پاکستان میں ڈاکٹر روتھ فاؤ کے نام پر یادگاری سکّہ جاری | وجود زن | DW | 09.05.2018
  1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages
اشتہار

وجود زن

پاکستان میں ڈاکٹر روتھ فاؤ کے نام پر یادگاری سکّہ جاری

پاکستان کے اسٹیٹ بینک نے  جذام کے مرض میں مبتلا افراد کے لیے اپنی زندگی وقف کر دینے والی جرمن ڈاکٹر روتھ فاؤ کی خدمات کا اعتراف کرتے ہوئے اُن کے نام پر پچاس روپے کا خصوصی سکّہ جاری کیا ہے۔

اسٹیٹ بینک آف پاکستان کراچی میں منعقد ایک تقریب میں گورنر اسٹیٹ بینک طارق باجوہ اور پاکستان میں تعینات جرمن سفیر مارٹن کوبلر نے سکّے کے اجراء کا اعلان کیا۔ اس موقع پر گورنر اسٹیٹ بینک  نے کہا کہ روتھ فاؤ نے اپنی زندگی جذام کے مرض میں مبتلا افراد کے لیے وقف کر دی تھی اور ان کی کوششوں کی وجہ سے پاکستان اس مرض پر قابو پانے میں کامیاب ہوا تھا۔ اُنہوں نے مزید کہا،’’ پاکستان کی حکومت اور عوام نے ڈاکٹر روتھ فاؤ کی زندگی میں ان کی خدمات کا اعتراف کیا۔ انہیں ہلال امتیاز، نشان قائد اعظم اور ہلال پاکستان جیسے اعزازات سے نوازا گیا۔‘‘

 طارق باجوہ کا یہ بھی کہنا تھا کہ کسی شخص کے نام پر یادگاری سکّہ جاری کرنا بہت ہی نایاب خراج عقیدت ہے۔ ماضی میں قائداعظم، علامہ محمد اقبال، فاطمہ جناح اور عبدالستار ایدھی جیسی شخصیات کے ناموں پر سکّے جاری کیے جا چکے ہیں۔

جرمن سفیر مارٹن کوبلر نے بھی ڈاکٹر فاؤ کی خدمات کا اعتراف کیا اور انہیں خراج عقیدت دینے پر اسٹیٹ بینک آف پاکستان کا شکریہ ادا کیا۔ کوبلر کا کہنا تھا کہ ڈاکٹر فاؤ حقیقی معنوں میں جرمن سفیر تھیں اور دونوں ممالک میں رابطے کا بہترین ذریعہ تھیں۔

Dr. Ruth Pfau, Lepra-Ärztin (DAHW/Meyer-Porzky)

سکّے کی ایک جانب ڈاکٹر روتھ فاؤ کا خاکہ بنایا گیا ہے

 پاکستان کے سرکاری مالیاتی ادارے کی جانب سے جاری پریس ریلیز میں لکھا گیا ہے کہ اس یادگاری سکّے میں 75 فیصد تانبا اور 25 فیصد نکل شامل ہے۔ سکّے کا کل وزن 13.5 گرام ہے۔ سکّے کی ایک جانب ڈاکٹر روتھ فاؤ کا خاکہ بنایا گیا ہے اور ان کا نام ڈاکٹر روتھ فاؤ لکھا ہوا ہے۔ اور ان کی زندگی کا عرصہ 2017-1929  درج ہے۔