پاکستان میں ویڈیو اور آڈیو لیکس کی تاریخ | حالات حاضرہ | DW | 08.07.2019
  1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages
اشتہار

حالات حاضرہ

پاکستان میں ویڈیو اور آڈیو لیکس کی تاریخ

احتساب عدالت کے جج ارشد ملک کی ویڈیو کے منظرِ عام پر آنے سے پاکستان کے سیاسی و عوامی حلقوں میں ہلچل مچ گئی ہے لیکن ملک کی سیاسی تاریخ میں یہ پہلا واقعہ نہیں ہے کہ اس طرح کی کوئی ویڈیو لیک ہوئی ہو۔

ملکی تاریخ میں اس سے پہلے بھی آڈیو اور ویڈیو لیک ہوتی رہی ہیں۔ نواز شریف کے دوسرے دورے حکومت میں احتساب کرنے والے ادارے کے سربراہ سینیٹر سیف الرحمان کی وہ آڈیو کافی مشہور ہوئی جس میں احتساب عدالت کے جج مسلم لیگ ن کے رہنما سیف الرحمان سے مشورہ مانگ رہے ہیں کہ وہ بے نظیر اور زرداری کو کتنی سزا دیں؟

 آڈیو میں سیف الرحمان ملک محمد قیوم سے، جو اس وقت لاہور ہائی کورٹ کے جج تھے، سے ناراضی سے کہتے ہیں کہ مجھے تم سے لڑائی کرنی ہے، جس کے جواب میں ملک قیوم کہتے ہیں کہ آج آپ کے سارے گلے دور ہو جائیں اور نواز شریف بھی خوش ہو جائیں گے۔ سیف الرحمان ضد کرتے ہیں کہ فیصلہ آج ہی کیا جائے لیکن ملک قیوم تھوڑا انتظار کا کہتے ہیں۔ جب سیف الرحمان بہت زیادہ زور دیتے ہیں تو ملک قیوم کل فیصلہ کرنے کا کہتے ہیں اور کہتے ہیں کہ پھر وہ دونوں (بے نظیر اور زرداری) نواز شریف سے معافی بھی مانگ لیں گے۔

سیف الرحمان کہتے ہیں کہ ملک قیوم سو فیصد کنفرم کریں کہ فیصلہ ہو جائے گا۔ جس کے جواب میں ملک قیوم کہتے ہیں کہ انہیں ننانوے فیصد یقین ہے کہ فیصلہ ہو جائے گا۔ سیف الرحمان کہتے ہیں جو ایک پرسنٹ کے بات آپ کر رہے ہیں، اس کو بھی یقینی بنائیں۔ پھر ملک قیوم پوچھتے ہیں کہ سزا کتنی دینی ہے۔ سیف الرحمان سات برس کی سزا دینے کی ضد کرتے ہیں اور ملک قیوم پانچ برس کی ضد پر اڑے رہتے ہیں۔ سیف الرحمان کہتے ہیں کہ وہ نواز شریف سے پوچھ کر بتائیں گے کہ کتنی سزا دینی ہے۔ ملک قیوم ان پر واضح کرتے ہیں کہ زیادہ سے زیادہ سزا سات برس کی ہے اور کم سے کم پانچ برس کی لیکن سب سے زیادہ والی سزا کوئی نہیں دیتا۔

اس آڈیو لیک نے اس وقت کے سیاسی حلقوں میں ہلچل مچا دی تھی اور اس کی وجہ سے آصف علی زرداری پر جھوٹے مقدمات بنانے کا تاثر بھی قائم ہوا تھا۔

نواز شریف کے ہی دوسرے دورے حکومت میں جنگ گروپ اور نواز حکومت میں تعلقات خراب ہوئے۔ جنگ گروپ نواز شریف کے شریعت بل کی مخالفت کر رہا تھا جب کہ کراچی کی صورتِ حال پر بھی اخبار کی پالیسی حکومت پر تنقید کرنے کی تھی۔ جنگ گروپ کے مالک میر شکیل الرحمان نے کراچی پریس کلب میں منعقدہ ایک پریس کانفرنس میں وہ آڈیو چلائی تھی، جس میں سینیٹر سیف الرحمان ان کوحکومت کی حمایت کرنے کے لئے کہہ رہے ہیں اور دھمکی دے رہے ہیں کہ اگر جنگ گروپ نے ایسا نہیں کیا تو (سیف الرحمان) کو دوائی دینی آتی ہے۔

اکیس نومبر دو ہزار سات کو ایک صحافی ملک محمد قیوم سے انٹرویو لینے گیا اور اس دوران کسی اجنبی بندے کی کال ملک قیوم کے پاس آئی۔ ملک قیوم اس وقت مشرف کے اٹارنی جنرل تھے اور اس کال میں انہوں نے مبینہ طور پر آنے والے عام انتخابات میں دھاندلی کے حوالے سے بات چیت کی۔ یہ انٹرویو بے نظیر بھٹو کی ہلاکت سے پانچ ہفتے پہلے ہوا اور الیکشن کیمشن انتخابات کے شیڈول کا اعلان بھی کر چکا تھا۔ اس آڈیوکو ہیومن رائٹس واچ نے اٹھارہ فروری دو ہزار آٹھ کو جاری کیا۔ ملک قیوم نے اس کو جعلی قرار دیا۔

