سے پہلے ایک دھماکا ہوا، جس کے بعد یہ کان بیٹھ گئی اور اس میں کام کرنے والے کان کن وہاں پھنس کر رہ گئے۔‘‘

انہوں نے بتایا کہ اس دھماکے بعد ریسکیو آپریشن دس گھنٹے تک جاری رہا۔ اس دوران اس مہندم ہو جانے والی کان سے سولہ مزدوروں کی لاشوں اور متعدد زخمی کان کنوں کو زندہ نکال لیا گیا۔

جن مزدوروں کو علاج کے لیے زخمی حالت میں کوئٹہ شہر کے سول ہسپتال میں پہنچایا گیا تھا، ہسپتال کے ترجمان محمد اسلم کے مطابق ان میں سے بھی سات زخمی بعد ازاں اپنے زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے انتقال کر گئے۔ مقامی میڈیا نے بتایا کہ اس کان میں کام کرنے والے مزدوروں کی اکثریت کا تعلق شمال مغربی صوبے خیبر پختونخوا میں شانگلا کے علاقے سے تھا۔

کوئٹہ: کوئلے کی کان میں 43 مزدور ہلاک

بلوچستان کی کان میں دھماکہ، 21 افراد ہلاک

پاکستان میں صوبہ بلوچستان اپنے رقبے کے لحاظ سے ملک کا سب سے بڑا صوبہ ہے، جو قدرتی ذخائر اور معدنیات کی دولت سے مالا مال تو ہے لیکن مجموعی طور پر بہت پسماندہ بھی ہے۔

اس کے علاوہ کان کنی کے شعبے میں پاکستان میں اکثر مہلک حادثات بھی پیش آتے رہتے ہیں، جن کے تدارک کے لیے کی جانے والی کوششیں کبھی بھی کافی ثابت نہیں ہوئیں اور پاکستانی کان کنوں کی بہت بڑی تعداد آج بھی انتہائی خطرناک حالات میں کام کرتی ہے۔

پاکستان کے زیر انتظام کشمیر یاقوت کے خزانے سے مالا مال

بلوچستان میں کان کنی بھی چین کے حوالے

بلوچستان ہی میں پاک چین اقتصادی راہداری منصوبے کا سب سے اہم حصہ یعنی گوادر کی وہ بندرگاہ بھی قائم ہے، جو گہرے سمندر میں بنائی جانے والے ایک بہت بڑی تجارتی بندرگاہ ہے اور جس کے ذرہعے مشرق وسطیٰ اور اس سے بھی دور کے خطوں کی منڈیوں تک تجارتی سامان کی ترسیل مقابلتاﹰ بہت آسان اور تیز رفتار ہو جائے گی۔ سی پیک کہلانے والے پاک چین اقتصادی راہداری منصوبے کی مجموعی مالیت بیسیوں ارب ڈالر بنتی ہے۔

م م / ع ب / ڈی پی اے

DW.COM