پاکستان میں مذہب پسند حلقوں سے متعلق عدم اعتماد بڑھتا ہوا | معاشرہ | DW | 27.03.2020
  1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages
اشتہار

معاشرہ

پاکستان میں مذہب پسند حلقوں سے متعلق عدم اعتماد بڑھتا ہوا

پاکستان میں کئی مذہبی حلقے ایسے ہیں، جو کورونا وائرس کی تیزی سے پھیلتی ہوئی وبا کے پیش نظر دوسرے لوگوں سے سماجی فاصلہ رکھنے کی پابندی پر سختی سے عمل درآمد ہوتا نہیں دیکھنا چاہتے۔

اس وجہ سے معاشرے کے کئی حلقوں میں ایسے مذہبی عناصر کے خلاف غصہ بڑھتا جا رہا ہے۔ یہ حلقے یہ الزام بھی لگاتے ہیں کہ ملک میں کورونا وائرس مذہب پسندوں کی اسی غیر لچک دار سوچ کی وجہ سے پھیل رہا ہے۔ کئی حکومتی حلقے بھی مذہبی طبقات کے اس موقف پر ناراض ہیں، جس میں جمعے کی نماز باجماعت پڑھنے پر پابندی کی مخالفت کی جا رہی ہے۔ ابھی حال میں پچاس کے قریب مذہبی رہنماؤں نے کراچی میں اس بات کا اعلان کیا تھا کہ نماز جمعہ باجماعت ہی ادا کی جائے گی جب کہ مصر کی جامعہ الازہر نے بھی یہ فتویٰ دے دیا ہے کہ ریاست کو یہ اختیار حاصل ہے کہ وہ نماز جمعہ کے اجتماعات پر پابندی لگا دے۔ اس بارے میں وفاقی وزیر برائے سائنس اور ٹیکنالوجی فواد چوہدری نے اپنی ایک ٹویٹ میں مذہبی طبقات کو سخت تنقید کا نشانہ بنایا اور کہا کہ 'پہلے انہوں نے یہ وائرس پھیلایا اور اب وہ اسے خدا کا عذاب قرار دے رہے ہیں‘۔

یہ عوامی غصہ ایک ایسے وقت پر سامنے آیا ہے جب صدر مملکت عارف علوی کی زیر صدارت علماء کا ایک اجلاس ویڈیو کانفرن کے ذریعے کل جمعرات کے روز ہوا، جس میں حکومت کو اس بات کا اختیار دیا گیا تھا کہ وہ اگر چاہے تو ملک میں نماز جمعہ کے اجتماعات پر پابندی لگا دے۔ اس اجلاس کے بعد حکومت نے کل جمعرات کی شام تک یہ فیصلہ نہیں کیا تھا کہ آیا آج نماز جمعہ کی جماعتوں پر پابندی لگا دی جائے گی۔

کئی ناقدین کا کہنا ہے کہ یہ پابندی بہت پہلے ہی لگا دی جانا چاہیے تھی اور اب اس میں بہت تاخیر ہو چکی ہے۔ کئی ناقدین کے مطابق مذہبی طبقات کی رجعت پسندی کی وجہ سے ہی ملک میں کورونا وائرس کی صورت حال سنگین ہوئی ہے۔ نیشنل پارٹی کے مرکزی رہنما سینیٹر اکرم بلوچ کے مطابق پاکستان میں کورونا وائرس کا پہلا کیس ایران سے آیا تھا، ''اگر مذہبی حلقے لوگوں کو زیارتوں کے لیے ایران نہ بھیجتے، تو آج ہماری یہ حالت نہ ہوتی۔ بلوچستان میں زیادہ تر کسیز اسی وجہ سے دیکھنے میں آئے ہیں۔‘‘

سینیٹر اکرم بلوچ کے مطابق تبلیغی جماعت کے اجتماعات نے بھی ان واقعات میں اضافہ کیا ہے، ''جب ہزارہا کی تعداد میں لوگ جمع ہوں گے، تو وائرس کے پھیلنے کا خدشہ بھی بڑھے گا۔ یقیناﹰ ایسے اجتماعات سے کورونا پھیلا ہے۔ اگر یہ اجتماعات جاری رہے، تو معاملات مزید بگڑ سکتے ہیں۔‘‘

اس بارے میں مفتی نعیم نے ڈی ڈبلیو کو بتایا، ''ہم نے کہا ہے کہ لوگ گھروں سے وضو کر کے آئیں اور بزرگ شہری مساجد میں نہ آئیں۔ اس کے علاوہ علماء اپنے خطبے بھی مختصر کر دیں۔‘‘

لاہور سے تعلق رکھنے والے تجزیہ نگار فاروق طارق کا کہنا ہے کہ مذہبی شخصیات عوام کی جانوں سے کھیلنے کی کوشش کر رہی ہیں، ''یہ بیماری مسلمانوں اور غیر مسلموں سب کو لگ رہی ہے۔ سماجی فاصلہ بہت ضروری ہے اور باجماعت نماز میں یہ ممکن نہیں۔ دنیا کے کئی مسلم ممالک نے با جماعت نمازوں اور جمعے کی اجتماعی نمازوں پر پابندی لگا دی ہے۔ لیکن پاکستانی مولوی حضرات کچھ زیادہ ہی جوشیلے بنے ہوئے ہیں۔‘‘ انہوں نے زور دے کر کہا کہ حکومت قانون کی عمل داری اور عوام کے جانی تحفط کو یقینی بنائے۔