پاکستان میں چرس پینے کا حیرت انگیز رجحان | معاشرہ | DW | 18.12.2017
  1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

معاشرہ

پاکستان میں چرس پینے کا حیرت انگیز رجحان

یہ حیران کن ہے کہ کئی پاکستانی خاص طور پر بھنگ کا استعمال کھلے عام کرتے ہیں۔ اس کے علاوہ قبائلی پٹی میں اگائے جانے والے ایک پودے سے حاصل ہونے والی حشیش یا چرس بھی استعمال کی جاتی ہے۔

اس تناظر میں نیاز علی کو لیتے ہیں، وہ نہایت مذہبی رجحان رکھنے والے انسان ہونے کے علاوہ پانچوں وقت کی نماز باقاعدگی سے ادا کرتے ہیں، لیکن اس کے ساتھ ہی وہ چرس کا نشہ بھی کثرت سے کرتے ہیں ۔ 50 سالہ ٹیکسی ڈرائیور نیاز علی ، اپنی کمائی کا اندازاً 30 فیصد حصہ اس شوق کی نظر کر دیتے ہیں۔

پاکستان کے مذہبی حلقوں کے مطابق دین میں نشے کی ممانعت ہے۔ اس حقیقت سے آگہی رکھنے کے باوجود نو بچوں کی کفالت کرنے والے نیاز علی کو چرس پینے کا شوق دوستوں کے ساتھ کبھی کبھار کش لگانے سے شروع ہوا تھا۔ اب وہ پوری طرح اس نشے کی لت میں مبتلا ہو چکا ہے۔

چرس سے بھرے حقے کے کش لیتے ہوئے نیاز علی نے یہ تو تسلیم کیا کہ اس کا نشہ ان کے عقیدے میں حرام مانا جاتا ہے لیکن وہ اس کے فواائد پر بھی زیادہ زور دیتے ہیں۔ وہ کہتے ہیں، " یہ حرام ہے لیکن اس کے نشے سے کسی دوسرے کو کوئی نقصان نہیں پہنچتا۔"

Peshawar - Drug and Heroin addicts (DW)

پاکستانی معاشرے میں مسلمانوں کے لیے شراب کا حصول اور پینے پر سخت پابندی عائد ہے

اقوام متحدہ کی سن 2013 میں جاری کی گئی ایک سروے رپورٹ کے مطابق پاکستان میں سب سے زیادہ جو نشہ استعمال کیا جاتا ہے وہ چرس ہے۔ اس کو استعمال کرنے والوں کی تعداد چار ملین کے قریب ہے جو مجموعی آبادی کا 3.6 فیصد حصہ ہے۔

 پاکستان کے طبی و سماجی حلقے اس رپورٹ کے اعداد وشمار پر شکوک کا اظہار کرتے ہیں۔ پشاور میں نشے کی لت میں مبتلا افراد کے علاج کے لیے قائم غیر سرکاری تنظیم دوست فاؤنڈیشن کی صدر ڈاکٹر پروین اعظم کے مطابق یہ تعداد اندازوں سے بہت کم ہے۔

Drogenabhängige in Pakistan (Behrouz Mehri/AFP/Getty Images)

پاکستان میں سب سے زیادہ جو نشہ استعمال کیا جاتا ہے وہ چرس ہے

 پشاور کی ایک مقامی مسجد کے خطیب مولانا محمد طیب قریشی کہتے ہیں کہ ایسا کوئی بھی نشہ جو مخمور کر دے یا پھر جس کے استعمال سے جسمانی نقصان پہنچنے کا اندیشہ ہو، اسلام کی روح سے ممنوع ہے۔ مولانا کے مطابق ملک میں اس لت کے پھیلنے کی وجہ قانون نافذ کرنے والے اداروں کی نا اہلی ہے۔            

منشیات کے نتیجے میں بڑھتی اموات پر تشویش، نئی یورپی رپورٹ

قدامت پسند پاکستانی معاشرے میں مسلمانوں کے لیے شراب کا حصول اور پینے پر سخت پابندی عائد ہے۔ دوسری جانب یہ تاثر بھی ہے کہ اِس کے شوقین حضرات بند دروازوں کے پیچھے لطف اندوز ہوتے رہتے ہیں۔ ایسا تاثر بھی ملتا ہے کہ انتہائی سختی سے اسلامی عقائد پر عمل کرنے والے کئی افراد ایک طرف الکوحل کے استعمال کے سخت خلاف ہیں لیکن دوسری جانب چرس اور بھنگ کے سرور کو کھانے کے ذائقے میں زیادہ لذت اور عمدہ نیند کے طور پر لیتے ہیں۔

ویڈیو دیکھیے 02:31
Now live
02:31 منٹ

ہیروئن کا بڑھتا ہوا استعمال اور پنجاب کی ’گمشدہ نسل‘

DW.COM

Audios and videos on the topic

اشتہار