پاکستان میں ووٹروں کا قومی دن | حالات حاضرہ | DW | 17.10.2012
  1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

پاکستان میں ووٹروں کا قومی دن

آج بدھ کو پاکستان میں پہلی مرتبہ ووٹروں کا قومی دن منایا جا رہا ہے۔ اس موقع پر ملک بھرمیں واک، ریلیوں اور سیمیناروں کا اہتمام کیا گیا۔

default

اس دن کا بنیادی مقصد شہریوں میں ووٹ ڈالنے کی اہمیت اجاگر کرنا اور انہیں ووٹ بنوانے اور درست طریقے سے استعمال کرنے کی ترغیب دینا ہے۔

ڈوئچے ویلے سے گفتگو کرتے ہوئےپاکستان انسٹی ٹیوٹ آف لیجیسلیٹوڈیویلپمنٹ اینڈ ٹرانسپیرنسی کے ایگزیکٹو ڈائریکٹر احمد بلال محبوب کا کہنا تھا کہ پورے جنوبی ایشیا میں ووٹ ڈالنے کی شرح پاکستان میں سب سے کم ہے۔ ان کے مطابق اس حساب سے پاکستان دنیا کےایک سو چونسٹھ ملکوں میں نیچے سے چوتھے نمبر پر ہے۔ وہ بتاتے ہیں کہ گذشتہ انتخابات میں ووٹ ڈالنے کی اوسط شرح چوالیس فی صد کے قریب رہی۔

ایک سوال کے جواب میں ان کا کہنا تھا کہ پاکستان میں ووٹ ڈالنے کی کم شرح کی وجوہات میں ووٹروں کا انتخابی نظام پر اعتماد کا پختہ نہ ہونا اور ووٹروں میں اپنے ووٹ کی اہمیت کا احساس نہ ہونا شامل ہیں۔

پورے جنوبی ایشیا میں ووٹ ڈالنے کی شرح پاکستان میں سب سے کم ہے

پورے جنوبی ایشیا میں ووٹ ڈالنے کی شرح پاکستان میں سب سے کم ہے

مبصرین کے مطابق ملک میں پہلی مرتبہ نوجوان ووٹرز کروڑوں کی تعداد میں انتخابی عمل میں شامل ہو رہے ہیں۔ پہلی مرتبہ اپوزیشن کے مشورے سے ایک غیر جانب دار الیکشن کمشنر کا تقرر ہوا ہے۔ چونکہ سیاسی جماعتیں بھی پہلی مرتبہ رائے دہندگان کے ووٹ بنوانے کے لیے مہم چلا رہی ہیں، اس لیے آئندہ انتخابات میں ماضی کی نسبت بہتر ٹرن آؤٹ کی توقع کی جا رہی ہے۔

ادارہ استحکام شرکتی ترقی پنجاب کے سربراہ سلمان عابد نے بتایا کہ پاکستان میں سیاسی بنیادوں کی بجائے مذہبی اور علاقائی وابستگیوں کے ساتھ ساتھ ذات برادری کی بنیاد پر بھی ووٹ ڈالے جاتے رہے ہیں۔ یہاں ووٹوں کی خرید و فروخت کی اطلاعات بھی ملتی رہی ہیں۔ اس کے علاوہ کوہستان، مردان، میانوالی اور کوہاٹ سمیت ملک کے کئی علاقے ایسے ہیں، جہاں عورتوں کو ووٹ ڈالنے کی اجازت ہی نہیں ہے۔

شہری سیاست میں تشدد، اسلحے اور مافیاز کے در آنے سے بھی بعض علاقوں میں لوگ خوف کی وجہ سے اپنے ووٹ کا استعمال آزادانہ طور پر کرنے میں دقت محسوس کرتے ہیں۔ سلمان عابد کی رائے میں لوگ جب تک روایتی طرز عمل چھوڑ کر اپنے ووٹ کا درست استعمال نہیں کریں گے، ملکی نظام میں تبدیلی نہیں آ سکے گی۔

میانوالی سے تعلق رکھنے والے ایک سماجی کارکن محمد رفیق نے بتایا کہ اس ضلع کے علاقے پائی خیل میں خواتین ووٹروں کی شرح ہمیشہ صفر رہی ہے۔ کوئی پینسٹھ سال پہلے یہاں کے بزرگوں نے علاقائی روایات کی وجہ سے خواتین کے ووٹ ڈالنے پر پابندی لگائی تھی، جو کہ آج بھی قائم ہے۔ مزید یہ کہ پاکستان کی تمام سیاسی اور مذہبی جماعتوں نے بھی اپنے سیاسی مفادات کی خاطر اسے خاموشی سے قبول کر رکھا ہے۔

’’لوگ جب تک روایتی طرز عمل چھوڑ کر اپنے ووٹ کا درست استعمال نہیں کریں گے، ملکی نظام میں تبدیلی نہیں آ سکے گی‘‘

’’لوگ جب تک روایتی طرز عمل چھوڑ کر اپنے ووٹ کا درست استعمال نہیں کریں گے، ملکی نظام میں تبدیلی نہیں آ سکے گی‘‘

اسی شہر کی شمشاد گل نے بتایا کہ بڑے شہروں اور قصبوں میں اب صورت حال بہتر ہو رہی ہے اور لوگ اپنا ووٹ سوچ سمجھ کر استعمال کرنے کے حوالے سے بات کرنے لگے ہیں۔

فری اینڈ فیئر الیکشن نیٹ ورک کے زاہد اسلام نے بتایا کہ ان کی غیر سرکاری تنظیم کے رضاکار لوگوں کے شناختی کارڈز بنوانے اور ان کے ووٹوں کے اندراج کے حوالے سے ان کی مدد کر رہے ہیں۔

پاکستان کے ایک بزرگ سیاسی کارکن قیوم نظامی نے جاگو تحریک شروع کر رکھی ہے۔ اس پلیٹ فارم سے وہ لوگوں سے اپیل کر رہے ہیں کہ وہ آنے والے انتخابات میں اپنے ووٹ کا استعمال روایتی تعصبات سے بالا تر ہو کے صرف پاکستان کے لیے کریں اور اعلان کر دیں کہ وہ کسی بدمعاش یا بد دیانت شخص کو ووٹ نہیں دیں گے۔ ان کے بقول اس طرح سیاسی جماعتوں پر بھی دباؤ بڑھے گا کہ وہ اچھے امیدواروں کو ہی ٹکٹ دیں۔

رپورٹ: تنویر شہزاد، لاہور

ادارت: امجد علی

اشتہار