دو ہزار چودہ کے دھرنے کے دوران پی ٹی آئی رہنما عارف علوی اور پارٹی چیئرمین عمران خان کے درمیان ہونے والی ایک فون کال کی آڈیو آئی، جس میں عارف علوی یہ کہتے ہوئے سنائی دیے کہ وہ الطاف حسین کی کال کا رات دو ڈھائی بجے تک انتظار کرتے رہے لیکن انہوں نے کال نہیں کی۔ عمران خان انہیں پھر کال کرنے کا مشورہ دیتے ہیں۔ اسی آڈیو میں عارف علوی عمران خان کو بتاتے ہیں کہ پی ٹی وی میں دھرنے کے احتجاجیوں کے داخلے کے بعد نشریات بھی بند ہو گئی ہیں۔ عمران خان اس بات کو سراہتے ہیں اور انگریزی میں کہتے ہیں کہ ہمیں نواز کو استعفیٰ دینے پر مجبور کرنا ہے۔ عمران کو کہتے ہوئے سنا جا سکتے کہ بصورت دیگر نواز استعفیٰ نہیں دے گا۔ ''کل یہ (نواز شریف) مشترکہ اجلاس کرنا چاہتا ہے اور میں چاہتا ہوں کہ یہ اس سے پہلے استعفیٰ دے۔‘‘ پی ٹی آئی نے پہلے اس آڈیو کو جعلی کہہ کر مسترد کیا اور بعد میں کہا کہ کسی کے فون ٹیپ کرنا اچھی بات نہیں اور یہ غیر قانونی ہے۔ ایم کیو ایم کے سابق رکن اسمبلی علی رضا عابدی نے بھی اس طرح کی گفتگو سے متعلق کئی انکشافات اپنی ٹوئیٹس میں کئے تھے۔ جو دو اکتوبر دو ہزار اٹھارہ کو سوشل میڈیا پر منظرِ عام پر آئیں۔ عابدی نے اس میں شکوہ کیا تھا کہ کیونکہ ایم کیو ایم نے دھرنے کا ساتھ نہیں دیا۔ اس لئے ایم کیو ایم کو بعد میں سزا دی گئی۔

پی ٹی آئی اور ایم کیو ایم کے درمیان سرد جنگ کچھ برسوں قبل چل رہی تھی۔ اسی دوران سوشل میڈیا پر مبینہ طور پر ایم کیو ایم کی طرف سے ایک وڈیو اپ لوڈ کی گئی، جس میں عمران خان کچھ ساتھیوں کے ساتھ بیٹھے ہیں اور پاکستانی جنرلوں کے لئے انتہائی نا زیبا زبان استعمال کر رہے ہیں۔ نواز شریف کے گزشتہ دور حکومت میں پنجاب کے وزیرِ تعلم رانا مشہود کی وڈیو چینل پر چلائی گئی جس میں وہ مبینہ طور پر رشوت کا مطالبہ کر رہے ہیں۔ اس معاملے کی بھی بہت زیادہ انکوائری نہیں ہوئی۔

حالیہ ہفتوں میں نیب کے چیئرمین جسٹس جاوید اقبال کی بھی ایک ویڈیو منظرِ عام پر آئی، جس میں وہ ایک خاتون سے 'غیر اخلاقی‘  گفتگو کر رہے ہیں۔

اس طرح کی ویڈیو اور آڈیو لیکس صرف سیاست دانوں کی ہی نہیں آئیں بلکہ صحافیوں اور شوبز کی کچھ شخصیات کی بھی ایسی ہی لیکس منظرِ عام پر آئیں۔

معروف اینکر عامر لیاقت حسین کی لیکڈ وڈیو نے بہت دھوم مچائی، جس میں وہ ایک مذہبی پروگرام کی ریکاڈنگ کے دوارن فحش گالیا ں دے رہے ہیں۔ معروف صحافی حسن نثار کی بھی ویڈیو کچھ عرصے پہلے سامنے آئی جس میں وہ مبینہ طور پر اپنی ایک ساتھی خاتون اینکر کے خلاف انتہائی نازیبا زبان استعمال کر رہے ہیں۔

مختلف سیاسی جماعتوں اور تنظیموں نے بھی ویڈیو لیکس کو اپنے حق میں استعمال کرنے کی کوشش کی۔ جیسا کہ پی ٹی ایم کے حمایتیوں نے حالیہ مہینوں میں کئی ویڈیوز اپ لوڈ کیں، جن میں پاکستانی فوج اور طالبان جنگجووں کے درمیان تعلق کو ثابت کرنے کی کوشش کی گئی۔

صحافی مہر بخاری اور مبشر لقمان کی بھی کچھ عرصے پہلے ایک ویڈیو منظر عام پر آئی تھی، جس میں وہ بحریہ ٹاؤن کے مالک ملک ریاض کو انٹرویو کے سوالات اور طریقہ کار سے آگاہ کر رہے ہیں۔

DW.COM